شب قدر: خدا کی نعمتوں والی رات

شب قدر: خدا کی نعمتوں والی رات
شب قدر: خدا کی نعمتوں والی رات
کیپشن: shabe qadar

  

(1) ”ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے،شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔ ہر امر میں اپنے رب کی اجازت کے ساتھ، یکسر امان ہے اور یہ صبح کے نمودار ہونے تک ہے“۔.... (القدر1:97تا5)

(2) شب قدر کتنی بابرکت رات ہے کہ اس کی عظمتوں اور برکتوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ رات کتنی فضیلت والی ہو گی، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہزار راتوں سے افضل قرار دیا ہو، یہی وہ رات ہے، جس میں کائنات کے فیصلے ہوتے ہیں اور وہ تمام امور، جو اس عالم میں نافذ ہونے والے ہوتے ہیں، متعلقہ ملائیکہ کے سپرد کئے جاتے ہیں، چونکہ یہ تمام فیصلے اس ذات اقدس کی جانب سے ہوتے ہیں، جو رحیم بھی ہے اور کریم بھی، جس کا ہر فیصلہ رحمت، شفقت، نوع انسانی کی فلاح اور عدل و احسان پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے یہ گمان لازم ہے کہ اس رات اس کی جانب سے رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہوتی ہو گی۔ قرآن مجید نے اسے ہزار راتوں سے افضل قرار دیا ، تو درست ہی قرار دیا ہو گا۔ یہ رات نزول قرآن، شب قدر میں آسمان دنیا پر نازل ہوا اور پھر تیئس(23) سال میںحسب ضرورت تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا اور ہر آیت اور ہر سورت کو اِسی جگہ پر رکھا گیا، جس ترتیب سے لوح محفوظ میں ہے، گویا رسول اکرم کی بعثت اور نزول قرآن کریم اِسی مبارک و مقدس رات کو متعلقہ فرشتوں کے حوالے کئے جانے کا اہتمام کیا گیا۔

(3) جس طرح دنیا میں مختلف کاموں کے لئے مختلف اوقات یا موسم ہیں، اِسی طرح روحانی دنیا میں بھی خاص خاص کاموں کے لئے دن مقرر ہیں۔ اگر ان مقررہ ایام میں وہ کام کئے جائیں، تو بہتر اور مطلوبہ نتائج پیدا ہوتے ہیں، جس طرح جمعہ کے دن کی اپنی فضیلت ہے یا جس طرح روزوں کے لئے رمضان المبارک کا مہینہ مقرر ہے یا حج کا دن اور مہینہ مقرر ہے۔ ان تمام ایام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے، جن عبادتوں کی تاکید فرمائی ہے، ان کے اجر و ثواب کی کوئی حد مقرر نہیں۔ یہی حال شب قدر کا ہے۔ انسان اگر اس عظمت و فضیلت والی رات میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اس کی رحمتوں کا طالب ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مایوس ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رات امان ہی امان ہے۔ شب قدر کے تعین کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی گئی۔ حضور اکرم کا ارشاد ہے کہ اس رات کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرو۔ حدیث میں ہے کہ ”بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم کو لیلتہ القدر پر مطلع کر دیتا، لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے اس پر مطلع نہیں کیا۔ اس کو رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو“۔ یہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک آسانی پیدا فرما دی تاکہ وہ ان طاق راتوں میں سے کسی رات میں شب بیداری کر کے اپنی جھولیاں رحمتوں سے بھر سکیں، عموماً ستائیسویں شب کے متعلق گمان کیا جاتا ہے کہ یہ شب قدر ہے۔ نزول قرآن کی ابتداءبھی اِسی رات سے منسوب کی جاتی ہے۔ لیلتہ القدر میں نو حروف ہیں اور یہ لفظ سورت میں تین مرتبہ آتا ہے، اس لئے 9X3 سے ستائیسویں شب کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

(4) گویا آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس مبارک و مسعود رات کی تلاش کا منشاءپورا ہوا ہو گا۔ تلاش سے مراد یہ ہے کہ ان راتوں کو جاگو اور عبادت کرو تاکہ شب قدر میسر ہو جائے۔ یہ رات ہر رمضان میں ہوتی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اس میں کچھ نظر بھی آئے، تو جب ہی اس کی برکتیں میسر آئیں گی۔ مقصود تو عبادت ہے۔ اس مبارک رات کی قدر کرنی چاہئے کہ تھوڑی سی عبادت سے کس قدر ثواب ملتا ہے۔ اس رات میں دُعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔ اگر تمام رات نہ جاگا جا سکے، تو جتنی ہمت ہو خدا کے حضور حاضری ہونی چاہئے۔ یہی رات انسان کی، انسانوں کی بندگی سے نجات کی رات ہے، جس رات کو اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے لئے منتخب فرمایا، اس کی عظمت و تقدیس کا کیا پوچھنا۔

(5) اہل پاکستان کے لئے تو ستائیسویں رمضان المبارک کی ایک اہمیت اس لئے بھی ہے کہ پاکستان اِسی تاریخ کو معرض وجود میں آیا، گویا چودہ سو سال بعد مدینہ کی سلطنت کی طرز پر ایک نئی اسلامی مملکت وجود میں آئی، گویا شب قدر بھی تھی، یوم نزول قرآن بھی تھا اور اس نئی ریاست کے آغاز کا دن بھی۔ پاکستان رحمت خداوندی کا نمونہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا حامل۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن سے اپنا رشتہ مستحکم کریں اور اس ماہ کی آخری طاق راتوں میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگیں، ورنہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ذات باری تعالیٰ کا شکر بجا لائیں، اس کے احکام کی تعمیل کا عزم کریں، اِسی طرح ہم اپنی عاقبت سنوارنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عظمت و رفعت کا سامان کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!

(6) شب قدر رمضان المبارک کا آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کا عشرہ ہے۔ اس کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ طاق راتیں آخری عشرے کی یہ ہیں۔ روزہ 20کی رات21، روزہ22کی رات23، روزہ 24 کی رات25، روزہ26 کی رات27 اور روزہ 28 کی رات29۔ یہ طاق راتیں کُل5ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو رات بھی اپنے مالک حقیقی کی یاد میں بسر ہوتی ہے اہل ِ عشق کے لئے وہ بھی لیلتہ القدر ہے۔ عارف ربانی عمر بن فارض فرماتے ہیں کہ اگر محبوب حقیقی کا قرب نصیب ہو جائے تو ساری راتیں لیلتہ القدر ہیں۔

(7) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے ستائیسویں شب کو لیلتہ القدر قرار دیتے ہوئے3دلیلیں بیان کی ہیں:

(1) لیلتہ القدر کے الفاظ9 حروف پر مشتمل ہیں اور یہ الفاظ سورة القدر میں3مرتبہ آئے ہیں۔ 3کو9 کے ساتھ یا9کو3کے ساتھ ضرب دینے سے جو مجموعہ بنتا ہے وہ27ہے۔

(2) سورة القدر کے کل30الفاظ ہیں، جن کے ذریعے شب قدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، لیکن اس صورت میں جس لفظ کے ساتھ اس رات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہی ضمیر ہے اور یہ الفاظ اس سورہ کا 27واں لفظ ہے۔

(3) سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے شب قدر کے تعین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو طاق عدد پسند ہے اور طاق عددوں میں سے بھی7 کے عدد کو بہت نمایاں کیا ہے۔ مثلاً آسمان7، زمین7، ہفتہ کے دن7 اور طواف کے چکر7، وغیرہ۔.... (تفسیر کبیر)

(8) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مَیں نے عرض کیا:یا رسول اللہ مجھے بتائیں کہ مَیں لیلتہ القدر کو کیا دُعا مانگوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا، یہ دُعا پڑھا کرو۔ ترجمہ ”اے اللہ تو معاف کر دینے والا اور معافی کو پسند کرنے والا ہے۔ پس مجھے بھی معاف کر دے“.... (احمد، ابن ماجہ، ترمذی، مشکوٰة)

(9) شب قدر کو نوافل اس طریقے سے ادا کریں کہ ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورة القدر انا انزلنا ایک مرتبہ پڑھیں اور سورہ¿ اخلاص تین مرتبہ پڑھیں۔ دو ، دو رکعت کی نیت کر کے 100رکعت نفل پڑھیں تو اللہ تعالیٰ ان 100رکعت نفل پڑھنے والوں کو شب قدر کا ثواب عطا فرمائے گا اور روزے قبول ہوں گے۔ بوسنیا کے لئے چیچنیا کے لئے، کشمیر کی آزادی، پاکستان کی سلامتی، یکجہتی و خوشحالی اور تمام مسلمانوں کے لئے خصوصی دُعائیں کریں۔ ٭

مزید :

کالم -