مریم کی سنگساری: زمیندار اور پنچائتی کون ہیں؟

مریم کی سنگساری: زمیندار اور پنچائتی کون ہیں؟

  

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل الحاج حبیب الرحمن اچھی شہرت کے مالک پولیس افسر ہیں، لیکن یوں محسوس ہوا کہ وہ بھی محکمانہ تعصب میں کسی نہ کسی حد تک مبتلا ہیں یا پھر یہ عدالت عظمیٰ کا خوف تھا کہ خانیوال کی خاتون کے سنگسار کیس کو فوری طور پر نمٹانے کی کوشش میں معاون بنے اور ماتحت عملے نے کیس کو جس طرح کا رخ دینے کی کوشش کی، ویسا ہی تسلیم کر لیا اور عدالت عظمیٰ میں رپورٹ بھی پیش کر دی، لیکن فاضل عدالت نے اس رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مسترد کرتے ہوئے آئی جی سمیت تمام ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس نے تو یہ بھی کہا: ” عدالت دیکھے گی کہ وزیر اعظم آئی جی کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں“۔ عدالت عظمیٰ کی اس کارروائی کی روشنی میں صوبائی پولیس کے سربراہ نے فوری کارروائی کی۔ جو اس طرح ہے کہ آر پی او ملتان کے تبادلے کی سفارش کی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال محمد وقار عباسی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر مرکزی پولیس آفس لاہور رپورٹ کرنے کو کہا، جبکہ ڈی ایس پی سرکل جاوید، ایس ایچ او کچا کھوہ انسپکٹر شمشاد خالد اور انچارج چوکی سب انسپکٹر محمد اشرف کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک طرف تو حکومت پنجاب سے یہ درخواست کر دی کہ اس سنگین واقعہ کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن مقرر کیا جائے اور دوسری طرف اعلیٰ پولیس افسروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم بھی بنا دی ہے، جس کے سربراہ شیخوپورہ کے آر پی او ذوالفقار چیمہ ہیں۔ ان کی ٹیم میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور چودھری شفیق احمد اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن پنجاب طارق نواز ملک شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ابھی تک وزیراعظم نے خود آئی جی صاحب کے بارے میں کوئی حکم صادر نہیں کیا۔ ان کو شاید اپنے مسائل ہی سے فرصت نہیں کہ وہ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس پر غور کر کے کوئی کارروائی کریں، حالانکہ یہ فرض اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور اس سے بھی پہلے اٹارنی جنرل کا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کی، اس کھلی ہدایت کو وزیراعظم کے علم میں لائے۔

 یہ سب کارروائی چیف جسٹس کی طرف سے سنگساری کے اس اندوہناک واقعہ کے از خود نوٹس کے تحت کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے تین روز میں رپورٹ مانگی تھی، قارئین! اب تک اس واردات کے قریباً ہر پہلو سے واقف ہو چکے ہوں گے، لیکن ایک گوشتہ ایسا ہے، جسے میڈیا تک نے بھی آشکار نہیں کیا۔ الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعہ کو بڑے زور دار انداز میں اٹھایا اور بتایا کہ پانچ بچوں کی ماں مریم کو محض اس لئے اینٹیں مار کر سنگسار کر دیا گیا (موت کے گھاٹ اتار دیا گیا) کہ اس نے ایک زمیندار کی زمین سے بلا اجازت فصل کاٹ لی جو چوری کے ضمن میں آتی ہے۔ اس پر پنچائت بیٹھی اور پنچائیت نے یہ فیصلہ دے دیا کہ مریم کو اینٹیں مار کر سنگسار کیا جائے اور اس پر گاو¿ں والوں کے سامنے عمل بھی کر دیا گیا۔ یہ تو میڈیا کی تشہیر تھی کہ چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور سخت ریمارکس بھی دئیے۔ اس کے بعد جو افراتفری مچی تو وزیر اعلیٰ پنجاب سخت حبس اور گرمی میں خاتون کے اہل خانہ کے پاس پہنچے، ان کی فریاد سنی اور بچوں کی پرورش کے لئے پانچ لاکھ روپے بھی دئیے۔ ان کی طرف سے فوری تفتیش اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کے بعد ہی پولیس ڈرامہ شروع ہوگیا، جسے عدالت عظمیٰ نے ناکام بنا دیا ہے۔

 وزیراعلیٰ کی گاو¿ں میں موجودگی کے دوران ہی یہ فریاد بھی کی گئی کہ مقتولہ کے شوہر سرفراز کو بھی اغواءکر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اسے بھی بازیاب کرنے اور جدید خطوط پر تحقیق کی ہدایت کی۔ اس کے بعد خانیوال پولیس اور اس کے اعلیٰ افسروں نے جو تحقیقات کیں۔ اس کے مطابق مسئلہ ایک ہی روز میں حل ہوگیا۔ مقتولہ کا شوہر سرفراز گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق کھیتوں میں چھپا ہُوا تھا کہ گاو¿ں کی چند خواتین نے اسے دیکھ کر شور مچا دیا۔ پولیس نے اسے پکڑا تو اس کے کپڑے خون آلود تھے۔ اس کے بعد فرانزک لیبارٹری سے ٹیسٹ بھی کرالیا گیا۔ رپورٹ بھی آ گئی، جس سے ثابت ہوا کہ سرفراز کے کپڑوں پر مریم کے خون کے دھبے ہیں۔ اب پولیس کی روایتی کارروائی یوں ہوئی کہ سرفراز نے اقبال جرم کر لیا ہے۔ اس کے مطابق گھریلو جھگڑا تھا جس پر اس نے مریم کو گلا گھونٹ کر مار ڈالا اور خود فرار ہوگیا۔

 یہی رپورٹ لے کر انسپکٹر جنرل پولیس عدالت عظمیٰ کے سامنے گئے۔ عدالت نے اس رپورٹ کو بری طرح رد کر دیا اور واضح کیا کہ رپورٹ میں ایک سے زیادہ تضادات ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ملزم کے مبینہ بیان میں سخت اختلاف ہے کہ پوسٹ مارٹم سے وجہ موت گلا گھونٹنا ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت عظمیٰ ہی کی اس سرزنش اور ہدایت کے بعد اب نیا سلسلہ شروع ہوا۔ کیا اب بھی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ حقائق سامنے آئیں گے اور قانون کا ہاتھ حقیقی ملزموں یا ذمہ داروں کے گریبان تک پہنچے گا، جو پنچائیت اور زمیندا کی شکل میں آج بھی آزاد ہیں اور نہ صرف کچا کھوہ گاو¿ں والے، بلکہ اردگرد کے چھوٹے چھوٹے دیہات والے بھی خوفزدہ ہیں، کیا اس جابرانہ ماحول میں کوئی چشم دید گواہ یہ ہمت اور جرا¿ت کرے گاکہ تفتیشی یا تحقیقاتی ٹیم کو اصل حقائق سے آگاہ کرے اور ملزموں کے نام بتائے؟

ہمارے خیال میں معاملہ جوں جوں آگے بڑھے گا۔ ذمہ دار حضرات اس قابل ہوں گے کہ وہ کسی ایک فرد کو بھی سچ نہ بولنے دیں، بلکہ پولیس نے جو کہانی بنائی اس کی تائید کے لئے اپنے آدمی گواہ کے طور پر آگے کر دیں جو حلفاً کہیں کہ قتل تو مریم کے خاوند سرفراز نے کیا۔ یوں یہ قصہ بھی اس نوعیت کے دوسرے ظالمانہ واقعات کی طرح کہیں دفن ہو کر رہ جائے گا۔

قارئین! ہم یہ بلا وجہ نہیں لکھ رہے، اگر آپ کو یقین نہیں تو بتائیے اب تک اس زمیندار کا نام سامنے آیا، جس کی زمین کا ذکر ہے۔ پنچایت کا ڈھونگ رچانے والے افراد کون ہیں اور ان کے نام کیا ہیں۔ کیا ان حضرات کی شناخت بیان کی گئی ہے۔ اب تک سارا زور خود مقتولہ مریم، اس کے پانچ معصوم بچوں اور اس کے شوہر سرفراز پر ہی ہے۔

 ہمیں تو دُکھ اور افسوس اپنے ہم پیشہ میڈیا والے بھائیوں اور بچوں پر ہے، جنہوں نے اس سانحہ کو رپورٹ تو کیا، لیکن خود اس سے آگے کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ تحقیق نہیں کی کہ زمین کا مالک زمیندار کون ہے اور پنچائیت میں کون لوگ تھے کہ واقعہ ایسے ہی ہوا ہے تو پھر اصل ملزم اور ذمہ دار یہ لوگ ہیں، یقیناً یہ اتنے بااثر تو ہیں کہ ان کے نام تک سامنے نہیں آئے۔ اگر حالات یہ ہیں تو کوئی کیسے توقع اور امید کرے گا کہ اس سانحہ کے اصل ملزم بے نقاب ہی نہیں ہوں گے۔ ان کو سزا بھی ملے گی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

زمانہ کتنا بھی جدید ہے۔ میڈیا اور عدلیہ جتنا بھی آزاد ہو گئے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج بھی سردار، وڈیرے، جاگیردار اور خان ہی طاقت ور ہیں اور اس معاشرے کے مالک ہیں۔ اقتدار ہو یا حزب اختلاف، ہر جگہ یہی حضرات ہیں۔ اگر تھوڑا بہت فرق نظر آتا ہے تو وہ شہروں میں ہے۔ یہاں سرمایہ دار موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ایک مخلوط نظام ہے جو شاید دنیا میں کسی اور جگہ نہ ہو، یہاں سرمایہ دار اور جاگیردار معہ خان اور سردار ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں، یہ سب عوام کے نام پر لوٹ مار اور ظلم کرتے ہیں اور ملک کے تمام تر وسائل پر قابض ہونے کے علاوہ طاقت کے تمام ایوانوں پر بھی قابض ہیں۔

اس نظام کی تبدیلی کے لئے فضا ضرور ہموار ہو رہی ہے، لیکن نہ تو کوئی قیادت ہے اور نہ ہی کوئی تحریک ہے۔ مریم جیسی عورت کی سنگساری کا سانحہ ہو تو ہمدردی کے نام پر بہت سے رہنما بھی سامنے آتے ہیں اور پھر آہستہ روی کے ساتھ خاموش ہو جاتے اور سانحہ دفن ہو جاتا ہے۔ ہماری تو یہ خواہش ہے جوہحق ہے جو سچ ہے۔ وہ سامنے آجائے اور اب تو یہ عرض ہے کہ عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ زمیندار کون اور پنچائیت والوں کے نام کیا ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -