غربت کے قیدی

غربت کے قیدی
 غربت کے قیدی

  

میرا تجسس پو رے جو بن پر تھا ،میری حسیا ت بیدار ہو چکی تھیں اور مَیں حیرت سے چاروں طرف ہزاروں قیدیوں کو دیکھ رہا تھا ،انسان اور اُس کی نفسیات اور رجحانات بچپن سے میرے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں ۔انسا ن اِس دنیا میں آنے کے بعد اپنی پرورش مزاج اور ماحول کے تحت مختلف قسم کے اظہار کرتا ہے ، نیکی کرے تو فرشتے وضو کریں ،برائی کرے تو شیطان بھی پناہ مانگے ،اگر آپ حضرت انسان کے رنگوں کا مطالعہ کریں تو حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ انسان یہ بھی کر سکتا ہے ۔ میرے چاروں طرف مختلف انسانوں کا سیلاب آیا ہواتھا، مَیں خو ش تھا کہ آج اونچی دیواروں کے پیچھے بیرکوں میں بسنے والی قیدی مخلوق کے مشاہدے کا مو قع ملا ہے۔ مختلف عمروں اور جسموں کے قیدی چاروں طرف تھے، سپرنٹنڈنٹ صاحب میرے چاہنے والے تھے، مَیں اُن سے قیدیوں کی معلومات لے رہا تھا کہ کس علاقے ،ذات کے لوگ زیا دہ جرائم کر تے ہیں ،اُن جرائم کے اسباب کیا ہیں ،جیل میں آکر اِن مجرموں پر کیا اثرات پڑتے ہیں ؟اپنی متجسس فطرت کے ہا تھوں مجبور ہو کر مَیں نے بہت سارے قیدیوں سے بات چیت بھی کی۔میری با ت چیت اور جیل کے عملے کی معلومات کے بعد جو حیران کن انکشاف ہوا وہ یہ کہ زیا دہ تر قیدی چھوٹے مو ٹے جرائم میں عرصہ دراز سے جیل میں پڑے ہو ئے تھے، بے شما ر قیدیوں کی سزائیں ختم ہو چکی تھیں۔ بے شمار غربت کی وجہ سے قانونی مشاورت اور مدد نہ ملنے کی وجہ سے قیدی تھے۔ قیدیوں میں اکثریت کمی کمین انسانوں کی تھی ،مو چی ،تر کھان ،جو لا ہے ،مصلی ،تیلی ،مزارع ،ان قیدیوں میں بڑی ذاتوں کے لو گ بہت کم تھے۔ ،مل اونر، سیاستدان، بڑے مذہبی راہنما ،اعلیٰ سرکاری افسران ۔کیا یہ لوگ جرائم نہیں کرتے۔ کیا پاکستان کی عدالتیں اور پولیس ان لوگوں پر گرفت نہیں کرتی، کیا یہ لو گ کسی عدالت سے سزا یا فتہ ہو کر جیل نہیں آتے، کیا اپر کلاس طبقے میں جرائم نہیں ہو تے ،کیا وہ لڑائی جھگڑے نہیں کر تے، کیا وہ دوسروں پر ظلم نہیں کرتے ؟

مَیں نے شدید حیرت کا اظہا ر کیا تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کمرے میں چائے کا کپ میرے ہا تھ میں تھما یا، بسکٹ کی پلیٹ میری طرف سرکاتے ہوئے زور دار قہقہہ لگا یا اور میری آنکھوں میں جھا نکتے ہو ئے کہا ۔۔۔پرو فیسر صاحب یہ حال صرف اِس جیل کا نہیں ہے۔ آپ پاکستان کی کسی بھی جیل کا وزٹ کر لیں، آپ کو ایسے ہی اعداد و شمار ملیں گے۔ پاکستان کی تمام جیلوں کا حال ایسا ہی ہے۔ آپ پاکستان کی کسی بھی جیل میں چلے جائیں، آپ کو اپر کلا س کا کوئی مجرم نہیں ملے گا۔ مَیں نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور ان کی طرف سوالیہ نظروں سے گھو رنا شروع کر دیا ،انہوں نے گرم چائے کا گھو نٹ اپنے حلق میں انڈھیلا اور کہا جنا ب وجہ صاف ہے کہ پاکستان میں با اثر اور دولت مند لوگ تھا نیدار اور تھانے کو خرید کر بر ی ہو جا تے ہیں۔ وہ علاقے کے تھانیدار کو اپنا ذاتی چوکیدار سمجھتے ہیں، جو تھانیدار اُن کے ٹکڑوں پر پلے گا، وہ اُن کو کیسے پکڑے گا اور اگر کو ئی ایسا جرم ہو جائے جو تھانیدار ہضم نہ کر سکتا ہو تو یہ اپنی جگہ اپنا کو ئی ملازم پو لیس کو پیش کر کے اپنا دامن چھڑا لیتے ہیں ،ججوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لیتے ہیں، اگر جج اِن کی بات نہ مانے تو یہ لاکھوں روپے دے کر چوٹی کا وکیل کر تے ہیں یا ایسے وکیل جو ججوں کے قریبی ہو تے ہیں، اگر یہ فارمولا بھی کام نہ کر ے تو گواہوں کوخرید لیتے ہیں یا گواہوں کو اغوا کرنے اور ما رنے کی دھمکیاں دے کر اپنی مرضی کی شہا دتیں دلاتے ہیں۔ مجھے آج بھی ایک وکیل صاحب یاد ہیں جب میرے جاننے والے نے اُن سے کہا کہ وہ کرا ئے کے مکان میں رہتے ہیں، مالک مکان مجھے گھر سے نکالنا چاہتا ہے، مَیں صرف چھ ماہ مزید رہنا چاہتا ہوں تو وکیل صاحب نے کہا کہ آپ چھ ماہ نہیں 6سال، بلکہ بیس سال رہیں ،پھر یہی ہو ا چند سال بعد ہی مالک مکان نے آکر ہاتھ جو ڑ دئیے تو کرا ئے دار پیسے لے کر گھر سے نکلا ،پاکستان میں با اثر لو گ اگر تمام چالاکیوں کے باوجود قا بو آجائیں، ان کو سزا ہو جا ئے تو یہ جیل کو ہی فائیو سٹار ہو ٹل میں تبدیل کرا لیتے ہیں، پھانسی کو عمر قید اور عمر قید کوقبل از وقت رہائی میں بد ل لیتے ہیں، اپنے اِن ہتھکنڈوں کی بد ولت یہ جیلوں سے دور رہتے ہیں ۔جرم کر نے کے با وجود آپ کو جیلوں میں اپر کلاس کے لو گ نظر نہیں آئیں گے۔ جیلوں میں بھرے ہو ئے قیدیوں کی اکثریت ایسی ہے جو اپنی غربت کی وجہ سے ،چھوٹے خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے، کسی بڑے بندے سے تعلقات نہ ہو نے کی وجہ سے اِن اونچی دیواروں کے پیچھے ٹھنڈی بیرکوں اور کال کو ٹھریوں میں قید ہیں ۔اِن کا جرم گنا ہ صرف غربت ہے۔

ہم مان لیتے ہیں کہ اِن جیلوں میں موجود قیدیوں نے چھوٹے مو ٹے جرائم کئے ہیں، مثلاً مسجد سے جوتے چرائے ،کسی دوکان سے کوئی عام چیز چرائی ،کسی کی جیب کاٹی،آپ ان کو سزائیں ضروردیں، تاکہ جرائم سے پاک ،صحت مند معاشرے کی تشکیل ہو سکے، لیکن وطن عزیز میں با اثر اورطاقت ور لوگوں کو کیوں نہیں پکڑتے جو انسانوں کو اپنے ڈیروں پر جانوروں اورکتوں کی طرح باندھتے ہیں۔ غلاموں کی طرح ہانکتے ہیں۔ نسل در نسل اِن بے چاروں کو قیدی بنا کررکھتے ہیں، اگر کبھی بھول کر اِن بیچاروں سے کو ئی غلطی ہو جائے تو اِن کو چمنیوں میں زندہ جلا دیا جاتاہے۔ زمین میں زندہ دفن کر دیا جاتاہے۔ پتھر باندھ کر نہروں میں زندہ بہا دیا جا تا ہے۔ ان انسانوں کو بول برازپینے پر مجبور کر دیا جا تا ہے۔ اِ ن کی نوجوان لڑکیوں کو اپنے حرم میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ ہما رے معا شرے کے طاقتور لوگ اربوں روپے کی غیر ملکی شراب پی جا تے ہیں۔ اربوں روپے جوئے میں ہا ر جا تے ہیں، جن کے منشیا ت کے اڈے نوجوانوں میں مو ت کا زہر اتارتے ہیں، جو شریف کا روباری لوگوں سے جگا ٹیکس وصول کر تے ہیں، جو سر عام اجتما عی آبرو ریزی کے تما شے لگا تے ہیں، جو یتیموں ،بیواؤں کی جائیدادوں پر قبضے کرتے ہیں جو تھانوں چوکیوں میں اپنے نوکروں کو بھرتی کروا کر چوکیداری پر مجبو ر کر تے ہیں، جو نوجوان لڑکیوں کو ننگا ناچ کرنے پر مجبو ر کرتے ہیں ،جو اربوں ڈالر ماڈلوں کے ذریعے ملک سے باہر بھیجتے ہیں۔ لوگوں کی ٹانگوں پر بم باندھ کر جگا ٹیکس لیتے ہیں جو اپنے حلقے اور شہر میں اپنی مرضی کے غلام افسر لگوا کر ہلا کو خان بنتے ہیں۔

خواتین ملازموں کو دور دراز ٹرانسفر کرواتے ہیں، تاکہ وہ اُن کے بیڈ روم تک آئیں تو تبا دلہ واپس ہو ،جو بینکوں کے بینک ڈکار گئے، جن کی رگوں میں خون کی بجا ئے منشیا ت کا رنگ ہو، تھانے، عدالتیں، جن کے گھر کی لونڈیاں ہوں، ایسے تما م مجرم تو آزاد ہیں اور جو مسجدوں سے جوتے چوری کریں، کسی دوکان سے یا گھر سے عام سستی چیز چرا لیں، ان کو کال کوٹھڑیوں میں بند کرکے چکی پیسنے پر مجبور کر دیں، کوڑے لگوائیں ،پھانسی چڑھیائیں، انصاف کے نعرے ماریں، اپنے زر خرید بھکاری ،دربا ری کالم نویسوں سے اپنی شان میں کالم لکھوائیں کیا۔ ہماری عدالتیں صرف ان غریبوں کے لئے ہی رہ گئی ہیں جو ان کے بیلنے میں آکر پھنس گئے ہیں۔ کیا پاکستان میں کو ئی ایسی عدالت ہے جو نسل در نسل پاکستان کو لوٹنے والوں کو پکڑ سکے، جو غریبوں کو پکڑنے کی بجائے کسی طاقت ور کو بھی پکڑے۔

کیا پاکستان صرف با اثر دولت مندوں کا ملک ہے اور یہاں پر غربت کے قیدی ہی قابل گرفت ہیں جو غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر چھو ٹا مو ٹا جرم کرکے جیلوں میں بھر دیئے جا تے ہیں۔ کا ش یہ سلوک با اثر لوگوں کے ساتھ بھی ہو ۔

مزید :

کالم -