روس میں شراب کے اشتہارات پر پابندی عائد

روس میں شراب کے اشتہارات پر پابندی عائد

  

نئی دہلی (اے پی پی) روس میں شراب کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ یہ پابندی روس میں حد سے زیادہ شراب نوشی کے مسئلے پر قابو پانے کی مہم کا حصہ ہے۔اس پابندی کے بعد ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ، پبلک ٹرانسپورٹ جیسی عوامی جگہوں پر شراب کے اشتہارات نہیں لگائے جا سکیں گے۔ یکم جنوری سے یہ پابندی پرنٹ میڈیا پر بھی عائد ہوگی۔ رشیئن یونین آف الکوحل پروڈیوسرز کے چیئرمین دیمتری دوبروف نے بتایا کہ اس پابندی کا قانونی طور پر شراب بنانے والوں پر تو اثر پڑے گا تاہم غیر قانونی طور پر شراب کی خرید و فروخت کرنے والے تاجروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت یہ واضح نہیں کہ اس پابندی کو انٹرنیٹ پر کس طرح لاگو کیا جائے گا کیونکہ کمپنیاں روس سے باہر سرورز کے ذریعے بھی اشتہارات لگا سکتیں ہیں۔تاہم انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف کنزیومر سوسائٹیز کے سربراہ دیمیتری یانن نے اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ضروری قدم قرار دیا۔ روس میں شراب نوشی کی شرح عالمی ادارہِ صحت کی مقررہ حد سے پہلے ہی دوگنی ہے۔روایتی طور پر روس میں ووڈکا کو پسند کیا جاتا ہے تاہم حالیہ سالوں میں بیئر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ۔ اس مقبولیت کے پیشِ نظر گزشتہ سال حکام نے بیئر کو بھی دیگر شراب کی اقسام میں ڈال دیا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -