پارلیمینٹ اختیارات سے باہر کام نہیں کرسکتی کوئی قانون بنیادی انسانی حقوق کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا :جسٹس افتخار محمد چودھری

پارلیمینٹ اختیارات سے باہر کام نہیں کرسکتی کوئی قانون بنیادی انسانی حقوق ...

  

اسلام آباد(خبرنگار)چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے یوتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین وقانو ن کی عمل داری بغیر کوئی معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا،ترقی کا انحصار اور جمہوریت کی بقابھی قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے ،قانون کی حکمرانی اس بات کویقینی بناتی ہے کہ ملک کے تمام ادارے طے شدہ قواعدوضوابط کے تحت کام کررہے ہیں اگر کوئی ادارہ اپنے دائرہ کار کوچھوڑ کر کسی دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت شروع کرتاہے تووہ آئین کی نظر میں قبضہ کرنے کی کوشش کرتاہے ،ریاست کی تمام پالیسیاں شفاف طریقے سے بنائی جانی چاہیں صرف انفرادی فائدے کی بجائے اجتماعی فائدے کو ترجیح دینی چاہیے انھوں نے کہاکہ ملک میں بنیادی انسانی حقو ق کا تحفظ کیاجاناضروری ہے جس میں انسانی جانوں کا تحفظ ،آزادی اظہار رائے ،بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی اوربرابری کی بنیادپر انصاف کی فراہمی ہے ،سپریم کورٹ نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی پر زور دیاہے ،جوملک کے چاردیگر ستونوں کے ساتھ انتظامیہ اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کوشاں ہے ،یہی وجہ ہے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کارآئین میں طے کردیاگیاہے ،انھوں نے کہاکہ انھیں یقین ہے کہ تمام لوگ 1973کے آئین سے واقفیت رکھتے ہوں گے ہمارے ملک میں اس وقت پارلیمانی نظام حکومت کام کررہاہے ،آئین نے ملک کے تمام اہم ستونوں کو ان کے دائرہ کار تفویض کرتے ہوے اختیارات دیے ہیں ،پارلیمنٹ نے آئین کے مطابق قانون ساز ی کرنا ہوتی ہے ،پارلیمنٹ بھی دیے گئے اختیارات سے باہر کام نہیں کرسکتی ،کوئی بھی قانو ن بنیادی انسانی حقوق کے خلاف نہیں بنایاجاسکتا،انتظامیہ نے لاءمہیا کرنا ہوتاہے جبکہ عدلیہ نے اس کی تشریح کرنا ہوتی ہے ،اگر پارلیمنٹ اپنے دائرہ کارسے باہر کام کرے توپھر عدلیہ کواپنا کام کرنا پڑتاہے ،عدالت ہر قسم کے غیر قانونی کاموں کی پڑتال رکھ سکتی ہے ،او رانتظایہ کے کسی بھی غلط اقدام کو غیئر قانونی اورغیر آئینی قرار دے سکتی ہے،سپریم کورٹ ملک کی سب سے اعلیٰ عدلیہ ہونے کیوجہ سے عوام کی امیدوں کا آخری سہاراہے ،جوآئین کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہے ،چیف جسٹس نے یوتھ اسمبلی کے اراکیں کو مبارک باد پیش کی اورکہاکہ امیدہے کہ وہ قوم کی امیدوں پر پورااتریں گے قوم کی ترقی کا انحصار ان جیسے نوجوانوں پرہے ۔مستقبل قریب میں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کومزید بہترکریں اورملک کی ترقی کے لیے کام کریں ،انھوں نے کہاکہ پاکستان اقوا م متحدہ میں بنیادی انسانی حقوق کے معاہدے پر دستخط کرچکاہے اس لیے اسے اس ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔سپریم کورٹ کاہیومن رائٹس سیل پوری طرح سے متحرک ہے اورکا م کررہاہے جہاں روزانہ سینکڑوں درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور موقع پر احکامات جاری کیے جاتے ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -