دہلی کی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع

دہلی کی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع
 دہلی کی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع
کیپشن: juma tul widah

  

برصغیر میں لفظ جمعتہ الوداع ستر سال سے سن رہا ہوں۔ حرم شریف میں وداع کا لفظ صرف طواف وداع کے ساتھ سنا ہے۔ برصغیر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ بڑی شان سے پڑھایا اور منایا جاتا ہے ، رمضان شریف سے قبل جب عید کے نئے کپڑوں کی تیاری شروع ہوتی ہے تو ایک جوڑا جمعتہ الوداع کے لئے اور دوسرا عیدالفطر کے لئے بنایا جاتا ہے۔ اس سے جمعتہ الوداع کی اہمیت اور واضح ہوگئی۔ لاہور کی شاہی مسجد تین اطراف سے بلند اور جنوب میں زمین کے ساتھ ہموار ہے۔ مگر دہلی کی جامع مسجد چاروں اطراف سے ایک جیسی بلندی پر واقع ہے۔ دونوں مساجدکی شکل صورت طرز تعمیر ایک ہی جیسی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد شاہجہاں نے سنگ سرخ کی بنوائی، مگر ان کے بیٹے اورنگزیب نے اسی جیسی، مگر اس سے بڑی مسجد لاہور میںبنوائی۔ یہاں کوئی ایک لاکھ افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔

میرے پورے خاندان نے تقریباً 50سال یہیں نماز عیدالفطر ادا کی ہے۔ کبھی کبھار مسجد اس موقع پر پوری بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ کئی مرتبہ بھری ہوئی مسجد میں غیرملکی فوٹو گرافروں کو تصویریں اتارنے اور فلمیں بناتے بھی دیکھا ہے ۔ سب سے زیادہ رش دومواقع پر نظرآیا، ایک جب 1974ءمیں اسلامی کانفرنس کے موقع پر تقریباً 50اسلامی ممالک کے سربراہوں نے یہاں نماز جمعہ ادا کی اور دوسرے جب مغرب کی نماز امام کعبہ جناب عبدالرحمن السدیس نے پڑھائی۔ تراویح اور جمعة الوداع میں یہاں رونق کم ہی نظر آئی۔ اس کے برعکس گودہلی کی جامع مسجد اس شاہی مسجد سے چھوٹی ہے۔ مگر جمعہ اور عیدین میں مسجد نمازیوں سے بھری ہوتی ہے۔ اس کی شان دیکھنی ہوتو جمعة الوداع کو دیکھیں۔ دہلی کے قرب وجوار میں جتنے گاﺅں ، دیہات ، قصبے اور چھوٹی بڑی آبادیاں ہیں، وہاں کے مسلمان کثیر تعداد میں جمعة الوداع پڑھنے جامع مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ اتنے مجمع کی نماز کی ادائیگی کے لئے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ سب سے بڑا انتظام صف بندی کا ہے۔

 جامع مسجد کے مغرب اورشمال میں مسلمانوں کے دومحلے ہیں۔ ان دونوں محلوں کے نوجوان رات کو نماز تراویح سے فارغ ہوکر سفیدی کی بالٹیاں، رسیاں اور کوچیاں لے کر گھروں سے نکل آتے ہیں اور مسجد کی صفوں کی سیدھ میں رسیاں سیدھی کرکے مسجد کی سیڑھیوں اور ان سے ملحقہ سڑکوں پر سیدھی سیدھی سفیدی کی لائنیں ڈالتے جاتے ہیں، اس طرح مشرق اور جنوب شمال میں سفید لکیروں کا جال بچھا دیتے ہیں تاکہ نماز میںہر حالت میں صف سیدھی رہے۔ اتنی بڑی مسجد میں صف بندی کا یہ اہتمام کہیں نہیں دیکھا، اب نمازی چاہے مسجد میں ہو، چاہے مسجد کی سیڑھیوں پر ہو، چاہے سیڑھیوں کے نیچے سڑک پر ہو ہرحالت میں صف سیدھی رہتی ہے اور نماز صحیح ادا ہوتی ہے۔ مَیں نے آخری جمعة الوداع گیارہ سال کی عمر میں اپنے والد صاحب اور بھائیوں کے ساتھ 1947ءمیں پڑھا۔ اس کے بعد نماز عیدالفطر اور پھر نماز عیدالاضحی جس کی کہانی بڑی مختلف ہے، جمعة الوداع کے حوالے سے ایک مرتبہ محترم جناب الطاف حسن قریشی صاحب مدیر اعلیٰ اردو ڈائجسٹ سے بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ مَیں بھی جمعة الوداع جامع مسجد میں ہی پڑھتا تھا۔

اتنے بڑے مجمع کو امام کی آواز سنانے کے لئے مکبر بھی درکار ہیں ، جس طرح مسجد نبوی شریف میں اس جگہ ایک چبوترہ بنا ہوا ہے جس جگہ جناب بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اذان دیا کرتے تھے۔ اسی طرح جامع مسجد میں حوض کے پیچھے چند سیڑھیاں چڑھ کر تکبیر کی جگہ بنی ہوئی ہے، اس پر کھڑا مکبر امام کی آواز سے آواز ملا کر تکبیر کہتا ہے اور اس کی آواز سے آواز ملاکر شمال، جنوب اور مشرقی میں کھڑے مکبر بلند آوازسے تکبیر کہتے ہیں جو پورا مجمع صحیح معنوں میں کھڑا اس تکبیر کو سنتا اور نماز ادا کرتا ہے۔ ایسا نظم زندگی میں کہیں دیکھا نہیں۔ اب بھی سنا ہے کہ جنوب کی لکیریں اسی طرح لگائی جاتی ہیں، پولیس آمدورفت کو کنٹرول کرتی ہے۔

اس روح پرورمنظر اور نماز جمعة الوداع سے فارغ ہوکر باہر سے آئے ہوئے نمازی جامع مسجد کے اطراف میں بازاروں میں پھیل جاتے ہیں اور بیوی بچوں کے لئے خریداری کرتے ہیں۔ پھل، پھول ، مٹھائیاں ، چوڑیاں، مہندی ، خواتین کے لئے آرائش کا سامان تو بچوں کے لئے کھلونے غرض بڑی خریداری کرکے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ باہر سے آنے والے ریل، لاریوں، ریڑھوں ، ٹانگوں اور بیل گاڑیوں پر سفر کرکے آتے ہیں۔ اس طرح دہلی میں ایک عجیب رونق نظر آتی ہے۔ اتنا مجمع، ایسی رونق مَیں نے اپنی زندگی میں کسی بڑی سے بڑی مسجد یا جمعتہ الوداع کے موقع پر نہیں دیکھی۔ گیارہ سال کی عمر میں جب میں نے آخری جمعة الوداع جامع مسجد میں پڑھا تو اس روز 15اگست 1947 اور ہندوستان کا یوم آزادی تھا۔ 18اگست 1947ءکو اپنے والد صاحب بھائیوں، عزیز واقارب اور اہل محلہ کے ساتھ نماز عیدالفطر پڑھی۔ برصغیر تقسیم ہوچکا تھا۔ تعصب جنم لینے لگا تھا۔ امن وامان متاثر ہونے لگا۔ ہندومسلم فسادات کے آثار نمایاں ہونے لگے اور 27اکتوبر تک عیدالاضحیٰ تک حالات خونی دور میں داخل ہوچکے تھے۔  ٭

مزید :

کالم -