معاشرتی زوال اور ہماری بے حسی

معاشرتی زوال اور ہماری بے حسی
معاشرتی زوال اور ہماری بے حسی

  

راولپنڈی کے ایک بدبخت ناہنجار بیٹے کی وڈیو نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی سنگدلی، بے رحمی، بے حسی اور رشتوں کے تقدس کی پامالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔وہ بیٹا اپنی بیوی کی موجودگی میں اپنی بوڑھی ماں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے،اُسے غلیظ گالیاں دے رہا ہے،کیونکہ وہ اپنی ماں کی جائیداد اور اثاثے ہتھیانا چاہتا ہے، وہ دینے کو تیار نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وڈیو کو اس ظالم بیٹے کی بہن نے وائرل کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹا ماں کو بیٹیوں کے پاس بھی نہیں جانے دیتا اور اسے اِس لئے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تاکہ اُس کا مال ہڑپ کر سکے۔ راولپنڈی پولیس نے اس بدبخت بیٹے اور اُس کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور سی پی او راولپنڈی محمد حسن یونس نے ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ کسی انسان پر تشدد کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی اور ماں پر تشدد کرنے والا تو قانون، اخلاق اور اللہ تعالیٰ کا مجرم ہے،کیونکہ ماں کی حرمت کا حکم تو خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ابھی چند روز پہلے دو بچوں کی موت نے ہر درد مند دِل رکھنے والے کو غمزدہ کر دیا ہے، جنہیں ظالم درندوں نے ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کیا۔لودھراں میں قتل ہونے والے چار سالہ بچے کا تعلق تو انتہائی غریب خاندان سے تھا،جس کے تن پر میلے کچیلے،بلکہ پھٹے پرانے کپڑے تھے، مگر ظالموں کے اندر موجود درندگی نے اُسے بھی نہیں بخشا۔ لودھراں کے ڈی پی او کرار حسین اُس بچے کے گھر پہنچے اور یقین دلایا کہ مجرموں کو جلد نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا، لیکن صاحب، یہ باتیں تو ہم ہمیشہ ہی سنتے ہیں،لیکن مجرموں کو عبرتناک سزائیں کہاں ملتی ہیں، کوئی دو چار کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو شاید لوگوں کو یقین آئے کہ سزائیں مل رہی ہیں،وگرنہ یہاں تو بے حس عدالتی نظام کے تحت سالہا سال کیس چلتے ہیں، لوگ بھول بھال جاتے ہیں، کچھ پتہ نہیں چلتا ظالم مجرم کیفر کردار کو پہنچا یا بری ہو کر پھر کسی شکار کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔

مندرجہ بالا دو اقسام کے واقعات سے یہ شرمناک حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ وطن ِ عزیز میں اب کوئی بزرگ محفوظ ہے اور نہ کوئی معصوم بچہ، کسی رشتے کا احترام ہے اور نہ کسی معصوم پر ترس کھانے کی روایت برقرار رہی ہے۔ سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ سخت قانون اور سزاؤں سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ہر واقعہ کے بعد یہی مطالبہ سامنے آتا ہے کہ ظالموں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے جسم پر کوئی پھوڑا نمودار ہو تو اسے جراحی کر کے صاف کر دیا جائے، وہ پھوڑا تو صاف ہو جاتا ہے، لیکن اُسے جسم کے کسی دوسرے حصے پر رونما ہونے سے وہ جراحی نہیں روک سکتی، جب تک جسم کے اندر موجود فسادی خون کو صاف نہیں کیا جاتا۔قصور میں معصوم زینب کے مجرم عمران کو فوری مقدمہ چلانے کے سزا دی گئی۔ اُس کا کیا نتیجہ نکلا، کیا واقعات رونما ہونا بند ہو گئے،اُس کے بعد بیسیوں واقعات ہو چکے ہیں، کہیں مجرم پکڑے جاتے ہیں اور کہیں دندناتے پھرتے ہیں، کوئی دن ہی جاتا ہے جب کسی اور جگہ سے دلخرش واقعہ کی خبر نہیں آتی،والدین رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں،زمین کانپ کانپ جاتی ہے،مگر پھر کسی اگلے واقعہ تک ریاست، اُس کی مشینری، قانون نافذ کرنے والے ادارے چُپ سادھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اب تو ایسے واقعات پر حکومتی ردعمل آنا بھی بند ہو گیا ہے،اسے معمول کی کارروائی سمجھ لیا گیا ہے یہ تو پولیس افسروں کا دم غنیمت ہے کہ جھوٹی سچی تسلی دینے مظلوم کے گھر پہنچ جاتے ہیں، جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب ضلعی افسروں کی جگہ تھانے کا کوئی اے ایس آئی مظلوم بچوں کے گھر جایا کرے گا تاکہ ورثاء سے یہ پوچھ سکے کہ انہوں نے اپنے بچے کا دھیان کیوں نہیں رکھا اور کیوں ریاست کو اس مشکل میں ڈالا ہے۔

زوال کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے اس معاشرے کی کس کس بات کا رونا رویا جائے، ہر رنگ کی ذلت اس معاشرے کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔ اندرون سندھ کے ایک استاد نے اپنے شاگردوں کے ساتھ جو کیا،اُن کی وڈیوز بنا کر جس طرح گھناؤنا کھیل کھیلا اور بالآخر خود بھی اسی جال میں پھنس گیا اور اس کی اپنی وڈیو بھی منظر عام پر آ گئی،وہ اساتذہ کا سر جھکانے کے لئے کافی ہے۔ یہ تو ایک غریب بستی کی داستان ہے۔ لاہور میں ایک نجی سکول کے اساتذہ نے اپنی شاگردوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک کیا، اُس کی تفصیلات بھی سامنے آ چکی ہیں، آئے روز یونیورسٹی اساتذہ کے قصے بھی سامنے آتے رہتے ہیں اور کئی استادوں کو ان گھناؤنی حرکتوں کی وجہ سے نکالا بھی جا چکا ہے۔مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سا رشتہ ایسا بچا ہے جسے ہم نے بے توقیر نہ کیا ہو۔ ایک ماں کا رشتہ ہی ایسا تھا،جس کے بارے میں ہمارے آباؤاجداد بچپن سے سمجھاتے ہیں کہ ماں کی عزت کرو اُس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔صد شکر کہ ابھی اس مقدس رشتے کا احترام بالعموم موجود ہے،لیکن کچھ عاقبت نا اندیش ایسے بھی نکل آتے ہیں جو اس مقدس رشتے کو بھی پاؤں تلے روندتے ہیں،ماں پر ہاتھ اٹھانا عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے،مگر کئی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا یا اُسے تشدد کا نشانہ بنا کے بے حرمتی کی۔

کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے سارا بگاڑ پیدا کیا ہے۔اُس نے زندگی کو مصنوعی چکا چوند کی نذر کر کے سارے رشتے، سارے احترام، سارے حوالے چکنا چور کر دیئے ہیں، ہر بڑے اور بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور وہ اپنی دُنیا میں مست ہو گیا ہے۔وہ جو ہر شام گھروں میں بزرگوں کے ساتھ منڈلی جمتی تھی، وہ ختم ہو گئی ہے۔ ہر کوئی کسی کونے میں بیٹھا اپنی رنگین دُنیا کے مزے لے رہا ہے۔پچھلے دِنوں ایک وڈیو گیم پر یہ کہہ کر پابندی لگائی گئی کہ اُس کی وجہ سے بچے اور نوجوان خود کشی کرنے لگے ہیں۔ ارے ظالمو اگر یہی حل ہے تو پھر سارا سوشل میڈیا، انٹرنیٹ بند کر دو، اُس کی وجہ سے بھی تو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ہمیں اپنی اپنی جگہ پر اپنے کردار کو زندہ کرنا ہو گا۔ والدین تربیت کا فریضہ کبھی نہ بھولیں،اساتذہ اپنے کردار سے شاگردوں کے کردار و عمل کی تعمیر کریں، ہمارا مقتدر طبقہ اچھی مثالیں قائم کرے،قانون شکنوں کی حمایت نہ کرے،اُن کی بیخ کنی کے لئے آگے آئے۔ معاشرہ بُری طرح بکھر ر ہا ہے، زوال کا شکار ہے،اسے بچانے کی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو آئے روز کے سانحات ہمارا مقدر بن جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -