تکالیف ہمیں گہرا بنا تی ہیں

تکالیف ہمیں گہرا بنا تی ہیں
تکالیف ہمیں گہرا بنا تی ہیں

  

یہ با ت 0 194کی ہے جب ہٹلر نے انسا نوں کا خون بہایا جیسے کسی ندی میں پانی بہتا ہے۔ ہولوکاسٹ کا کس کو نہیں پتا، آج بھی جب یہ دن آتا ہے تو یہودی کانپ جاتا ہے اور اُس دن کو یاد کر کے خون کے آنسو روتا ہے۔ ہٹلر لوگو ں کو مارنے کے مختلف طریقے استعمال کر تا تھا۔کسی کو گولی سے، کسی کو بھوکا رکھ کر، کسی کو آگ لگا دیتا اور سب سے بڑھ کر اُس نے ایک کیمپ بنایا تھا جس کو Concentration Camp کہتے ہیں۔ایک شخص جس کا نام وکڑ فرنیکل Viktor Franklتھا،اُس کو بھی اس کیمپ میں قیدی بنایا گیا تھا۔اُس کے ماں باپ،بہن بھائی اور بیوی بچوں سب کو قتل کر دیا گیا تھا۔یہ اپنی فیملی کا اکیلا شخص بچ گیا تھا۔یہ شخص پیشے کے اعتبا ر سے Neurologist and Psychiatrist تھا۔ اس لیے اس شخص کی سو چ بھی دوسرے لو گو ں سے بالکل مختلف تھی۔اس کیمپ میں

لو گو ں کو بہت ہی گندی حالت میں رکھا جاتا تھا۔لو گو ں کو بہت ہی کم کھانا دیا جاتا،بہت سے لو گ بھوک کی وجہ سے ہی مر جاتے تھے۔اس کیمپ میں لو گو ں کو مارنے کے لیے زہریلی گیس بھی چھوڑی جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے بھی بہت سی ہلاکتیں ہو تی تھیں۔وکڑ فرنیکل لوگو ں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرتا اور لو گو ں کے رو یو ں وعادات سے اُن کو سمجھنے کی کو شش کرتا۔اس کیمپ میں بھوک اورزہریلی گیس کے علاوہ بھی بہت سے لو گ اس لیے مر جاتے تھے کہ وہ اُمید اور ہمت کھو دیتے تھے۔اُن کو زندگی کا کو ئی دوسرا مطلب ہی نظر نہیں آتا تھا۔یہ ساری باتیں وکڑ فرنیکل ہی اپنی کتاب Man's Search for Meaning میں لکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میر ے لیے ہر دن ایک نیا دن ہو تا تھا اور میں اپنے ہر لمحے میں کوئی نہ کو ئی Meaning" " پیدا کر تا تھا۔میر ے سا تھ اور بھی بہت سے لو گ تھے جو اُمید اور ہمت سے لبریز تھے اور ہر سکینڈ کو ایک چیلنج سمجھ کر گزارتے تھے۔اپنی کتاب میں وکڑ فرنیکل کہتا ہے کہ جینے کا مطلب ہو تا ہے Suffering اور Suffer کر نے سے مراد ہو تی ہے کہ جس تکلیف میں آپ مبتلا ہیں اُس میں Meaning" "یعنی مقصد ڈھونڈنا۔ہر شخص کامقصد مختلف ہو تا ہے، اُس کی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ اپنے مقصد کو ڈھونڈے اور خود اِس کی ذمہ داری اُٹھائے۔کتا ب میں یہ بتاتا گیا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم زندگی سے کیا قبول کرتے ہیں بلکہ اصل سو ال تو یہ ہے کہ زندگی ہم سے کیا توقع کر تی ہے۔اپنے آپ سے زندگی کا مقصد پو چھنے کی بجائے اپنی حالت کو ایسے دیکھو کہ زندگی ہر منٹ اورہر گھنٹے آپ سے پو چھ رہی ہے کہ آپ اس دنیا میں کیا contribution دیناچاہتے ہو۔

وکڑ فرنیکل کہتا ہے کہ میں نے اس کیمپ سے زندگی کااصل مقصد جانا اور میرے لیے ہر لمحہ ایک چیلنج کی طرح گزرتا تھا۔جس کا فائدہ مجھ کو اس کیمپ سے نکلنے کے بعد بھی بہت ہو ا کیونکہ اس کے تمام تجربات کو میں نے اپنے مر یضوں کو سمجھنے میں استعمال کیا۔جینے کا اصلی مطلب ہے زندگی کی مشکلات کے صحیح جواب ڈھونڈنے کی ذمہ داری لینا اور ان جوابوں کو ڈھونڈنے کے دوران راستے میں رکھی گئی مشکلات کو پار کرنا۔ Meaning" "کا مطلب ایک آرام دہ زندگی یا پیسوں کی زیادتی نہیں ہے بلکہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ ہم زندہ کس لیے ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ وکڑ فرنیکل اپنی کتا ب میں اس بات کے تین نقصانات بتاتا ہے کہ جن لو گوں کا زندگی میں کو ئی مقصد نہیں ہوتا وہ ان چیزوں میں پوری زندگی مبتلا ر ہتے ہیں۔پہلی چیز جو ہے وہ ڈپریشن یعنی پر یشانی ہے، انسان بہت جلد باز ہے اور اس جلد بازی میں وہ چاہتا ہے کہ ہر کام جلد سے جلد ہو۔اس جلد بازی سے اُس کے اند ر دباؤ پیدا ہو تا ہے جس کی وجہ سے انسان پر یشانی کا شکار ہو تا ہے۔وکڑ فرنیکل کہتا ہے جس انسان کا کو ئی مقصد نہیں ہو تا، اُس کے سا تھ جو سب سے پہلے مسئلہ پیش آتا ہے وہ ڈپریشن کا ہے۔دوسر ا مسئلہ جس کا سامنا انسان کو کر نا پڑتا ہے وہ غصہ، ہر وقت ہر جگہ کسی نہ کسی چیز پر غُصہ کر نا، اپنے دماغ اور جسم کو ہر وقت ہائپراور بے چین رکھنا۔تیسری چیز جو ایک" "Meaningless انسا ن کی زندگی میں ہوتی ہے وہ کسی نشے کا عادی ہو نا۔جب ہم اپنی پر یشانیوں اور مصائب کو حل کرنے میں نا کام ہو جاتے ہیں تو ہم کسی نا کسی نشے کا سہارا لیتے ہیں تا کہ ہم اس عادت سے خود کو آرام پہنچاسکیں۔

وکڑ فرنیکل نے اِن تین علامات کو Existential Vaccum کا نام دیا ہے۔اسی معاملے کے بارے میں اُس نے اس کا حل بھی بتایا ہے اور ایک بالکل نئی تھراپی یعنی علاج جو لو گو ں کو بتایا ہے تا کہ وہ ان تین باتو ں سے خود کو بچا سکیں اور اپنے ہر لمحے کو ایک چیلنج سمجھ کر زندگی گزار یں۔یہ تھراپی لو گو ں کی مدد کر تی ہے کہ وہ زندگی کا مقصد ڈھونڈ سکیں۔اس کے بھی تین پوائنٹس اُس نے کتاب کے اند ر بتا ئے ہیں، پہلا نقطہ ہے اپنے گولز کو تلاش کرنا۔ وہ کہتا ہے کہ سب سے پہلے اپنے ٹارگٹس کو سیٹ کر نا چاہئے۔کیونکہ ہم لو گ سوسائٹی میں اپنے کا م کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور اگر ہمیں کو ئی یا د رکھتا ہے تو وہ صر ف اور صرف ہماری مہارتوں اور علم کی وجہ سے جانتا ہے۔اگر ہمارا کوئی گول نہیں ہے تو ہمیں باہر نکلنا چا ہئے اور اپنے لیے مواقع کو تلا ش کر نا چا ہئے۔

اس تھراپی میں نقطہ جو بتایا گیا ہے وہ" اچھے تعلقا ت بنانا" ہے۔کتا ب میں رائٹر کہتا ہے پیار کا مطلب ہے کہ ہم دوسرے لو گو ں کے Potientialیعنی اُن کی خویبوں کی پہچان کر یں اور اُن کی اُن کے مقاصد میں مددکریں۔جن میں بچے،بھائی بہن، دوست احباب اور juniors وغیرہ شامل ہیں۔ہمیں ان لوگو ں کی استعداد کو بہتر کر نے میں اِن کی مدد کرنی چاہئے۔اس کی بدولت آپ کو اپنے گولز اور ٹارگٹس ملنے میں بہت زیادہ آسانی ہو گی۔تیسرا نقطہ ہے اپنی مشکلات کو بہادری سے فیس کرنا یعنی اُس کا مقابلہ کرنا اور اُس کے بعد اُس کی ذمہ داری بھی لینا۔کیونکہ جب آپ کسی کام کی ذمہ داری لیتے ہیں تو آپ سیکھنا شروع کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کی زندگی سے آہستہ آہستہ غصہ، پریشانی اور نشہ وغیرہ ختم ہو جاتے ہیں۔وکڑ فرنیکل کہتا ہے کہ جب بھی آپ کسی مشکل میں ہو ں یا بُرا محسوس کر رہے ہوں، تب آپ اُس مشکل کا ایک استعمال ڈھونڈیں اور اپنے آپ سے پوچھیں ؎

کہ میں کس طرح سے اس suffering کو قابلِ قدر بنا سکتا ہوں۔ا س کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ہر سٹوری اور مووی میں، ہیرو یاکوئی اہم کردار ضرور sufferکر تا اور رکاوٹوں کو پار کر تا ہے۔جس طریقے سے وہ رکاوٹوں اور مشکلوں کو حل کرتا ہے اس سے اُس کردار کی گہرائی اور ویلیو کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کن خو یبوں کا ما لک ہے۔ مشکلات ہی ہمیں مضبوط اور گہرا بناتی ہیں۔میرے خیال میں وطنِ عزیز کی عوام بھی آج ایسی کیفیت سے گزرر ہی ہے،ہمیں ان مشکلات سے نکلنے کے لیے زندگی کی گہرائی میں اتر نے کی ضرورت ہے۔دنیا جس وباکاشکار ہے اور خاص طور پر ترقی پذیرممالک شدید ما لی بحران کا شکار ہیں۔اس صورت حال میں زندگی نے جو مہلت دی ہے ہمیں بقیہ زندگی کے لیے ایک نئے اور بہتر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ہمیں ازسر نوء اپنے ٹارگٹس سیٹ کرنا ہوں گے اور تعلقات کو بھی قا ئم اور راسخ کر نا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -