دورہ امریکہ، عمران خان کو توقع سے بڑھ کر پذیرائی ملی

دورہ امریکہ، عمران خان کو توقع سے بڑھ کر پذیرائی ملی

واشنگٹن سے اظہر زمان کا تجزیہ

غیر جانبدار تو ایک مبہم اصطلاح ہے، لیکن میرے سمیت حقیقت پسند اور آزاد مبصرین کے نزدیک وزیراعظم عمران خان کا امریکہ کا تین روزہ سرکاری دورہ عمومی طور پر کامیاب رہا ہے۔ یہ Relevant تجزیہ ہے۔ مطلب یہ کہ اس دورے کے ایجنڈے یا اصل مقاصد پر مبنی ہے۔ اس حوالے سے اگر کچھ خواہشات اور توقعات اگر عمران خان لے کر ہی نہیں گئے تھے تو اس پیمانے پر اس دورے کو پرکھنا نہیں چاہئے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی خواہش تھی کہ افغانستان میں گزشتہ اٹھارہ انیس سال سے جاری خونریزی کو ختم کرنے اور اس جنگ سے باہر نکلنے کا امریکہ کو باوقار طریقہ فراہم کرنے کیلے قیام امن کے عمل میں بہتر انڈر سٹینڈنگ پیدا کی جائے۔ عمران خان اور ان کی حکومت کو اس لحاظ سے توقع سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بدلحاظ اور منہ پھٹ لیڈر نے جس طرح مسکرا مسکرا کر عمران خان اور ان کے وفد کی بلائیں لیں وہ پاکستان کیلئے تو خوشگوار حیرت کا باعث بنتی تھیں، اس سے بجاطور پر نئی دہلی میں کھلبلی مچ گئی۔ امریکہ سے سرمایہ کاری، تجارت میں اضافہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون کی یقین دہانی کی خوشخبریاں ہی حکومت کو درکار تھیں جو توقع سے بڑھ کر مل گئیں۔ عمران خان امداد لینے نہیں گئے تھے اور اگر امداد نہیں ملی تو یہ ان کی ناکامی کیسے ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں امداد سے نفرت ہے تو یہ بات درست نہیں ہے۔ وہ اپنے ہسپتال کیلئے بھی تو امداد حاصل کرتے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ امداد کی بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ ویسے بھی اگر کسی حکومت یا ادارے کی طرف سے قرض یا گرانٹ ملتی ہے تو وہ پاکستان یا اس کی حکومت کو ملے گی جس سے اس کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں تو ملکی اور قومی مفاد کے نقطہ نظر سے اس سے انکار درست نہیں ہے، لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کیلئے فوری طور پر قرضوں اور گرانٹس کی ضرورت ہے اور اگر اس کی پیشکش باوقار انداز میں ہوتی ہے تو اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم عمران اور ان کے وفد کو صرف وائٹ ہاؤس میں کامیابی نہیں ملی۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ پینٹاگون کے حکمت کاروں کو متاثر کرکے آئے ہیں۔ کیپیٹل ہل میں قانون سازوں سے سفارتکاری بھی خاصی نتیجہ خیز نظر آتی ہے۔ اس لئے امریکی ذرائع سے ہمیں جو اشارے ملے یں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر سے شروع ہونے والے امریکہ کے آئندہ مالی سال میں پاکستان کو ایک ارب تیس کروڑ کی اقتصادی امداد کے ساتھ کچھ خیر واضح سیکیورٹی امداد بھی مل سکتی ہے۔ آئندہ سال کا بجٹ ایڈوانس مرحلے میں ہے لیکن اگر کانگریس رضا مند ہو تو وہ کسی بھی وقت ترمیم کرسکتی ہے۔آپ پچھلے برس صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی جامع حکمت عملی کے اعلان کے وقت پاکستان پر سخت بداعتمادی کے اظہار کو سامنے رکھیں، اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد سوموار کی شب پاکستان سفارت خانے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اتنے بڑے دعوے پر نظر دوڑائیں کہ اب پاکستان کی حکومت، پاکستان کی فوج اور امریکہ تینوں ایک صفحے پر ہیں۔ ان کی مراد ظاہر ہے افغانستان کے حوالے سے سیکیورٹی پالیسی سے ہے۔ اس وقت جو منظر آرہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہمیں پاکستانی وزیر خارجہ کے دعوے کے خلاف کوئی دلیل نہیں ملتی۔ یہ یقینا پاکستان کی نئی حکومت کی ڈپلومیسی کی کامیابی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہو رہا ہے جو اقتدار سنبھالنے سے قبل امریکہ مخالف شہرت رکھتے تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جو صفحہ دکھایا ہے جس پر پاکستان کی حکومت، فوج اور امریکہ بیک وقت موجود ہیں اس سے ہمیں بنیادی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہم ایک اضافہ یا وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس پر بحوالہ پینٹاگون وائٹ ہاؤس کا ایک Foot Note بھی نظر آرہا ہے، اس کو واضح کرنے کیلئے کچھ تفصیل درکار ہے۔ پاکستانی آرمی چیف نے پینٹاگون کو افغانستان کے حوالے سے سیکیورٹی سطح پر جس تعاون کا یقین دلایا وہ یقینا امریکہ کیلئے اطمینان بخش ہے، لیکن فائنل خبر کے مطابق افغان سرحدی علاقوں میں پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے بارے میں پاکستانی فوج کی کوششوں پر شاید اب عمومی طور پر شبہ نہ ہو، لیکن پینٹاگون کو اب بھی یقین ہے کہ ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ وہاں چند ایک ایسے گروہ ضرور موجود ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز بوجوہ نظر انداز کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پہلے یہی معاملہ امریکہ کی طرف سے شدید نکتہ چینی کا باعث بنتا ہے اور اب اسے کیوں قبول کیا جا رہا ہے، جواب طویل ہے۔ مختصراً یہ کہ امریکہ کی انخلاء کی نئی سٹریٹیجی میں اس پر سمجھوتہ کرلیا گیا ہے۔ ویسے بھی اگر امریکہ اپنے فوجیوں اور اپنے سازو سامان کے ساتھ وہاں سے نکل جاتا ہے تو پھر ان پناہ گاہوں پر اعتراض غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ جب وہ لوگ افغانستان کے نئے سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں گے تو پھر انہیں بھلا پناہ گاہوں میں چھپ کر وار کرنے کی کیا ضرورت باقی رہے گی۔

یہ حقیقت ہے کہ عمران خان اور ان کے وفد کے ارکان واشنگٹن کے سرکاری حلقوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے پاکستان کو لوٹا اور کرپشن کا مال باہر بھیجا۔ ملک پر قرضے چڑھائے۔ اب ان کے پیدا کردہ مشکل معاشی حالات پر قابو پانے کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ اس میں مخلص ہیں اور بالآخر اس میں کامیاب ہو کر عام آدمی کے حالات بہتر بنا سکیں گے۔ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان کی امریکہ میں کامیاب ڈپلومیسی کے نتیجے میں قرضوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری ہو گی۔ ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مصنوعی طریقے کی بجائے قدرتی انداز میں بہتر ہو گا۔ تجارت اور صنعت کاری تیز رفتاری سے بڑھے گی اور جیسا کہ عمران خان نے پاکستانیوں کو یقین دلایا ہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن سے لوٹی ہوئی دولت واپس آنے اور ٹیکسوں کی وصولی کے ذریعے عام آدمی کے حالات بہتر ہوں گے۔ روزگار اور تجارت میں اضافے سے خوشحالی آنے سے اس حکومت کے مخالف مہنگائی کا پروپیگنڈہ دم توڑ جائے گا۔ ایک لحاظ سے یہ دورہ ناکام رہا ہے کیونکہ عمران خان جب واشنگٹن سے رخصت ہوئے تو صدر ٹرمپ نے ان کی برابر کی نشست پر عافیہ صدیقی کو بٹھا کر پاکستان نہیں بھیجا۔ یہ رائے ہماری نہیں مولانا سراج الحق کی ہے۔ مولانا یقیناً سچے کھرے مخلص دیانتدار سیاسی کارکن ہیں جن کے مداحوں میں ہم بھی شامل ہیں لیکن حضرت دو ملکوں کے سربراہوں کے درمیان اپنے اپنے قومی مفادات کے مطابق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اتنی معمولی باتیں زیر بحث نہیں آتیں۔ امریکہ کے ساتھ بڑے بڑے معاملات پر مفاہمت اور انڈرسٹینڈنگ کے اس نئے دور کے آغاز کے بعد ہو سکتا ہے پاکستانی سفیر کی سطح پر کسی وقت ڈاکٹر شکیل آفریدی اور عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات ہو سکتی ہے جو پھر نتیجہ خیز بھی ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی یقیناً ایک ایسا پاکستانی ہے جو بچوں کی صحت کی سماجی خدمت سرانجام دے رہا تھا جن کی تنظیم گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلاتی تھی۔ ان سے یقیناً یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد کیلئے اس کے کمپاؤنڈ کا پولیو کے قطرے پلانے کے بہانے جائزہ لیا۔ یہ غلطی تو پاکستانی حکومت بھی کر رہی تھی۔اسامہ بن لادن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ پاکستان میں چھپا ہوا ہے جس کی تلاش پاکستان کی حکومت، فوج اور سکیورٹی اداروں کو بھی تھی۔ ڈاکٹر آفریدی نے پاکستانی حکومت سے چھپ کر سی آئی اے کو جو معلومات دیں وہ یقیناً قابل اعتراض ہیں لیکن بنیادی مقصد تو نیک تھا یعنی ایک بین الاقوامی دہشت گرد کو گرفت میں لانا۔ وہ پاکستانی عدالتوں کو اپنے موقف پر قائل کرنے میں ابھی تک ناکام ہے اسی لئے جیل میں ہے۔ خیال رہے کہ شکیل آفریدی پاکستانی ہے اس پر امریکہ سے زیادہ پاکستان کا حق ہے۔ جہاں تک عافیہ صدیقی کا تعلق ہے وہ بھی بنیادی طور پر پاکستانی ہے جو امریکہ منتقل ہو کر پاکستانی امریکن بن گئی۔ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد نے متعدد مرتبہ عافیہ صدیقی کی القاعدہ کیلئے خدمات کا ذکر کیا اس کا مبینہ طور پر دوسرا خاوند جو خالد شیخ کا بھانجا ہے وہ بھی گوانتاناموبے کی جیل میں قید ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو اس سے ہمدردی ہونی چاہئے لیکن اس کا ریکارڈ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا واقعی اس نے القاعدہ کی دہشت گرد کارروائیوں میں مدد کی۔ اگر یہ درست نہیں ہے تو اسے اپنا ریکارڈ درست کروانا چاہئے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کو بھلا کر انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت اسے ایک خاتون سمجھ کر رہائی ملنی چاہئے اور ہو سکتا ہے پاکستانی حکومت امریکہ کا اعتماد حاصل کر کے اسے مستقبل میں کبھی رہا بھی کرا لے۔ اس دورے کا ایک غیر متوقع خوشگوار بونس عمران خان کو صدر ٹرمپ کی کشمیر کے مسئلے پر ثالثی پر رضا مندی کی صورت میں ملا۔ معاملہ سودے بازی کا نہیں ہے لیکن انٹرنیشنل ڈپومیسی میں کارڈ کھیلے جاتے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔ جواب میں پاکستان بھی حق بجانب ہے کہ وہ صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرے کہ وہ اس مسئلے پر بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائے اور اپنی ثالثی میں مسئلے کو مستقل طور پر حل کرائے۔ 

تجزیہ اظہر زمان

مزید : تجزیہ