ایل ڈی اے کے لینڈرولز ناکام ایک لاکھ سے زائد کمرشل عمارتوں‘دکانوں کی قسمت کا فیصلہ نہ ہوسکا

ایل ڈی اے کے لینڈرولز ناکام ایک لاکھ سے زائد کمرشل عمارتوں‘دکانوں کی قسمت کا ...

  

لاہور (شہباز اکمل جندران) ایل ڈی اے کے لینڈ یوز رولز 2009ناکام ہوگئے ، شہر کی 16سٹرکوں پر واقع ایک لاکھ سے زیادہ کمرشل عمارتوں اوردکانوں کی قسمت کا فیصلہ نہ ہوسکا،اتھارٹی نے جولائی 2011میں شہر کی 58سٹرکوں کو کمرشل قرار دیا ،لیکن ملتان روڈ ، واحدت روڈ، رائیونڈ روڈ، کینال بینک روڈ، اور مین بلیوارڈ فیصل ٹاﺅن سمیت 16سڑکوں پر واقع ان دکانوں اور کمرشل عمارتوںکو کمرشل قرار نہ دیا ،جس نہ صرف اتھارٹی کو ریونیو کی مد میں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے بلکہ ایسی جائیدادوں کے مالکان بھی مشکلات کا شکار ہیں، اور ایل ڈی اے ان کی جائیدادوں کی خرید وفروخت میں رکاوٹ بن بیٹھی ہے، معلوم ہوا ہے کہ لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لینڈ یوز رولز 2009کے تحت شہر میں ابتدائی طورپر 61سٹرکیں چنیں ، جن میں سے 32سٹرکوں کو کمرشل قرار دیدیا گیا جبکہ 24سٹرکو ں کو رھائش ڈیکلئیر کیا گیا، بعد ازاںجولائی 2011میں ان سٹرکوں کی مجموعی تعداد کو بڑھایا گیااور تعداد 74کرتے ہوئے مزید 26سٹرکوں کوکمرشل قرارد یدیا گیا،اور طے پایا کہ باقی 16سٹرکوں کو کمرشل قرار نہیں دیا جائیگا اور انہیں FROZENرکھ اجائیگا ، البتہ ان فیصلہ کیا گیا کہ ان فروزن سٹرکوںپر واقع ایک لاکھ سے زائد دوکانوں اور کمرشل عمارتوں کی قسمت کا فیصلہ جلد کیا جائیگا، لیکن تاحال یہ فیصلہ نہیں ہوسکا ، اور اتھارٹی کے شعبہ ٹاﺅن پلاننگ (کمرشلائزیشن) کے عملے نے ان عمارتوں کو ناجائز آمدن کا ذریعہ بنا رکھا ہے یہ اہلکار رائیونڈ روڈ، کینال بینک روڈ( ہربنس پورہ تا،ٹھوکر نیاز بیک)خیابان جناح روڈ، ملتان روڈ،(یتیم خانہ تاٹھوکر نیاز بیک روڈ)، سبزہ زار مین بلیوارڈ روڈ، واحدت روڈ، خیابان فردوسی روڈ جوہر ٹاﺅن ، قاضی عیسیٰ روڈ ،فیصل ٹاﺅن ، فیصل ٹاﺅن میں بلیوارڈ روڈ، ٹاﺅن شپ قائداعظم ٹاﺅن و گرین ٹاﺅن کی تمام سڑکیں (سوائے المدینہ روڈ، پیکو روڈ، کالج روڈ)سدرن بائی پاس جوہر ٹاﺅن ، شاہ جیلانی روڈ، ظفر علی روڈ،و دیگر فروزن سٹرکوں پر واقع دکانوں اور کمرشل عمارتوں کے مالکان کو بلیک میل کرتے ہیں ، اورآئے روز ان کی جائیدادوں کے چالان کرتے ہیں اور جو لوگ چالان سے بچنا چاہتے ہوں ،انہیں ان اہلکاروں کے ساتھ ًماہانہ ً طے کرنا پڑتا ہے، ذرائع کے مطابق ان سٹرکو ں پر دکانوں اور عمارتوں کو کمرشل قرار نہ دیتے سے جہاں اتھارٹی کو اربوں روپے کے ریونیوخسارے کا سامنا ہے وہیں ان سٹرکوں پر واقع کمرشل جائیدادوں کے مالکان کو جائیداد کی خرید وفروخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی جائیداد کی خرید وفروخت میں ایل ڈی اے رکاوٹ بن کر سامنے آتی ہے کہ جب تک عمارت کی تعمیر نقشے کے مطابق نہیں ہوتی تب تک اتھارٹی کے ریکارڈ میں ٹرانسفر نہیں ہوسکتی، ا س سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے اتھارٹی کے ڈائریکٹر کمرشلائز یشن خالد محمود شیخ کا کہناتھا کہ 16سٹرکو ں پر واقع کمرشل جائیدادوں کی قسمت کا تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا ،البتہ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ آئیندہ ان فروزن سٹرکو ںپر کمرشل تعمیرات کو روکا جاسکے اور شعبہ کمرشلائز یشن اس سلسلے میں کامیاب بھی ہوا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -