لاہور کی 40کالونیوں پر اندھیروں کا راج ‘رات کو رونے کی آوازیں گونجنے لگیں

لاہور کی 40کالونیوں پر اندھیروں کا راج ‘رات کو رونے کی آوازیں گونجنے لگیں

  

  لاہور (ج الف) صوبائی دارلحکومت میں مختلف مقامات پر 40 کالونیاں ایسی ہیں جہاں رات کے وقت ہر دوسرے گھر سے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔ یہ آواز کسی جنات، بدروحیں چڑیلوں کی نہیں بلکہ ہر 10 منٹ بعد ایک گھنٹہ کے لیے غائب ہونے والی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ستائے ہوئے ان معصوم لاغر کمزور ضعیف خواتین و حضرات اور بیمار پرسوں کی ہیں جو اپنی زندگیاں ریلوے کو دے چکے ہیں۔یہ تنگ و تاریک ریلوے درجہ چہارم کے کواٹروں میں رہتے ہیں۔ یہ وہ کواٹرہیں جو برصغیر پاک و ہند میں جب انگریز حکمران تھے نے اپنے گھوڑوں کیلئے اسطبل بنائے بعد میں قیام پاکستان کے بعد ان کوارٹرز کی کالونیوں کو درجہ چہارم کے ملازمین کی رہائش گاہوں کیلئے سونپ دیا گیا۔ اب کچھ مہینوں سے ڈی ایس لاہور ڈویژن کے ماتحت درجہ چہارم کی کالونیوں میں ملک بھر کے دیہاتوں سے بھی زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ ہر ایک گھنٹہ میں 20 مرتبہ بجلی بند ہوتی ہے اور ہر آدھے گھنٹے بعد اس قدر بجلی غائب ہوتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ جس سے جہاں ہر گھرمیں حکومت اور ریلوے کے خلاف صفِ ماتم ہوتی ہے اور لوگ بددعائیں دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ کالونیاں ایسے ہیں جیسے بھوت بنگلے مگر بجلی ہے کہ 24 گھنٹوں میں 18 سے 20 گھنٹے بند رہتی ہے جس کے جانے سے پانی بھی غائب ہوجاتا ہے اور ہرکالونی کربلا کی یاد تازہ کرتی ہے۔ ریلوے لاہور ڈویژن کے زیر اہتمام صوبائی دارلحکومت میں درجہ چہارم کے ملازمین کی 40 رہائشی کالونیوں میں بجلی پانی بند رہنا معمول بن گیا ہے۔ ان 17 بدقسمت کالونیوں میں 18 سے 20 گھنٹے کی بجلی اور پانی کی بندش نے رہائشیوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا عالم یہ ہے کہ آدھے گھنٹے میں 7 سے 10 مرتبہ بجلی بند ہوتی ہے ایک ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا الگ سے سامنا ہے۔ گرمی کے اندر سو نہیں سکتے نہ کھل کر پانی پی سکتے ہیں۔ مذکورہ کالونیوں کے مرد کام پر چلے جاتے ہیں۔ شام تک خواتین قریبی پرائیویٹ آبادیوں سے پانی بھرنے میں دن گزار دیتی ہیں۔ اس صورتحال سے ان غریب مزدورں کی کالونیوں میں گھریلو لڑائی جھگڑوں، چڑچڑا پن اور نفسیاتی امراض میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کالونیوں میں رات کو گزر ہوتو بچوں کے رونے کی آوازیں آتیں اکثر سنائی دیتی ہیں۔ ہردوسرے گھر سے یہ آوازیں آتی ہیں۔ وجہ دریافت کریں تو مکین بتاتے ہیں باربار بجلی کی بندش سے مکینوں کی قیمتی الیکٹرونکس کی چیزیں فریج، پنکھے، استریاں جومکینوں کی اکثریت نے ماہانہ اقساط پرلے رکھی ہیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں جبکہ دن بھر ریلوے کی ورکشاپس اور دیگر دفاتر میں تھکے ماندے گھر آنے والے ریلوے مزدوروں کو رات کو تنگ و تاریک کواٹروں میں سونے کے لیے ایک گھنٹہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ بجلی نہ ہونے سے رات کو غریب مزدوروں کے بچے شدید گرمی میں سو نہیں سکتے۔ کواٹروں میں رہنے والوں کی اکثریت روزہ دار ہے اور روزہ میں وہ شدید پریشان ہیں کہ یہ لوڈشیڈنگ کا کمال ہے۔ شدید گرمی جس میں تنگ و تاریک کوارٹروں میں یہ بچے سو نہیں سکتے۔ اتنے تنگ و تاریک کواٹر ہیں کہ جب بجلی نہیں ہوتی کواٹروں کی چھتیں تو ٹینٹوں کی ہیں اس طرح تپتی ہیں کہ گویا لوہار کی بھٹی۔ اس سے بھی بڑھ کر بیماریاں عام ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -