امریکی ڈرون بمقابلہ پاکستانی ایف16- (2)

امریکی ڈرون بمقابلہ پاکستانی ایف16- (2)

  

اگر آپ کو مئی ، جون 1999ءکے وہ دو ماہ یاد ہوں جب کارگل کی لڑائی زوروں پر تھی تو آپ کو بھارت کی بے بسی بھی یاد ہوگی۔ یہ چوٹیاں جن پر پاکستان کی ناردرن لائٹ انفنٹری (NLI) نے ایل او سی کو کراس کرکے قبضہ کیا تھا ، از راہ قانون پاکستان کی تھیں لیکن از راہ ”شملہ معاہدہ“ 1972ءمیں یہ بھارت کو دے دی گئی تھیں۔ لیکن پھر بھارت نے 1984ءمیں تین چوتھائی سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کرلیا اور سکردو اور گلگت کو زیر خطر کردیا۔ تب ہماری فوجی حکومت نے سیاچن کو ایک ایسا ”پارہ¿ برف“ قرار دیاتھا جس پر گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اگتا۔ لیکن ستم یہ ہے کہ ہماری قوم نے بھی اس استدلال کو درست مان لیا اور اندیشہ ءمآل سے غافل رہی۔

پھر جب جنرل پرویز مشرف کو نوازشریف صاحب نے اپنا آرمی چیف منتخب کیا تو جنرل صاحب نے ان کو ”بتائے بغیر“ کارگل کی ان بھارتی چوٹیوں پر پاکستانی ٹروپس چڑھا دیئے! .... گھمسان کا رن پڑنے لگا۔ سری نگر اور دہلی کے ہوائی اڈوں پر بھارتی ”شہیدوں“ کے تابوت اترنے لگے تو بھارت نے امریکہ سے التجا کی کہ وہ ، بھگوان کے لئے اس کی مدد کرے۔ بل کلنٹن نے پھر وہی کیا جو اکثر امریکی صدور پاکستان کے ساتھ کرتے چلے آئے ہیں۔

انہوں نے انڈین ایئرفورس کو ”پی ایم جی“ کے کریٹوں کے کریٹ بھجوانے شروع کردیئے۔ انڈین ایئر فورس کے طیارے اپنے بطن میں یہ ”پری سیزن گائیڈڈ میونیشن“ رکھ کر اپنے کسی فضائی مستقر سے اڑتے اور کارگل کی چوٹیوں پر بیٹھے اِکا دُکاّ مجاہدین پر یہ میونیشن پھینک دیتے جس کے نتیجے میں ”ہدف“ برباد ہوجاتا تھا اور انڈین انفنٹری ”اپنی“ پوسٹوں پر دوبارہ قابض ہوجاتی۔ اگر امریکہ یہ میونیشن، بھارت کو فراہم نہ کرتا تو پاکستانی ٹروپس ان مقاماتِ بلند پر تادیر بیٹھے رہ سکتے تھے اور کون جانے اس کا انجام کیا ہوتا؟.... کیا عام جنگ شروع ہوجاتی؟.... کیا جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا؟.... کیا بھارت کو کشمیر کا کوئی تصفیہ کرتے بن پڑتی؟.... کون جانے ؟

اب پاکستان 2012ءمیں امریکہ سے وہی میونیشن مانگ رہا ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں اور پاکستان ایئر فورس کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ، کارگل کی طرح ، فاٹا کی کمین گاہوں میں بیٹھے یا چھپے دہشت گردوں کو ہلاک کرسکے۔ چونکہ یہ دہشت گرد یا شدت پسند یا القاعدہ کے آپریٹو، مقامی آبادیوں میں گھل مل کے رہتے ہیں اس لئے ان پر جب ڈرون حملے کئے جاتے ہیں تو دہشت گردوں کے ساتھ بے گناہ شہری بھی مارے جاتے ہیں۔

اس معمے کا ایک ہی حل ہے کہ پاک فضائیہ کو یا تو ڈرون دے دیئے جائیں یا پی جی ایم دے دیئے جائیں تاکہ فاٹا کے باسیوں کا یہ پرسپشن کہ امریکہ ان کے بے گناہ لوگوں کو شہید کررہا ہے زائل ہوجائے۔ اگر پاکستان خودان دہشت گردوں پر یہ میونیشن استعمال کرے گا تو اس کا کچھ جواز تو ہوگا اور پاکستان کی ان سیاسی جماعتوں کا اعتراض کچھ تودور ہوجائے گا کہ امریکہ پاکستان کی ساورنٹی پامال کرکے پاکستانی شہریوں کو ہلاک کررہا ہے۔

یہ میونیشن، گائڈڈ (Guided) ہوتاہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میزائل یا Munition میں ایسے آلات لگے ہوتے ہیں جو ٹارگٹ پر جانے کے لئے میزائل کو گائڈ کرتے ہیں اور اس ہدف کو برباد کرتے ہیں جس کی رہنمائی اس میزائل یا گولے میں فیڈ (Feed) کی گئی ہوتی ہے۔

قارئین! 2 اگست 2012ءکو اس مجوزہ کانفرنس میں جو سی آئی اے ہیڈکوارٹر ورجینا میں ہونے جارہی ہے اور جس میں دونوں ایجنسیوں (ISI اور CIA ) کے چیفس شریک ہوں گے، پاکستان کا استدلال یہ ہوگا کہ اگر 1999ءمیں بھارت کو PGMs دیئے جا سکتے ہیں تو پاکستان کو کیوں نہیں؟ .... لیکن اگر امریکہ اس کا یہ جواب دے کہ اس کی ضمانت کہاں ہے کہ پاکستان یہ میزائل (اور ان کی ٹیکنالوجی) دوسرے ملکوں کو (بالخصوص چین ) نہیں دے گا تو پھر ہمارا جواب کیا ہوگا؟.... ہمارا ماضی تو امریکی پوائنٹ کی تائید کرے گا۔

امریکہ نے حال ہی میں جب سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی، بھارت کو دی تھی تو افغانستان وار اپنے پورے شباب پر تھی اور پاکستان کا انرجی بحران بھی اپنے پورے شباب پر تھا لیکن امریکہ نے اس وقت بھی یہی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو ایک ہی جگہ بریکٹ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ دن گئے جب دنیا ”پاک بھارت“ کا جڑواں مرکب (Phrase) استعمال کرتی تھی ، اب تو دنیا نے اس کی جگہ ”پاک افغان“اور ”بھارت چین“ مرکبات (Phrases) کو اپنا لیا ہے۔

اور قارئین گرامی! آجکل تو اس بات کے ثبوت بھی مل رہے ہیں کہ امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنا، وہاں ایساف اور ناٹو کی شکل میں لاکھوں ٹروپس بھیجنا ، ان کی افغانستان میں ناکامی، پاکستان میں سی آئی اے کے جاسوسوں کی یلغاریں، ان کے گروپوں کا سارے پاکستان میں پھیل جانا، ان کی رہائش کے لئے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ناقابل یقین توسیع وغیرہ کے تین مقاصد تھے ۔اور وہ یہ تھا کہ پاکستان کو اندرونی طور پر اتنا کھوکھلا اور کمزور کردیاجائے کہ وہ اپنی بیرونی سرحدوں کے دفاع سے غافل ہوجائے....دوسرے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کردیاجائے اور تیسرے اس کی وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی ”بے اثر“ بنا دی جائے جس پر عالم اسلام اور پاکستان کو بڑا فخر اور ناز ہے۔ .... دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی یہی کیاجارہا ہے۔ وہاں اسرائیل کے مستقبل کو تحفظ دیا جارہا ہے اور یہاں بھارت کے مستقبل کو.... امریکہ چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو زیر قبضہ رکھا جائے اور بھارت کو زیادہ مضبوط بنا کر مستقبل کی ابھرتی سپر پاور (چین) کا ”مکّو“ ٹھپ دیا جائے .... (اردو سپیکنگ قارئین سے معذرت کہ میرے ذہن میں اردو کا کوئی ایسا جامع اور مانع قسم کا روز مرہ نہیں آرہا جو اس پنجابی روزمرہ کا مفہوم ادا کرسکے)

اور اب تو خود امریکی بھی ان ”رازوں“ سے پردہ اٹھا رہے ہیں ۔ مثلاً ان کی ایک خاتون صحافی کی درج ذیل تحریر پڑھ کر مجھے اپنی دائیں بازو کی جماعتوں بمعہ پاکستان تحریک انصاف کے موقف اور ان کے وژن پر رشک آرہا ہے۔ کم بارکر (Kim Barker)اپنی تازہ ترین کتاب ”دی طالبان شفل“ کے صفحہ298 پر لکھتی ہے۔ ”ماضی میں ایک وقت وہ بھی آیا کہ مجھے اس خوفناک صداقت کا عرفان ہوا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں ہر چھوٹی بڑی لڑائی جیت سکتے تھے اور پاکستان میں ہر مبینہ عسکریت پسندکو ہلاک کرسکتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ جنگ ہار رہے ہیں“

بہتر ہوگا کہ میں انگریزی خواں قارئین کے لئے اس کا اصل متن بھی ان کے سامنے رکھ دوں:

At some point, I realized the horrible truth- the United States and its allies could win every single battle in Afghanistan and blow up every single alleged top militant in Pakistan, but still lose this war.

یہی امریکی صحافی جس کو چھ برس تک (2009-2003ء) افغانستان اور پاکستان میں گھومنے پھرنے، طالبان سے ملاقات کرنے اور دونوں ممالک کے اعیانِ حکومت کے کئی انٹرویو کرنے کے مواقع ملے، پاکستان کی آئی ایس آئی کی تعریف میں رقمطراز ہے:

امریکی وزارت خارجہ کو اس وقت بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستان کے پولیس اہلکاروں کو بغرضِ ٹریننگ امریکہ بھیجا جانے والا تھا۔ ان کا چناﺅ کیا جارہاتھا تو آئی ایس آئی نے ان کو وارننگ دی تھی کہ مت جاﺅ اور پاکستان میں ہی رہو۔ انہوں نے پولیس والوں کو بڑی مشکل سے سمجھایا کہ وہ بہتر طور پر مسلح تو ضرور ہوجائیں گے لیکن اس کے بعد کس کے طرف دار رہیں گے؟.... آیا پاکستان کے یا امریکہ کے؟

The State Department had a very hard time finding Pakistani police offcials willing to travel to the States for training because of ISI warnings to stay home.After all, the ISI asked, while strong arming the police, whose side were they on? America's or Pakistan's?

مجھے بین الاقوامی سٹرٹیجک امور کا اتنا عرفان حاصل نہیں کہ امریکی تھنک ٹینکوں اور امریکی ایڈمنسٹریشن کی ان گہری چالوں کا تجزیہ کرسکوں لیکن بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جو ناٹو اور ایساف کے روپ میں ہمارے ہمسائے میں برسر پیکار ہیں ، ان کا ایجنڈا یہی ہے، جس کا اعتراف خود اس امریکی خاتون صحافی نے کیا ہے۔

ابھی چند روز پہلے، پاک افغان سرحد پر جو خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں اور جن میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے بہت سے اہلکار شہید ہوئے ہیں، وہ کارروائی نہ تو بھارت کا کوئی فوجی کرسکتا ہے نہ کوئی افغان اور نہ ہی طالبانِ افغانستان جن پر شک کیاجاتا ہے۔ یہ شک بھی غلط ہے کہ سوات والا فضل اللہ جو آرمی آپریشن میں بھاگ کر پاک افغان سرحد پار کرگیا تھا۔ وہ اب افغانستان کے صوبوں کنار یا ننگرہار میں بیٹھ کر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف ان آپریشنوں کی پلاننگ بھی کررہا ہے اور ان کو بروئے عمل بھی لارہا ہے! .... تو پھر آپ خود سوچئے کہ وہ قوت کونسی ہے جو یہ سارے پاپڑ بیل رہی ہے۔ الجبرے کے فارمولے کے مطابق یہ صرف اور صرف امریکی اور اس کی اتحادی فورسز ہی ہیں جو باقی رہ جاتی ہیں۔

ہمارے آئی ایس آئی چیف، جنرل ظہیرالاسلام اور امریکہ کے سی آئی اے چیف، جنرل ڈیوڈ پیٹریاس دونوں بڑے پروفیشنل اور کیرئیر سولجر ہیں۔ دونوں کو معلوم ہے کہ اصل گیم کیا کھیلی جارہی ہے۔ تبھی تو امریکی ایک عرصے سے تگ و دو کررہے ہیں کہ آئی ایس آئی کے دانت نکال دیئے جائیں اور اسے Defang کرکے اپنا وہ سٹرٹیجک مقصد پورا کیاجائے جس کی راہ میں یہ پاکستانی ایجنسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حائل ہے۔ (جاری ہے)  ٭

مزید :

کالم -