چیف جسٹس نے توہین عدالت قانون کو آئین سے متصادم قرار دیکر حکومتی علم کی قلعی کھول دی

چیف جسٹس نے توہین عدالت قانون کو آئین سے متصادم قرار دیکر حکومتی علم کی قلعی ...

  

اسلام آباد(اخترصدیقی سے ) چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے توہین عدالت قانو ن کوآئین کے آرٹیکل 63(۱)جی سے متصادم ہونے کاذکرکرکے بل منظور کرانے والی حکومت کے علم کی قلعی کھول دی ،بل ڈرافٹ کرنے والے نے کافی غلطیاں کی ہیں جس سے مشرف حکومت کی طرح سے اس حکومت کی نااہلی بھی کھل کرسامنے آگئی ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے توبرملا کہ دیاکہ عدلیہ کے اختیارات کے حوالے سے کسی نے آج تک آئین کو صحیح طریقے سے پڑھاہی نہیں ،قانون سازی کرنے والے عدلیہ اختیارات کو ایک سطحی ساتصور کرلیتے ہیں حالانکہ آئین کی پوری دستاویز ایک اہم دستاویز ہے جس کو روزپڑھنا چاہیے وکلاءدرست کر رہے ہیں حکومت کے پاس اس وقت اور کوئی محاذ نہیں ہے وہ صرف اور صرف عدلیہ کو ہی اپنا مخالف تصور کررہے ہیں کیس کی سماعت کے دوران لیاقت علی قریشی ایڈووکیٹ نے ایک اہم بات کی جانب عدلیہ کی توجہ مبذول کرائی کہ کہیں صدر مخالف عناصر نے عدلیہ کے ساتھ مخاصمت بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر یہ قانون سازی کرائی ہوپانچویں ترمیم نے اٹھارہویں ترمیم تک ہر حکومت نے توہین عدالت قانون کو کسی نہ کسی طریقے سے کم زیادہ کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی کسی کو نہ مل سکی کسی نے آئین کے آرٹیکل 204کی پہلی دوشقوں کو اڑادیا توکسی نے صرف وضاحت طلب کرنے کو ہی کافی سمجھا مگر دیدہ دلیری اس حکومت کی دیکھیے کہ اس نے عدلیہ اورچیف جسٹس پاکستان کے اختیارات کو ہی اڑانے کی کوشش کی بالکل اس پر عمل بھی کرڈالا ۔

مزید :

صفحہ اول -