اپنا ووٹ ضائع نہ کیجئے

اپنا ووٹ ضائع نہ کیجئے
اپنا ووٹ ضائع نہ کیجئے

  

آج 25 جولائی الیکشن کادن ہے اور 2018ء کے اس الیکشن میں پاکستان کے دس کروڑ انسٹھ لاکھ پچپن ہزار چار سو سات (105955407) رجسٹر ووٹر قومی اسمبلی کے لئے اپنے دو سو بہتر (272) نمائندے اور صوبائی اسمبلیوں کے پانچ سو ستتر (577) نمائندوں کا براہِ راست انتخاب کریں گے۔

ان میں پنجاب اسمبلی کے (297) سندھ اسمبلی کے (130) کے پی کے(99) اور بلوچستان اسمبلی کے(51) نمائندے شامل ہیں۔ 2013 ء میں پاکستان میں ووٹرز کی تعداد 86132751 تھی۔ 2018ء میں ووٹرز کی کل تعداد2013 ء کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی کل تعداد وہی ہے، جو 2013ء کے الیکشن میں تھی، مگر 2017ء کی مردم شماری کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی صوبائی تقسیم میں کچھ ردوبدل ہوا ہے۔

2013ء میں 272 کی کل تعداد میں پنجاب کی 148، سندھ کی 61 ، خیبر پختونخوا کی 35، بلوچستان کی 14 ، فاٹا کی 12 اور اسلام آباد کی 2 نشستیں تھیں۔ مردم شماری کے نتیجے میں پنجاب کی 141 (سات کم)، سندھ کی 61 (کوئی تبدیلی نہیں)، خیبر پختونخوا کی 39 (چار زیادہ)، بلوچستان کی 16 (دو زیادہ)، فاٹا کی 12 (کوئی تبدیلی نہیں) اور اسلام آباد کی 2 کی بجائے 3 ہو گئی ہیں۔

پنجاب میں 2013ء میں ووٹرز کی تعداد 49356022 تھی، جو 2018ء میں 17.6 فیصد اضافے کے ساتھ60672868 ہو گئی ہے۔ ان میں مرد ووٹروں کی تعداد 22.92فیصد اضافے سے 27766183سے بڑھ کر 33680000 ہو گئی ہے۔

خواتین ووٹرز کی تعداد 21589839 سے بڑھ کر 26990000ہو گئی ہے اور یہ اضافہ 25 فیصد ہے۔ پنجاب میں اوسطاً 430304 ووٹر قومی اسمبلی ہر نشست کے لئے اپنے 141 نمائندے اور اوسطاً204296 افراد صوبائی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 297 نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

سندھ میں 2013ء میں ووٹر ز کی تعداد 18719601 تھی، جو 2018 ء میں 19.61 فیصد کے اضافے کے ساتھ22391244 ہو گئی ہے۔

ان میں مرد ووٹروں کی تعداد 16.92فیصد اضافے سے 10334464سے بڑھ کر 12440000 ہو گئی ہے۔خواتین ووٹرز کی تعداد 8385137 سے بڑھ کر 9950000ہو گئی ہے اور یہ اضافہ 18.66 فیصد ہے۔سندھ میں اوسطاً 367069 ووٹر قومی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 61 نمائندے اور اوسطاً172240 افراد صوبائی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 130 نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

کے پی کے میں 2013ء میں ووٹرز کی تعداد 12334987تھی ،جو 2018 ء میں 24.1 فیصد کے اضافے کے ساتھ15316299 ہو گئی ہے۔ ان میں مرد ووٹروں کی تعداد 23.4 فیصد اضافے سے 7058504سے بڑھ کر8710000ہو گئی ہے۔خواتین ووٹرز کی تعداد 5276483 سے بڑھ کر 6610000ہو گئی ہے اور یہ اضافہ 25.27 فیصد ہے۔ کے پی کے میں اوسطاً 392725 ووٹر قومی اسمبلی ہر نشست کے لئے اپنے 39 نمائندے اور اوسطاً154710 افراد صوبائی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 99 نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

بلوچستان میں 2013ء میں ووٹرزکی تعداد 3349159 تھی، جو 2018ء میں 28.37 فیصد کے اضافے کے ساتھ4299494 ہو گئی ہے۔ ان میں مرد ووٹروں کی تعداد 29.39 فیصد اضافے سے 1924402سے بڑھ کر 2490000ہو گئی ہے۔

خواتین ووٹرز کی تعداد 1424757سے بڑھ کر 1810000ہو گئی ہے اور یہ اضافہ 27.04 فیصد ہے۔بلوچستان میں اوسطاً 268718 ووٹر قومی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 16نمائندے اور اوسطاً 84304 افراد صوبائی اسمبلی کی ہر نشست کے لئے اپنے 51 نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

اسلام آباد میں ووٹروں کی تعداد میں 143621 ووٹروں کا اضافہ ہوا،جو 2013ء کے مقابلے میں 621727 سے بڑھ کر2018ء میں 765348ہو گئی۔ یہ اضافہ 23.1 فیصد ہے۔یہاں مرد ووٹر 2013ء کے مقابلے میں 335170 سے بڑھ کر 2018ء میں 407463 ہوگئے۔یہ ا ضافہ21.57 فیصد ہے۔

خواتین ووٹرز کی تعداد 286557، جو 2013ء میں تھی، 24.89 فیصد کے اضافے سے بڑھ کر 357885 ہو گئی ہے۔یہاں کے ووٹر قومی اسمبلی کے لئے اوسطاً 255116 ووٹ فی نشست کے حساب سے تین نشستوں کا انتخاب کریں گے۔

فاٹا میں 2013ء میں کل ووٹ 1751255 تھے، جن میں مردوں کے 1153374 اور عورتوں کے 597881 ووٹ تھے۔ 2018ء میں 43.33 فیصد اضافے سے مجموعی ووٹ 2510154, ،مردانہ ووٹ 30.7 فیصداضافے سے 1507902 اور زنانہ ووٹ 67.63 فیصداضافے سے 1002252 ہو گئے۔ فاٹا کی قومی اسمبلی میں بارہ سیٹیں ہیں۔

الیکشن کمیشن میں 117 جماعتیں اور دو الائینس رجسٹر ہیں۔ ان میں سے 107 جماعتیں مختلف نشانات کے تحت الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ۔

کل 331 نشانات میں چند ایک کے سوا باقی ہر نشان کسی نہ کسی آزاد امیدوار کو الاٹ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے 769 ہیں۔

اس کے بعد دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی 642 تیسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) 639 چوتھے نمبر پر متحدہ مجلس عمل 583 اور پانچویں نمبر پر تحریک لبیک556 امیدواروں کے ساتھ میدان عمل میں ہیں۔ تحریک لبیک کے اتنے امیدواروں کا الیکشن لڑنا یقیناحیران کن اور پریشان کن ہے۔

آج ہم سب نے اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا آئندہ حکمران کون ہو گا۔ اپنی امیدوں اور اپنی آس کو پوری ہوتے دیکھنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ ووٹ ضائع نہ کریں۔ اپنی سمجھ اور سوجھ بوجھ کے مطابق ووٹ دیں آپ کاصحیح ووٹ اس مُلک کے بہتر مستقبل کا ضامن ہے۔ 

مزید : رائے /کالم