سستے رمضان بازاروں میں مہنگائی کے ڈیرے‘صارفین مایوس لوٹنے پر مجبور

سستے رمضان بازاروں میں مہنگائی کے ڈیرے‘صارفین مایوس لوٹنے پر مجبور

  

لاہور(وقائع نگار) ضلعی حکومت کے زیراہتمام ماہ رمضان میں عوام الناس کو ارزاں نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی کیلئے لگائے جانے والے سستے رمضان بازار آسماں سے باتیں کرتی مہنگائی اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان سے شہریوں کے لئے مہنگے بازار ثابت ہوچکے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے رمضان بازاروں کی تزئین وآرائش پر تو صرف کیے گئے ہیں تاہم عوام ریلیف سے دور میں حکومت کو چاہیے تھا کہ رمضان بازاروں کی نمودونمائش ہونے والی سبزیوں وپھلوں کی قیمتوں می مزید 50 فیصد تک سبسڈی دے دی جاتی۔ تو ماہ رمضان میں غریب وسفید پوش شہری حقیقی ریلیف سے ہمکنار ہوپاتے۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز کئے گئے شالامار رمضان بازار سروے میں شالا مار ٹاﺅن کی کاوشیں قابل ستائش تاہم صارفین مہنگائی کا رونا روتے ہوئے حکومت وقت کو کوستے رہے اور مطالبہ کیا کہ رمضان بازاروں میں مصنوعی مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرتے ہوئے اشیاءپر مزید سبسڈی دے۔ خریداری کرنے کی آئی ہوئی اقصیٰ‘ مقصودہ اور محمد ادریس نے کہا کہ یہاں پر اشیاءکی قیمتیں عام مارکیٹ سے قدرے اور کوالٹی بھی بہتر ہے۔ تاہم مہنگائی نے زندگی اس قدر اجیرن بنا چھوڑی ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کا گزارہ کرنا محال ہوگیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت سارا سال نئی بجٹ لاتی ہے۔ خدارا ماہ رمضان میں مہنگائی کا قلع قمع کرتے ہوئے بڑھنے والی قیمتوں کو کنٹرول کرے جس سے 15 کروڑ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ عروج اور عاصمہ رحمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لگائے جانیوالے رمضان بازاروں سے مستفید ہورہے ہیں جہاں پر اوپن مارکیٹ کی نسبت اشیاءکی قیمتیں کم اور کوالٹی تسلی بخش ہے جبکہ صفائی کے بہتر انتظامات اور ناپ تول میں پوری اشیاءصارفین کو مل رہی ہیں تاہم کہاں پر تمام تر انتظامات بہتر ہونے کے باوجود بیشتر سبزیاں غائب ہیں۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ رمضان بازاروں میں تمام سبزی پھلوں اور سبزیوں کے سٹالز لگائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو بھوک وننگ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فرزانہ‘ مختار شاہ‘ اور شائستہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رمضان بازاروں کا انعقاد محض عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے سجائے گئے۔نجمہ اور عقیل احمد نے کہا کہ رمضان بازاروں میں کوئی چیز سستی نہیں بس عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہ مغلپورہ سے 40 روپے کرایہ خرچ کرکے سستی اشیاءکی خریداری کیلئے آتے ہیں تاہم یہاں اگر مایوسی کا سامنا ہوا۔ ڈی سی اولاہور کو چاہیے کہ رمضان بازاروں میں چیک اینڈ بیلنس کیلئے چھاپے مار ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ شہری زیادہ سے زیادہ ریلیف سے ہمکنار ہوسکیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -