قومی سلامتی کمیٹی نیٹو کیساتھ دفاعی معاہدوں کو تحریری صورت نہ دینے پر تحفظات کا اظہار

قومی سلامتی کمیٹی نیٹو کیساتھ دفاعی معاہدوں کو تحریری صورت نہ دینے پر تحفظات ...

  

اسلام آباد (ثناءنیوز ) پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی نے پارلیمینٹ کی نئی شرائط کار کے تحت امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو تحریری معاہدوں کی ورت نہ دینے پر تحفظات کا اظہار کر دیا کمیٹی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر قانون سازی سے متعلق ایجنڈے کو موخر کر کے پاک افغان تعلقات کے بارے مسائل کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاءکے بعد قیام امن کے سلسلے میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے بارے میں پالیسی کی تشکیل کے لیے سفارشات مرتب کرنے اور اس ضمن میں دفاع، خارجہ اور سلامتی کے امور کے ماہرین سے تجاویز لینے کا فیصلہ کیا ہے۔نیٹو کے ساتھ تعاون کی بحالی کے لیے پارلیمینٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر میاں رضا ربانی نے کمیٹی کے تحفظات کا اعتراف کیا ہے مگر ان تحفظات کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔وزیر خارجہ حناءربانی کھر نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی واتحادی افواج کے ساتھ تعاون کو تحریری معاہدوں کی شکل دینے کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے کسی بھی معاہدے پر اتفاق رائے کی صورت میں پارلیمینٹ کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔منگل کو سینیٹر میاں رضا ربانی کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس پارلیمینٹ ہاﺅس میں ہوا۔ مولانا فضل الرحمن، مشاہد حسین سید، سردار مہتاب احمد خان، کلثوم پروین افراسیاب خٹک اور دیگر کے شرکت کی۔ پاک افغان تعلقات و تعاون میں حائل رکاﺅٹوں پر غور کیا گیا۔ مسائل کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خارجہ حناءربانی کھر ، سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے پاک افغان تعلقات کی موجود صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔ اتحادی افواج سے ممکنہ بات چیت کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر میاں رضاربانی نے کہا کہ پاک افغان تعلقات، امریکہ سے بات چیت نیٹو سپلائی سمیت اہم ایشوز پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ۔وزیر اعظم کے حالیہ دورہ افغانستان کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ امریکہ سے تعلقات کے بارے پارلیمینٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -