گھروں سے نکلیں اور دبا کر ووٹ دیں

گھروں سے نکلیں اور دبا کر ووٹ دیں
گھروں سے نکلیں اور دبا کر ووٹ دیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

1979ء کے مقابلے میں آج پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ایک دو نہیں پورے ایک سو قدم پیچھے ہٹ چکی ہے وگرنہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی جسٹس ایس غلام صفدر شاہ کی طرح افغانستان کے راستے فرار ہو کر لندن میں پناہ لینا پڑتی۔ 2018ء کا انتخاب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی آخری دولتیاں (Dying Kicks)ثابت ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے مارچ اپریل میں 2018ء کے انتخابات کو عدلیہ کے خلاف ایک ریفرنڈم قرار دے دیا تھا ۔ اگر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے سالانہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹی طاقتوں کو اخباری مالکان شکست دے سکتے ہیں تو 2018ء کا عام انتخاب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں کیونکہ جو چند صحافیوں کو قابو نہ کر سکے وہ پوری قوم کو کیسے قابو کریں گے؟2018ء کے انتخابات کے حوالے سے کئے جانے والے سپانسرڈ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی سرووں میں پی ٹی آئی آگے نظر آرہی ہے ، ملک میں ایک ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آرہی ہے اور سینٹ کے بعد اسٹیبلشمنٹ قومی اسمبلی میں بھی سنجرانی فارمولہ نافذ کرنے جا رہی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی طرح کہلوایا جارہا ہے جس طرح نواز شریف کو غدار کہلوایا گیا تھا، چور کہلوایا گیا تھا اور مودی کا یار کہلوایا گیا تھا۔ خواہش کو خبر بنانے والے اور اس پر تجزیوں کی عمارت قائم کرنے والے ہر رات پی ٹی آئی کو جتوا کر سوتے ہیں اور صبح ان کے تجزیے کی دیوار گری ہوتی ہے جسے وہ پھر سے اسارنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہمارے ٹی وی چینلوں پر انٹی نواز فورسز اکٹھی ہو چکی ہیں ۔ مشہور انگریزی مصنف جارج اورول کے مشہور زمانہ ناول ’1984ء‘میں بالکل ایسی ہی صورت حال کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ کے بھونپو عوام کو پرانے لفظوں کے نئے معنی گھڑ گھڑ کر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں نون لیگ کی 125نشستیں تھیں ، اگر اسٹیبلشمنٹ کے بھونپو باز نہ آئے تو اس مرتبہ یہ نشستیں 225ہو جائیں گی۔ ان کا ایکا اور گٹھ جوڑ ایک طرف، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نواز شریف کے چاہنے والے بھی بے شمار ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ بھٹو کے خلاف اپوزیشن بہت بعد میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی نواز شریف کے خلاف تو اپوزیشن خود اسٹیبلشمنٹ نے بنائی ہے ۔

ہنگ پارلیمنٹ ہو، سنجرانی ماڈل ہو یا پھر عمران کی حکومت ہو ....یہ تینوں ماڈل اسٹیبلشمنٹ کی آواز ہیں جبکہ انتخابات عوام کی آواز ہیں اور عوام کی آواز نون لیگ ہے۔ عوام کے نبض شناس الیکٹیبلز اس لئے نہیں ہوتے کہ وہ تو اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے ہوتے ہیں ، انہیں جدھر ہانکا جاتا ہے وہ گدھے ادھر چل پڑتے ہیں ۔

البتہ سیاسی جماعتوں کے ٹکٹوں کے امیدوار ضرور عوام کے نبض شناس ہوتے ہیں تو جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے اس کی ٹکٹ لینے کے لئے احتجاج صرف اس نے کیا ہے جسے پارٹی نے نظر انداز کرکے اس کی جگہ کسی لوٹے کو پارٹی کا ٹکٹ تھمادیا ہے ۔ دوسری جانب نون لیگ میں لوٹے نہیں آئے ہیں بلکہ نون لیگ تو انہیں بیت الخلا میں پہنچانے کا عزم لئے ہوئے ہے ۔

اس لئے ٹکٹوں کے امیدوار وں کا پیمانہ لے کر اگر عوام کی نبض پڑھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نون لیگ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنی جگہ ڈٹ کرکھڑے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کسے منتخب کرنے جا رہی ہے۔

اسی طرح عوام کی نبض کو ماپنے کا ایک اور طریقہ مختلف سیاسی جماعتوں کے جلسوں کی حاضری ہوتا ہے ۔ اس پیمانے پر ماپا جائے تو صرف پی ٹی آئی ہی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے لیڈر نے خالی کرسیوں سے خطاب کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔ شہباز شریف نے تو طنز بھی کیا تھا کہ عمران خان کی کرسیاں بھی خالی ہیں اور دماغ بھی خالی ہے ۔

ٹی وی پر ایک جگہ شہباز شریف تقریر کر رہے تھے اور جب انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا عمران خان، بہتان خان اور الزام خان تو ہمارے چھوٹے بیٹے نے حیرت سے پوچھا یہ تینوں آپس میں بھائی ہیں !....دوسری جانب جب نون لیگ نے نواز شریف کے استقبال کے لئے استقبالی ریلی نکالی تو نگران حکومت کو کنٹینر لگا کر لوگوں کو آنے سے روکنا پڑا تھا ۔

پی ٹی آئی والے تو ابھی تک زمان پارک کے باہر ڈھنگ کا مجمع نہیں لگا سکے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینل کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سے مزار قائد کا گراؤنڈ بھی نہیں بھرا جا سکا ہے ۔

اس بار لوگوں نے اسے شکست دینی ہے جس کے خلاف وہ بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ، پاکستانی قوم کو جب جب موقع ملا ہے اس نے استبدادی قوتوں کو شکست دی ہے ، وہ مولوی ہو، ملٹری ہو یا کوئی اور موم کا گڈا ، جیسے کہ آج کل عمران خان بنے ہوا ہے۔ اگر ضیاء الحق 90روز میں انتخابات کرواتا تو بھٹو کو ویسی ہی فتح حاصل ہونا تھی جیسی کہ آج نواز شریف کو ہونے جا رہی ہے ، بھٹو کی پذیرائی بھی ویسے ہی ہونی تھی جیسے آج نواز شریف کی ہونے جا رہی ہے۔

عوام گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے کے لئے تیار ہیں، پاکستان ووٹ پر بنا تھا ، پاکستان میں جبر کے کلچر کا خاتمہ بھی ووٹ سے ہوگا۔ آج ہماری اسٹیبلشمنٹ کو گلہ ہے کہ اس کے خلاف دنیا بھر میں لکھا جا رہا ہے ، نواز شریف بات کر رہے ہیں ۔ حالانکہ خود اس کے سابق افسروں نے کتابوں پر کتابیں لکھ ماری ہیں کہ کس الیکشن میں انہوں نے کیا کردار ادا کیا تھا اور کس طرح نتائج کو کنٹرول کیا تھا۔

اس لئے آج اگر نوا زشریف کہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے نہ پیپلز پارٹی سے بلکہ خلائی مخلوق سے ہے تو اس میں غلط کیا ہے ؟جہاں تک دھاندلی کا تعلق ہے تو پر ی پول دھاندلی پر تو بین الاقوامی میڈیا بھی چیخ اٹھا ہے لیکن جہاں تک انتخابات کے دن دھاندلی کا تعلق ہے تو ہمارا کامل یقین ہے کہ اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی گرو اپنے پٹھے کو اکھاڑے میں اترنے سے پہلے جتنے بھی گر بتائے سو بتائے ، اکھاڑے میں اس کے ساتھ کبھی نہیں اترا ہے ، وہاں اس کا پٹھہ لڑتا ہے یا پھر اس کا مقدر لڑتا ہے ۔ چنانچہ آج کے دن پی ٹی آئی کو اپنی عوامی حمائت کی قوت پر ہی لڑنا ہوگا ، آج تو پنکی پیرنی کی دعائیں بھی کام نہیں دکھائیں گی کیونکہ اگر ان دعاؤں میں اتنا اثر ہوتا تو پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری کے جلسے میں عمران خان خالی کرسیوں سے خطاب نہ کر رہے ہوتے۔

اگر دھاندلی ہوئی تو پاکستان کے عوام نہیں مانیں گے ، پاکستان کی سیاسی جماعتیں نہیں مانیں گی ، انٹرنیشنل آبزور نہیں مانیں گے ...جہاں اتنے سارے نہ ماننے والے ہوں گے وہاں ایک اکیلی پی ٹی آئی کے ماننے سے کیا فرق پڑے گا کیونکہ پی ٹی آئی کو اگر پنجاب میں نون لیگ ایسی چٹان کا سامنا ہے تو خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی ،متحدہ مجلس عمل ، نون لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا، اسی طرح کراچی میں پیپلز پارٹی، ایم کیوایم، اے این پی اور نون لیگ کا سامنا ہوگا او ر بلوچستان میں محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن کے امیدوارون کا سامنا ہوگا۔

دوسرے الفاظ میں پی ٹی آئی کو پاکستان بھر میں کہیں بھی cat walkنصیب نہیں ہوگی ، اسے کہیں سے بھی واک اوور نہیں ملے گا۔ حتیٰ کہ اگر انتخاب کے بعد بھی ساری جماعتیں اپنی اپنی عددی طاقت کے ساتھ باہم مل گئیں تو بھی پی ٹی آئی کی آتما رل جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ ہاتھ ملتی رہ جائے گی۔

آج کے انتخاب میں ایک بات طے ہے کہ آج پنجاب میں صرف دو جماعتوں کو ووٹ پڑے گا ، نون لیگ اور پی ٹی آئی کو اور ان کے علاوہ کوئی تیسری جماعت تو کجا آزادامیدوار بھی بغلیں جھانکتے نظر آئیں گے ۔

دوسری بات جو پنجاب کی حد تک طے ہے یہ ہے کہ پنجاب سے نون لیگ واضح اکثریت کے ساتھ پی ٹی آئی سے آگے ہوگی اور اگلی اسمبلی میں نو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جو شہباز شریف کی موجودگی میں اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی قابل قبول ہوگا۔ اس لئے گھروں سے نکلئے اور دبا کر ووٹ دیجئے !

مزید : رائے /کالم