بغاوت ہار گئی، سچی جمہوریت جیت گئی

بغاوت ہار گئی، سچی جمہوریت جیت گئی
بغاوت ہار گئی، سچی جمہوریت جیت گئی

  

15جولائی کی شب ترک فوج کے ایک باغی ٹولے نے ترکی کے ایوانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ اچانک فوجی بغاوت اور پھر عوام کی طرف سے اس بغاوت کو کچل دینا عالمی میڈیا کے لئے انتہائی غیرمعمولی واقعات ہیں۔ خبر یہ نہیں ہے کہ ایک باغی فوجی ٹولے نے حکومت پر قبضہ کر نے اور مُلک میں مارشل لاء لگانے کی کوشش کی ، اصل خبر یہ ہے کہ ترکی کے باشعور، بہادر، باہمت اور جانثار عوام نے چند ہی گھنٹوں میں اس مسلح فوجی بغاوت کو اپنے پیروں تلے روند دیا۔ ہم نے ایسے ایسے مناظر دیکھے جو پہلے کبھی نہ دیکھے تھے اور نہ سنے تھے۔ عصرِ حاضر میں یہ ایک بے مثال واقعہ ہے ، ترک عوام نے غیرجمہوری طاقتوں کو عبرتناک شکست دے کر ایک تاریخ رقم کر دی۔ ایک ایسی تاریخ، جس سے پاکستان جیسے ممالک میں حکمرانوں اور آمروں کے سیکھنے کے لئے سبق ملتا ہے۔ تاریخ اس واقعہ کو فوجی بغاوت نہیں،بلکہ آمروں کے خلاف عوامی بغاوت کے نام سے یاد رکھے گی۔جمہوریت دشمن طاقتوں اور جرنیلوں کے لئے یہ ایک عوامی وارننگ ہے۔

پاکستان کے لئے ترکی کی موجودہ صورتِ حال سے کیا سبق نکلتا ہے؟ دونوں ممالک کی تاریخ میں یہ مماثلت نظر آتی ہے کہ اقتدار کی کرسی ملٹری اور سویلینزکے درمیان جھولتی رہی ہے۔ کبھی کرسی سویلین حکومتوں کے ہتھے چڑھتی ہے تو کبھی فوجی آمر ہلہ بول کر قابض ہو جاتے ہیں۔ دو ہفتے قبل موو آن پاکستان نامی غیرمعروف تنظیم کی طرف سے بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے، جس میں جنرل راحیل کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ اگرچہ یہ تنظیم کسی اہمیت کی حامل نہیں، لیکن اس کے باوجود پورے ملک میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔بلاشبہ جنرل راحیل پاکستان ہی نہیں،بلکہ دُنیا کے بہترین جنرل ہیں اور انہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے تقریباً نجات دلا دی ہے، بہت سے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے ہیں جن سے مُلک کے اندر استحکام اور خوشحالی کی امید نظر آئی ہے۔ ان کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ ایسا کریں گے انتہائی نامناسب بلکہ بے وقوفی ہے۔ وہ ایک عظیم پروفیشنل جنرل ہیں۔ مُلک کو بطور چیف آف آرمی سٹاف ان کی مزید ضرورت ہے، لیکن بطور ایک آمر نہیں۔ ترکی کے واقعہ میں جنرل مشرف جیسے آمروں کے لئے سبق ہے۔ اگر جنرل مشرف سے قبل سویلین حکومتوں نے اپنی جڑیں عوام میں مضبوط کی ہوتیں اور مُلک کے ساتھ ایمانداری و وفاداری کا ثبوت دیا ہوتا تو پاکستانی عوام بھی جنرل مشرف کو کھینچ کر اقتدار سے علیحدہ کر سکتے تھے، لیکن اس کے باوجود جنرل مشرف کا عمل غیرقانونی اور ملکی آئین کے ساتھ غداری تھا۔ ترکی میں بھی فوجی ٹولے نے 12 اکتوبر 1999ء کی طرز پر تاریخ دہرانے کی کوشش کی لیکن طیب اردوان اور ان کی عوامی حمایت آڑے آ گئی۔ فوج کا کام مُلک کی حفاظت کرنا ہوتا ہے اقتدار چلانا نہیں، جبکہ حکمرانوں کا کام ایمانداری، وفاداری ، محنت اور ذہانت کے ساتھ مُلک کا نظامِ حکومت چلانا ہوتا ہے، کرپشن کرنا اور سوئس اکاؤنٹ بنانا نہیں۔ سیاست دانوں کو پہلے عوام کے دلوں میں اپنے لئے طیب اردوان جیسی عزت اور مقام پیدا کرنا ہوگا۔ اپنا شاہی طرزِ حکومت بدل کر مُلک کے ساتھ ایمانداری اور وفاداری کا ثبوت دینا ہوگا۔

مزید :

کالم -