ہارڈویئرکی عدم دستیابی پر اپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ کی کمپیوٹر ائزیشن میں رکاوٹ بن گئی

ہارڈویئرکی عدم دستیابی پر اپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ کی کمپیوٹر ائزیشن میں رکاوٹ ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) سافٹ وئیر کی تیار ی کے بعد ہارڈ وئیر کی عدم دستیابی صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن میں رکاوٹ بن گئی ہے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے 36اضلاع میں پراپرٹی ٹیکس کا ریکارڈ کمپیوٹرائز ڈ کرنے اور کمپوٹرخریدنے کےلئے سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال کردی ہے،معلوم ہوا ہے کہ صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈٰیپارٹمنٹ ، پی اینڈ ڈی اے کے شعبہ اربن یونٹ اور پی آر ایم پی نے سافٹ وئیر تیار کرلیا ہے جس کی ابتدائی طورپر سیالکوٹ میں آزمائش کی جارہی ہے، سیالکو ٹ میں ضلع کے تمام ٹیکس ایبل پراپرٹی یونٹوں کی خاطر PT-10 پر مشتمل ٹیکس ڈیمانڈ کے نوٹس نئے سافٹ وئیر پر تیار کرلئے گئے ہیں،لیکن فی الوقت کسی غلطی کے احتمال کے پیش نظر یہ کمپیوٹرائز ڈ ڈیمانڈ نوٹس ارسال نہیں کئے جارہے، بلکہ ڈیمانڈ نوٹسوںکا انسپکٹروں کے مینوئل ریکارڈ سے تقابلی جائز ہ لیاجارہا ہے، ذرائع کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ ، صوبے بھر میں پراپرٹی ٹیکس کے تمام 32لاکھ پراپرٹی یونٹوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنا چاہتا ہے،لیکن اس سلسلے میں ہارڈ وئیر دستیاب نہیں ہے، اور محکمے کی طرف سے ایک سمری وزیر اعلیٰ پنجاب اور شعبہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو ارسال کردی گئی ہے جس میں صوبے کے 36اضلاع میں کمپیوٹرز کی ڈیمانڈ بیان کی گئی ہے تاکہ صوبے بھر میں پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے تمام تر ریکارڈ کمپیوٹرائز ڈ کیا جاسکے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں اپنے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے لئے 3لاکھ ڈیٹا انٹری فارم اپنے پراپرٹی ٹیکس یا فیلڈ انسپکٹروں میں تقسیم کردیئے ہیں،جن میں کسی بھی جائیداد کے کل رقبے کے علاوہ ،مالک یا کرایہ دار کا نام درج ہوگا، جائیداد کے تعمیر شدہ رقبے ، جائیداد کی منزلوں اور اوپن ایریا کا ذکر موجود ہے، لیکن کمپیوٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کا یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے لگا ہے، اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ،محکمے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ صوبے بھر میں پراپرٹی ٹیکس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے کمپیوٹردرکار ہیں اور اس حوالے سے سمری وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسا ل کردی گئی ہے، ترجمان کا کہناتھا کہ فوری طورپر صوبے کے تمام 36اضلاع کے لئے کمپیوٹروں کی خریداریم ممکن نہ بھی ہوتو بھی 12اضلاع کے لئے کمپیوٹر ضرور فراہم کئے جائیں۔

مزید :

صفحہ آخر -