اکرام اللہ خان گنڈا پور پر خودکش حملہ، زندہ بچ جانیوالا پولیس اہلکار اب کہاں اور کس حال میں ہے؟ ایسی خبرآگئی کہ ہرپاکستانی کا دل خون کے آنسوروئے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔

25 جولائی 2018 (15:40)

ڈیرہ اسماعیل خان، لاہور (محمد زبیراعوان)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءاور حلقہ پی کے 99ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار اکرم اللہ خان گنڈا پور پر گھر سے نکلتے ہی تین روز قبل خودکش حملہ ہواتھا جس کے نتیجے میں وہ اپنے گارڈ سمیت شہید اور تین افراد زخمی ہوگئے تھے ،حملے کا نشانہ بننے والے گاڑی میں موجود اکرام اللہ گنڈا پورا کے ڈرائیور رمضان اور دوسیکیورٹی گارڈز دلنواز اور عبدالرزاق کو ابتدائی طورپر ڈیرہ اسماعیل خان کے ہی سول ہسپتال اور پھر پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیاگیاتھا لیکن اب وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، روزنامہ پاکستان کو ایسی تفصیلات موصول ہوگئی ہیں کہ جان کر آپ کو خیبرپختونخوا کی انتظامیہ  کی غفلت اور بے حسی پر شدید دکھ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق کولاچی کے علاقے میں گھر سے تھوڑی دوری پر ہی خودکش حملہ آور کا نشانہ بننے والی گاڑی میں مجموعی طورپر پانچ افراد سوار تھے جن میں سے اکرام اللہ خان گنڈاپور ہسپتال منتقلی کے دوران ہیلی پیڈ پر جبکہ ایک محافظ دلنواز پشاور کے ہسپتال میں انتقال کرگیا۔ سابق یوسی ناظم درابن نجیب شاہ معمولی زخمی ہونے کی وجہ سے گھر پر موجود ہیں۔ڈرائیور محمد رمضان پشاور کے ہی سی ایم ایچ میں تاحال زیرعلاج ہے ۔دوسری طرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں عبدالرزاق کی ٹانگ کاآپریشن کیاگیا جس کے بعد اسے ہسپتال کی ہی آرتھوپیڈک وارڈ میں منتقل کردیاگیا،جہاں دو روز گزرجانے کے بعد پٹی بدلی گئی اور نہ ہی کسی نے زخموں کا معائنہ کیا،لواحقین کی طرف سے پٹی تبدیل کرنے کو کہاگیا تو انتظامیہ کی طرف سے مثبت ردعمل نہیں دیاگیا۔

مریض کے بھائی نے ڈیلی پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہسپتال کے عملے نے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا ،کوئی چیک کرنے یا درد میں آفاقہ دینے والے بھی نہیں آتا بلکہ ایکسرے وغیرہ کروانے بھی لواحقین کو بھجوایا جاتا رہا اورایکسرے روم تک پہنچنے کا راستہ بھی صاف نہیں، سڑک اکھڑی ہے جس کی وجہ سے مریض کو مزید اذیت ہوتی ہے۔ اب عبدالرزاق کو پٹی تبدیل کیے بغیر ہی ڈسچارج کردیا گیا ، ایکسرے کروا نے کے لیے مریض کو سٹریچر پر ڈالا اور پھر روک لیا کہ جاتے ہوئے ایکسرے کروا لینا، ڈسچارج کررہے ہیں لیکن اس دوران کافی وقت گزرجانے کی وجہ سے سٹریچر سے مریض کو اٹھا کر بیڈ پر لٹانے کی کوشش کی گئی تو بھی منع کردیاگیا، لواحقین کے ہسپتال چھوڑنے سے انکار کرنے پر واپس ڈیرہ اسماعیل خان ریفرکردیاگیا۔ویڈیو دیکھئے 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان مریض کو واپس لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم کرنے کے لیے بات کی تو انہوں نے صاف انکار کردیا ، لواحقین نے پشاور اور ڈی آئی خان پولیس کا شکریہ اداکرتے ہوئے ڈی آئی جی اور ریجنل پولیس آفیسر سے درخواست کی ہے کہ کسی اچھے ہسپتال میں علاج کا بندوبست کرائیں، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پٹی بھی نہ بدلی جاسکی، دیگرزخمیوں کے برعکس دھماکے کے زخمیوں کو زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں بارودی مواد لگے لوہے کے ٹکڑوں نے زخمی کیاتھا۔

مزیدخبریں