توہین عدالت قانون کی منظوری کا پارلیمانی ریکارڈ طلب،چیف جسٹس نے استثنیٰ سے متعلق اٹارنی جنرل اور وفاقی وکیل سے رائے مانگ لی

توہین عدالت قانون کی منظوری کا پارلیمانی ریکارڈ طلب،چیف جسٹس نے استثنیٰ سے ...
 توہین عدالت قانون کی منظوری کا پارلیمانی ریکارڈ طلب،چیف جسٹس نے استثنیٰ سے متعلق اٹارنی جنرل اور وفاقی وکیل سے رائے مانگ لی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے توہین عدالت قانون کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ امیر اور غریب کے لیے الگ قانون ہوں تو معاشرہ تباہی کی طرف جاتاہے ۔چیف جسٹس نے نئے قانون میں مختلف شخصیات کو دی گئی استثنیٰ پر اٹارنی جنرل اور وفاق کے وکیل سے رائے طلب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سیاستدانوں کی بصیر ت کی وجہ سے اٹھارہویں ترمیم میں توہین عدالت کے قانون کو نہیں چھیڑاگیا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت مجبورہوگئی کہ آفس ہولڈرز کے بارے میں بھی دیکھے،شاید قانون سازوں نے یہ شق اِس لیے ڈالی کہ صدر کی طرح وزیراعظم ، دیگر کو استثنیٰ دیاجائے اوراب فیصلہ دیناہوگاکہ کیاعوامی عہدے والے اس میں آتے ہیں جو کہ یہ خطرناک ایریاہے تاہم آئین میں ہرچیز کا حل موجود ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے روبرو عبدالرحمان صدیقی ایڈووکیٹ کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ بنیادی حقوق کے خلاف کوئی قانون بناسکتی ہے اور نہ ہی اسلامی قوانین سے متصادم قانون سازی کا اختیار ہے ۔اُن کاکہناتھاکہ توہین عدالت ترمیمی قانون میں ایگزیکٹو کو عدلیہ پر اتھارٹی دے دی گئی اور آئین کے تحت عدلیہ کا اختیار کسی صورت کم نہیں کیاجاسکتاجبکہ آئین کے آرٹیکل 202کے تحت یہ ایکٹ خود توہین عدالت ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کاکہناتھاکہ آپ کے دلائل کے مطابق جوڈیشل پاور سلب ہورہی ہے ۔چرچل نے کہاکہ تھاکہ عدلیہ آزاد ہوئی تو جنگ جیت جائیں گے ، عدلیہ کی تضحیک کا کسی کو کئی اختیار نہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ یہ قانون عا م لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہوں تو یہ تباہی کی طرف لے جاتے ہیں ،پبلک آفس ہولڈرز کو استثنیٰ صرف نیک نیتی پر مبنی حاصل ہے ۔اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہاکہ آئینی طورپر یہ ایک مردہ قانون ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کے 2003ءکے قانون کو اٹھارہویں ترمیم میں بھی تحفظ دیاگیااور وفاق کے وکیل شکور پراچہ سے توہین عدالت قانون میں کی گئی بحث کا ریکارڈ طلب کرلیاہے جس پر شکور پراچہ کاکہناتھاکہ وہ قانون کے دفاع کے لیے نہیں بلکہ عدالت کی معاونت کے لیے آئے ہیں ،کیس بہت اہم ہے اور اِسی وجہ سے تین راتوں سے سو نہیں سکا۔عدالت نے کہاکہ سیاستدانوں کی بصیرت تھی کہ قانون کو اٹھارہویں ترمیم میں نہیں چھیڑاگیا۔درخواست گزاروں کاکہناتھاکہ عدالت میں بابراعوان، شرجیل میمن اور ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے کیس زیر سماعت ہیں اور اُنہیں بچانے کے لیے نیاترمیمی قانون لایاگیا۔جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ پارلیمنٹ کا احترام ہے اور عدالت کے سامنے صرف توہین عدالت کا قانون زیر سماعت ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ کوئی عدالت کو بدنام کرے اور پھر کہے کہ مجھے تو استثنیٰ حاصل ہے تو عدالتنے وزیراعظم کو استثنیٰ نہیں دیا، صدر کو بھی نہیں دیں گے ۔عدالت نے قانونی نکتہ پر اٹارنی جنرل اور وفاق کے وکیل سے رائے طلب کرلی۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -