نیب اور اپوزیشن……”اب پچھتائے کیا ہووت؟“

نیب اور اپوزیشن……”اب پچھتائے کیا ہووت؟“
نیب اور اپوزیشن……”اب پچھتائے کیا ہووت؟“

  

پنجابی کی ضرب المثل ہے ”ہتھاں دِیاں دِتیاں، دنداں نال کھولنیاں پیندیاں نیں“ مطلب یہ کہ جو گانٹھیں آپ ہاتھوں سے لگاتے ہیں، ان کو کھولنے کے لئے زیادہ قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی ہی صورتِ حال ہماری قومی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی بھی ہے،جو پورے زور شور سے نیب کے پیچھے پڑی ہوئی اور موجودہ ادارے کو ختم کر کے نیا احتسابی قانون اور ادارہ بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ خواجہ برادران کی درخواست ضمانت کی منظوری کے حوالے سے عدالت ِ عظمےٰ کی ڈویژن بنچ نے جو تفصیلی فیصلہ لکھا اور اب بھی فاضل عدالت ِ عظمےٰ نے نیب کے حوالے سے جو ہدایات جاری کی ہیں،اسی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کو نیا حوصلہ ملا اور اسی کے پیش ِ نظر تنقید اور اعتراض کی بوچھاڑ کی جا ری ہے، حتیٰ کہ نیب کے فاضل چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ان حضرات کو بخوبی علم ہے کہ نیب چیئرمین کی مدتِ ملازمت متعین ہے اور ان کی برطرفی محترم جج حضرات کی طرح سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس سے ممکن ہے۔ شاید اسی لئے ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا ہے۔ یہ تنازعہ چل رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ تو نیب کی وہ کارروائیاں ہیں جو مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف ہوئیں یا ہو رہی ہیں۔

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کو تو سزا بھی ہو چکی اور وہ لوگ ضمانت پر ہیں۔ سابق قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ جیل میں اور ان کے رہنما جناب آصف علی زرداری کراچی میں اپنے گھر پر محدود ہو کر رہ گئے اور اپنی شہرت کے مطابق جوڑ توڑ بھی نہیں کر پا رہے، ان کے صاحبزادے اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پارلیمنٹیرین نہیں،اس کے صدر آصف علی زردری ہیں) بلاول بھٹو زرداری سخت جدوجہد میں پھنس گئے۔اللہ لگتی کہیں تو اسی نیب ہی کی بدولت وہ تاحال پارٹی کی تنظیم نو کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں کر پا رہے،اور اسی محاذ آرائی میں اُلجھ گئے ہیں،جو تحریک انصاف کے لئے مفید ہے۔ ہمارے سدھ بدھ رکھنے والے سیاسی دانشور حضرات کا تو خیال ہے کہ اس وجہ سے بلاول سے وہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں،جو محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کے جانشین سے متوقع تھیں، جہاں تک ہمارا ذاتی تعلق ہے تو ہماری کچھ مایوسی کی وجہ یہ بھی ہے کہ محترمہ نے کہا تھا کہ بچوں کی تربیت خود وہ کر رہی ہیں اور پھر یہ بات بھی ہمارے ذاتی علم میں ہے کہ محترمہ شہید مرحوم ڈاکٹر جہانگیر بدر کی وفاداری پر غیر متزلزل یقین رکھتیں اور ان پر اعتماد کرتی تھیں،اِس لئے خود اپنی زندگی میں انہوں نے بلاول اور بختاور تک کو سیاسی و خارجی معاملات میں دلچسپی لینے کو کہا تو یہ جہانگیر بدر کی نگرانی میں ہوا،جو خود جدوجہد کی علامت تھے۔ اس حوالے سے بہت سی ذاتی اور راز دارانہ باتیں ہمارے سینے میں دفن ہیں،ہمارے یقین کے مطابق بلاول کو بڑے ہی سلجھے اور عمر کو نظر انداز کر کے سنجیدہ رہنما کے طور پر سامنے آنا تھا، اور ان کی گفتگو سے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ کی خوشبو آنا لازم تھی، مگر وہ اس شدید محاذ آرائی کے باعث جذباتی فضا میں شامل ہو گئے، جوش سے ہمیں انکار نہیں،مگر ہوش کا غالب ہونا ضروری ہے اور وہ ہماری توقعات ضرور پوری کریں گے۔

بات تو شروع کسی اور پہلو سے کی،لیکن رخ اس طرف تبدیل ہو گیا،پنجابی کی ضرب المثل کا ذکر یوں ہوا کہ ان دِنوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں کی توجہ کا مرکز نیب ہے اور اب تو موجودہ سیٹ اپ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اسی حوالے سے ہم نے مثال دی، اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ جب حالیہ دور میں پہلی باری پیپلزپارٹی کی آئی اور مخدوم یوسف رضا گیلانی وزیراعظم ہوئے تو دوسرے قوانین اور قواعد پر غور کے علاوہ نیب آرڈیننس بھی زیر غور آیا کہ یہ میثاق جمہوریت کی بھی ایک شق تھی، چنانچہ اس دور میں ایک ترمیمی بل تیار کر کے پیش کیا گیا، جو پیش ہو کر مجلس قائمہ کے سپرد ہوا اور پھر اس کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بھی بنی، مقصد یہ تھا کہ اسے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے لئے قابل ِ قبول بنا کر متفقہ طور پر منظوری کے قابل بنایا جائے۔ یہ ممکن نہ ہوا کہ بیشتر شقوں پر اتفاق رائے کے باوجود چیئرمین کی اہلیت اور تقرر کے حوالے سے فیصلہ نہ ہو پایا، اہلیت کے حوالے سے صرف اتنا اختلاف تھا کہ مسلم لیگ(ن) عدالت عظمےٰ کے حاضر سروس جج کو چیئرمین بنانے کے حق میں تھی اور پیپلزپارٹی کا موقف تھا کہ چیئرمین باہر سے بھی لیا جا سکے گا، جس کی اہلیت سپریم کورٹ کا جج بننے کی ہو، ایسے ہی تعیناتی کے اختیار اور ایک آدھ دوسری شق پر اختلاف تھا جو دور نہ ہوا اور یہ ترمیمی مسودہ قانون زیر التوا رہا،

حتیٰ کہ جب خود مسلم لیگ (ن) کی اپنی حکومت بن گئی تو اس نے بھی کوئی خاص توجہ نہ دی اور یہ مسودہ لٹکتا ہی رہا، اب جو دور ہے تو یہ ہمارے کپتان کا ہے، جن کا اعلان ہے ”مَیں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ ”سب کو جیل میں ڈالوں“، چنانچہ اب تو اس قانون یا آرڈیننس میں تبدیلی ناممکن العمل ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے ہی سہی، یہ حکومت اکثریت سے کھڑی ہے اور اسے کیا ضروری ہے کہ وہ نیب آرڈیننس میں ترمیم یا اسے ختم کر کے نیا احتساب کا قانون بنائے، اس کا کام چل رہا اور چیخیں نکل رہی ہیں، رہ گیا، عدالت عظمےٰ کی ہدایت تو ان پر عمل تو ہونا ہی ہے اور اس پر غور کے لئے حکومت کے پاس پوری وزارت اور قانونی محکمے بھی ہیں۔ فاضل عدلیہ کی ہدایات پر پوری طرح عمل ہوا تو جہاں قانونی پیچیدگیاں دور ہوں گی، وہاں احتساب کی عدالتی کارروائی بھی تیز ہو جائے گی کہ فاضل عدالت نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی بھی سفارش کی ہے۔ یہ حکومت کے لئے مفید ہے، مسئلہ صرف فنڈز کا ہے اور 120 عدالتوں کے لئے جگہ اور عملے کا بھی ہو گا، تاہم اگر احتساب عدالتوں کی تعداد بڑھے گی تو فیصلے بھی جلد ہوں گے، اب پچھتائے کیا ہوت والی بات ہے۔

مزید :

رائے -کالم -