لندن اولمپکس ،پہلی بارملائشیا کی حاملہ شوٹرایئر رائفل ایونٹ میں حصہ لیں گی

لندن اولمپکس ،پہلی بارملائشیا کی حاملہ شوٹرایئر رائفل ایونٹ میں حصہ لیں گی

  

 لندن (این این آئی) لندن اولمپکس میں ملائشیا کی حاملہ شوٹر نور سوریانی محمد طیبی رائل آرٹلری بیرکس میں دس میٹر ایئر رائفل ایونٹ میں حصہ لیں گی۔اولمپکس کی تاریخ میں تین خواتین نے حاملہ حالت میں حصہ لیا ہے مگر سوریانی ان خواتین میں سب سے زیادہ ماہ سے حاملہ ہیں۔ملائشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور کے مضافات میں واقع نیشنل شوٹنگ رینج پر تربیت کے بعد برطانوی ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے شوٹنگ 1997 میں شروع کی اور اولمپکس میں حصہ لینا میرا ایک خواب تھارواں سال جنوری میں جب ان کو معلوم ہوا ہے کہ وہ حاملہ ہیں تو انہوں نے سمجھا کہ لندن اولمپکس میں حصہ لینے کا خواب ختم ہو گیا ہے مگر اپنے شوہر سے بات کرنے اور دعاﺅں کے بعد انہوں نے اولمپکس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیااور دو دن بعد ہی ان کو اطلاع ملی کہ انہوں نے اولمپکس کےلئے کوالیفائی کر لیا ہے۔اگرچہ سوریانی کی صبح کو طبیعت کچھ ناساز ہوتی ہے ۔جیسے کہ حاملہ خواتین کی ہوتی ہے ان کا کہنا ہے کہ حاملہ ہونے کا ان کو کچھ فائدہ ہے۔اب پیٹ کی وجہ سے میرا بیلنس اچھا ہو گیا ہے۔پیٹ کی وجہ سے شوٹنگ کے سوٹ پہننا اور اتارنا ایک دشوار کام ہے۔انہوںنے کہاکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں پاگل ہوں۔ کچھ مجھے خودغرض کہتے ہیں۔ لیکن میں صرف اولمپکس پر توجہ دے رہی ہوں۔سوریانی اس وقت عالمی سطح پر 47 نمبر پر ہیں۔ تاہم ان کا ریکارڈ بڑا اچھا ہے کیونکہ انہوں نے 2010 کی کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتا اور ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔اگر سوریا نے اولمپکس میں میڈل جیتنا ہے تو ان کی بیٹی، جو اس وقت ان کے پیٹ میں ہیں، کو بھی بہت اہم کردار ادا کرنا ہو گا کہ وہ لاتیں نہ مارے۔مقابلوں کی صبح میں جب اٹھتی ہوں تو میں عام طور پر اپنی بیٹی سے کہتی ہوں کہ امی بہت اہم مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں اس لیے تنگ نہ کرنا۔ اور بعد میں اگر ایکٹو ہونا ہے اور لاتیں مارنی ہیں تو وہ ٹھیک ہے۔سوریانی کا کہنا ہے کہ اگر وہ میڈل جیت گئیں تو اس کو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ شیئر کریں گی۔ اگر نہیں جیتی تو ٹھیک ہے کم از کم یادیں تو ہوں گی۔ میں اپنی بیٹی سے کہوں گی کہ وہ کتنی خوش نصیب ہے کہ جب وہ پیٹ میں تھی تو اس نے میرے ساتھ اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -