چیف جسٹس قتل سازش ،انکوئری رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی

چیف جسٹس قتل سازش ،انکوئری رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی
چیف جسٹس قتل سازش ،انکوئری رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ شریف کے کو قتل کرنے کی سازش کی تحقیقاتی رپورٹ وفاقی اور پنجاب حکومت تاحال منظر عام پر نہ لاسکی۔اس سازش کاانکشاف حساس ادارے کی جانب سے 2010ء میں پنجاب حکومت کوکیاگیا تھا۔رپورٹ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی کہ یہ اس سازش کس نے تیار کی اور اس کے پیچھے کون سے عناصر شامل ہیں اس کی تحقیقات کےلئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ قاضی عیسیٰ فائز کی سربراہی میں تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے آفس میں 14 اکتوبر 2010ء کو تحقیقات کا آغاز کیا۔ کمیشن کے روبرو سپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جی کرنل ریٹائرڈ احسان الہی، ڈائریکٹر سپیشل برانچ شاہد محمود سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے اپنے اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ دنیا نیوزکے مطابق کمیشن نے انکوائری مکمل کرکے رپورٹ وفاقی اورپنجاب حکومت کوبھجوا دی تھی مگر اس رپورٹ کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا جاسکا۔

مزید :

لاہور -