غربت، بے روزگاری اور معاشی حکمت عملی!

غربت، بے روزگاری اور معاشی حکمت عملی!

  

188792511 پاکستانیوں میں سے ایسے حرماں نصیبوں کا تناسب 29 فیصد ہے، جو غربت کی لکیر (یومیہ آمدن دو جو امریکی ڈالر سے کم) سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 2008ءکے اوائل میں یہ تناسب21.4 فیصد تھا، یعنی گزشتہ چار سال کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں لگ بھگ 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2008ءکے بعد سے دنیا مسلسل افراط زر اور کساد بازاری کی زد میں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام خطرات سے دوچار ہونے کے باوجود اگرچہ رواں دواں ہے، لیکن اس کو ملنے والے جھٹکوں کے اثرات ترقی پذیر ممالک اور تیسری دنیا میں بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔ امریکہ، جسے سرمایہ دارانہ نظام کا سرخیل سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران وہاں بھی مہنگائی، افراط زر اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ امریکہ اور اس کے حلیف یورپ نے ٹیکسوں کا نظام بہتر بنا کر اکٹھے ہونے والے محصولات کو معاشرے کے نچلے طبقات کی فلاح و بہبود پر خرچ کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو فلاحی نظام میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے منفی اثرات سے اپنے معاشروں کو کسی حد تک محفوظ کر لیا ہے۔ وال سٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک اور دیو ہیکل صنعتی اداروں جیسے جنرل موٹرز اور لیمن برادرز کے دیوالیہ ہونے کے باوجود امریکی معیشت لڑکھڑا کر ایک بار پھر بہتری کی جانب گامزن ہو چکی ہے۔

 موجودہ حالات میں بھی امریکہ میں فی کس اوسط آمدن47342 ڈالر سالانہ ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں فی کس آمدن 1265 ڈالر ہے۔ 2008ءمیں آنے والے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے امریکہ و یورپ (ماسوائے اٹلی و یونان کے) تو کسی حد تک نکل چکے ہیں ، جبکہ مشرق وسطیٰ و مشرق بعید کے ترقی پذیر ممالک بھی اس کے اثرات کو زائل کر رہے ہیں، لیکن ہماری معاشی تنزلی نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح روز بروز گہرائیوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ آئیے! جائزہ لیتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے، جو ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، فارن پالیسی میگزین اور دیگر معتبر اداروں کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق (بمطابق2012ئ) ملک میں ہر سال 3 ٹریلین یعنی 3000 ارب روپے جبکہ قومی ادارہ برائے احتساب یعنی نیب کے چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کے مطابق ملک میں ہر روز 6 سے 7 ارب روپے بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ملک میں فروغ پا جانے والے بدعنوانی کے اس کلچر کی بدولت ٹیکس چوری، بجلی چوری، گیس چوری اور دیگر چوریوں کے ذریعے ملکی محصولات پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔

 محصولات میں کمی کے باعث بجٹ خسارے میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ اخراجات چلانے کے لئے حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ مزید غیر ملکی قرضے لے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی منت سماجت کر ے یا پھر دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ کر افراط زر کی شرح کو خوفناک حد تک لے جائے۔ 2008ءکے اوائل میں ملک پر کل غیر ملکی قرضے 38.1 ارب ڈالر تھے جو اب 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ گزشتہ چار سال کے دوران غیر ملکی قرضوں کے حجم میں 21.9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ظاہر ہے یہ قرضے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے تو لئے نہیں گئے تھے۔ حکمرانوں کے اللے تللے اور عیاشیاں ہی ان کا مصرف تھا۔ حکومتی اخراجات ہیں کہ روز بروز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، لیکن محصولات میں بالکل اضافہ نہیں ہو رہا۔ حکومت کو وصول ہونے والے محصولات کا بڑا حصہ بھی غیر ترقیاتی کاموں کی نذر ہو جاتا ہے۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ توانائی کے بحران نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ملک سے دلچسپی بالکل ختم کر دی ہے، جس کے بعد بے روزگاری کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

ملک میں موجود ایک کروڑ بیس لاکھ بے روزگاروں کی فوج خراب سے خراب تر، بلکہ زمین بوس ہوتی معیشت کی آئنہ دار ہے۔ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ٹھوس اور مربوط معاشی حکمت عملی کے باعث ہی ممکن ہے اور گزشتہ چار سال کے دوران کسی معاشی حکمت عملی کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا، اگرچہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حکومت کے لئے ممکن نہیں (دنیا کی کسی بھی حکومت کے لئے نہیں) کہ وہ تمام بے روزگاروں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے، لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایسے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں جو بے روزگاری کے خاتمے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں حکومت اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کی فنی تربیت کا بندوبست کرتی ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھا کر اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکیں۔ ہنر مند و غیر ہنر مند افراد کو چھوٹے قرضے دے کر کاروبار کی جانب مائل کیا جاتا ہے۔ دنیا کے اکثر ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے کچھ ممالک میں بھی مائیکرو فنانسنگ کو غربت اور بے روزگاری کے خلاف لڑنے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

 مائیکرو فنانسنگ کے حوالے سے بنگلہ دیش کے گرامین بنک کے نام دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن سالہا سال تک عوام کے لئے خدمات سر انجام دینے والا گرامین بینک بھی اب بحرانوں کی زد میں ہے اور اس کی وجہ ہے بڑھتا ہوا شرح سود اور بنک میں ہونے والی بدعنوانیاں مائیکرو فنانسنگ کے حوالے سے اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ شرح سود انتہائی کم ہو۔ پاکستان میں اس وقت چھوٹے قرضے فراہم کرنے والے کئی ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں سے اخوت کا دعویٰ ہے کہ وہ بلا سود قرضہ لوگوں کو فراہم کر رہا ہے، لیکن ایسے اداروں کا دائرہ کار بہت محدود ہے اور عوام کی اکثریت ان سے فیض یاب نہیں ہو سکتی (کیونکہ ان داروں کا سرمایہ بہت محدود ہے) غربت کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا، جسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام دیا گیا۔ وفاقی حکومت کا اس حوالے سے دعویٰ ہے کہ وہ فی خاندان ایک ہزار روپے (اگرچہ اس میں بھی بہت سی بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں) ماہانہ غربت میں کمی کے لئے دے رہی ہے۔ اس قسم کے منصوبوں کے حوالے سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ عوام کی عزت نفس کو پامال کر کے انہیں بھکاری بنانے کی کوشش ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارم ایم این ایز کو دے دئیے جنہوں نے یہ اپنے ملازمین اور چہیتوں میں بانٹ دئیے، جس کے بعد بہت سے مستحقین منہ دیکھتے رہ گئے۔ حکومتی ہدایات کے موجب کمرشل بینک ہر سال یکم رمضان کو اپنے کھاتے داروں سے زکوٰة وصول کرتے ہیں (بلکہ زبردستی ان کے کھاتوں سے رقم منہا کر لی جاتی ہے)

اگر اس رقم کو بھی منصفانہ انداز میں مستحقین تک پہنچا دیا جائے، تب بھی غربت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن ایسا کرنا بھی شاید حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو اپنی آمدن میں اضافے کی سبیل کرنا ہوگی اور اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ حکومتی محصولات کا بڑا حصہ صنعتی شعبے سے وصول کئے جانے والے ٹیکس (اگرچہ صنعتی شعبہ بھی ٹیکس چوری میں پوری طرح ملوث ہے) کے علاوہ سروسز کے شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے جمع کروایا جانے والا ٹیکس بھی شامل ہے۔ اگرچہ قانوناً زراعت پر بھی ٹیکس لاگو ہے، لیکن عملی طور پر زرعی شعبے کو ٹیکس سے استثنا حاصل ہے۔اب جبکہ انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ کسی ریلیف پیکج کے ذریعے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرے، لیکن بات کسی ریلیف پیکج کے ذریعے اب بننے والی نہیں.... عوام کو اس دلدل سے نکالنے کے لئے ٹھوس اور مربوط معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن عوام کے معاشی مسائل کے حل کو اپنے منشور میں کتنی جگہ دیتی ہے؟ عوام کی دگرگوں معاشی حالت کسی طوفان کا پتہ دے رہی ہے جلد اگر اس کے سد باب کے لئے بندوست نہ ہوا تو بہت سوں کا بہت کچھ اس طوفان کی نذر ہو جائے گا۔  ٭

مزید :

کالم -