تھانہ قلعہ گجر سنگھ کے سامنے ”پاکستان “ٹیم کی کھلی کچہری شہریوں کے پولیس کے خلاف شکایات کا انبار

تھانہ قلعہ گجر سنگھ کے سامنے ”پاکستان “ٹیم کی کھلی کچہری شہریوں کے پولیس کے ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) تھانہ قلعہ گجر سنگھ جس کا شمار شہر کے پرانے اور تاریخی تھانوں میں ہوتا ہے اس تھانے کی بلڈنگ میں انوسٹی گیشن پولیس کے ہیڈکوارٹر کو قائم کردیاگیا ہے جس سے تھانے آنے والے سائلین کو جہاں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں اس تھانے کی حدود میں ہونے والے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہوکر رہ گیا ہے اور اس تھانے میں نامور پولیس انسپکٹروں کی تعیناتی کے باوجود نہ تو جرائم میں کمی آسکی ہے ور اور اس تھانے کی حدود میں رہائش پذیر شہریوں کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیاجاسکتا ہے جس پر شہری اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار اور اس تھانے کی حدود میں پنجاب اسمبلی اور دیگر اہم دفاتر اور مقامات ہونے کے باوجود سیکیورٹی کے ناقص انتظامات نے اس تھانے کی پولیس پر ایک اور کاری ضرب لگا کر رکھ دی ہے پاکستان کی ٹیم نے اس تھانے کی حدود میں پنجاب اسمبلی، ڈیوٹی فری شاپس، واپڈا ہاﺅس جیسے اہم مقامات اور ہال روڈ سمیت اہم بازار اور مارکیٹوں میں ناقص سیکیورٹی اور بڑھتے ہوئے جرائم پر علاقے کا سروے اور تھانے کے سامنے شہریوں کے مسائل سنے تو تھانے آنے والے درجنوں شہری پولیس کے خلاف پھٹ پڑے۔ اس میں شہریوں کی زیادہ تر شکایات انوسٹی گیشن پولیس کے خلاف تھیں شہریوں کا کہنا تھا کہ مقدمات کے اندراج میں کامیابی حاصل کرلی بھی جائے تو انوسٹی گیشن پولیس کئی کئی ماہ تک تھانے کے چکر لگوانے کے باوجود ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام رہتی ہے اس موقع پر تھانے کی حوالات میں بند ای ملزم غلام حسین بھی انوسٹی گیشن پولیس کے خلاف پھٹ پڑا تھانے کی حوالات میں بند ملزم غلام حسین نے بتایا کہ پولیس نے اسے اراضی کے قبضہ میں غلط طور پر ملوث کررکھا ہے اور کئی دنوں سے حوالات کی زندگی گزار رہا ہوں رات کو پولیس اہلکار حوالات سے نکال کر ذہنی ٹارچر کانشانہ بناتے ہیں جبکہ اس موقع پر حوالات میں بند دیگر دو ملزمان نے بھی پولیس کے خلاف شکایتوں کے انبار لگادیئے اس موقع پر شہریوں صدیق احمد خان، الفت، اسرا احمد خان اور رفعت راجہ نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں پنجاب اسمبلی اور واپڈا ہاﺅس ، ریلوے ہیڈ کوارٹرز اور پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ پاکستان ٹیلی ویژن جیسے اہم دفاترز اور مقامات ہونے کے باوجود پولیس کی ناقص سیکیورٹی جبکہ ہال روڈ اور میکلوڈ روڈ جیسے اہم بازار اور مارکیٹوں کے باوجود پولیس کی نفری انتہائی کم ہے جس کے باعث اس تھانے کی حدود میں گزشتہ 50 سالوں میں جرائم میں کمی نہیں آئی ہے اور آبادی میں اضافہ کی نسبت اس تھانے کی حدود میں جرائم بڑھا ہے جس میں شہریوں سے لوٹ مار اور ڈکیتی کی ہونے والی بڑی بڑی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ راہزنی اور موٹرسائیکل چھیننے اور موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں بھی 50 سے 60 فیصد اضافہ ہوا ہے اس میں پولیس اول تو مقدمہ درج نہیں کرتی اور اگر مقدمہ درج کر بھی لیاجائے تو انوسٹی گیشن پولسی سٹی کئی ماہ تک چکر لگوانے کے باوجود ملزمان کا سراغ نہیں لگاتی اس موقع پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ ہال روڈ جو کہ ایشیا کی ایک بہت بڑی مارکیٹ اور بازار ہے اس مین نوسربازوں اور دھوکہ بازوں اور موٹرسائیکل چوروں نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے اور روزانہ چار سے پانچ افراد کو لوٹ لیاجاتا ہے جبکہ ہال روڈ یں آنے والے پردیسی شہری کو موٹرسائیکل سے محروم کرلیا جاتاہے اس موقع پر ہال روڈ کے تاجروں احسن ناز، حق نواز ، اسلم خان اور رشید خان نے بتایا کہ ہال روڈ اور اردگرد مارکیٹوں میں گزشتہ چند ماہ سے موٹرسائیکل کے ساتھ ساتھ کار چوری کی وارداتیں بھی بڑھ کر رہ گئی ہے اس موقع پر شہری احسن اختر نے بتایا کہ ڈاکوﺅں نے موٹرسائیکل جاتے ہوئے موبائل فون سیٹ اور نقدی چھین لی پولیس نے 10 ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی ہے اس موقع پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ انوسٹی گیشن پولیس ملز مان کا سراغ لگانے یا گرفتار کرنے کی بجائے ملزمان کو فون کرکے عبوری ضمانت کروانے کے مشورہ دے دیتی ہے جس میں شہری احسن ناز اور احسن اختر نے بتایا کہ کروڑوں کی جائیداد پرقبضہ کرلیاگیا پولیس نے 6 ماہ قبل مقدمہ درج کرلیا ملزمان گھروں سے رپوش ہوگئے اور تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے اور اب پولیس نے ایک ملزم سے رابطہ کیا اور عبوری ضمانت کروانے کا مشورہ دے دیا ہے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں پرس چھیننے کی وارداتیں زیادہ بڑھ کر رہ گئی ہیں اور پولیس کے چند اہلکار گشت کرتے نظرآتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں جرائم کی رفتار بڑھ کر رہ گئی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -