لگتا ہے بلوچستان میں انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں : جسٹس خلجی عارف

لگتا ہے بلوچستان میں انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں : جسٹس خلجی عارف
 لگتا ہے بلوچستان میں انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں : جسٹس خلجی عارف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) جسٹس خلجی عارف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لگتا ہے انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنےوالے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی مشینری فیل ہوکر رہ گئی جبکہ وہاں ہسپتال ، سکول ، کالج اور دفاتر کھلے ہیں اور اپنے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کہہ سکتی ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے تاہم صوبے کی قیادت سنجیدہ ہے اور عدالتی احکامات پر ہر طرح سے عمل ہوگا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بلوچستان بد امنی کیس کی سماعت کر رہا ہے ۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت ان کی کو ششوں کو سراہنے کی بجائے ناکام قرار دے رہی ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل جو کہہ رہے ہیں بیانی نہیں لکھ کر عدالت میں اپنا موقف پیش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تحریر ی جواب جمع کرانے کا کہا تھا اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کیوں نہیں کر لیتی۔ ان کاکہنا تھا کہ خداکے واسطے لوگوں کی جان کی حفاظت کی جائے جبکہ بلوچستان میں سنی ہو یا شعیہ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، بلوچستان میں لوگوں کو بسوں سے اتار کر اور مدرسوں میں جاکر ہلاک کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تمام افراد کو گرفتارکیا جائے اور تمام مغوی افراد کو بازیاب کرایا جائے۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -