غیر ملکی نصابی کتب میں قابل ِ اعتراض مواد؟

غیر ملکی نصابی کتب میں قابل ِ اعتراض مواد؟

  

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کیمبرج اور آکسفورڈ کی نصابی کتب میں قابل ِ اعتراض مواد کے باعث31 پبلشروں کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رائے ناصر نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ان نصابی کتابوں میں ہمارے قومی ہیروز اور ملکی سالمیت کے خلاف مواد پایا گیا ہے۔ کیمبرج کی کتابوں سے طلباء کو دہشت گردی کی ترغیب ملتی ہے اور آکسفورڈ کی کتابوں میں واضح طور پر پاکستان کو کمتر اور بھارت کو برتر بتایا گیا ہے، اِس لئے ابتدائی چھان بین کے بعد31پبلشروں کی نصابی کتب پر پابندی عائد کی گئی اور مزید دس ہزار کتابوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ایک ذمہ دار ادارے کے سربراہ کا یہ انکشاف بہت ہی چونکا دینے والا ہے کہ انگلش میڈیم نجی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی بعض کتب میں ایسا مواد پایا گیا جو قومی سلامتی کے بھی خلاف ہے۔ یہ ادارے وہ ہیں جو تمام تر نصاب غیر ملکی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان میں داخلہ بھی مشکل اور اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ جو طلباء پڑھتے ہیں،ان کی اکثریت کا تعلق اشرافیہ کے طبقے سے ہوتا ہے اور والدین کے خیال میں ہمارے اپنے ملک کے اندر ہی غیر ملکی تعلیم حاصل ہو جاتی ہے اور بعد میں ان بچوں کی اچھی خاصی تعداد بیرون ملک پڑھنے کے لئے چلی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت پورے ملک میں تعلیمی نصاب میں یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وفاقی وزیر تعلیم کا موقف ہے کہ یہ آئندہ سال تک ہو جائے گا، پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے انکشاف اور اقدام سے یہ واضح ہوا کہ نصاب کی تبدیلی کے یکسانی مطالبات میں وزن ہے۔پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کو اپنی کارروائی کی تفصیلات سے بھی عوام کو آگاہ کرنا چاہیے،اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ ضروری ہے کہ تمام نصابی کتب اندرون ملک تیار ہوں، سکول کی سطح پر غیرملکی کتابیں رائج کرنے کی بدعت ختم کی جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -