ایک پیج اور عوام

ایک پیج اور عوام
ایک پیج اور عوام

  

یہ سطور تحریرکئے جانے تک ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ موجودہ حکومت سی پیک سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ اس حوالے سے چین کے خدشات اور خاموش احتجاج جب ایک حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو بیانات یا کچھ اقدامات کے ذریعے تسلی کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ منصوبے کے التواء کا شکار ہونے کے بعد پاکستان نے سی پیک اتھارٹی کو نہ صرف با اختیار بنانے بلکہ اس میں چین کی نمائندگی کو بھی یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قانون سازی چینی حکومت کی خواہش پر کی جا رہی ہے۔انہی حکام کے مطابق چین نے پاکستان کو بتایا کہ وہ سی پیک کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت سے مطمئن نہیں۔ اب آگے کیا ہو گا؟ اس حوالے سے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا عمران حکومت میں اتنی سکت ہے کہ اس گیم چینجر منصوبے پر ازخود رکاوٹیں کھڑی کر سکے۔ سی پیک کے حوالے سے اس وقت جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں کہ ہمارے موجودہ نظام کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ چین کے احتجاج اور خطے کے حالات کے سبب اگر سی پیک پر ایک بار پھر سے وہی پیش رفت شروع ہو گئی جو پچھلے دور میں تھی تو اس سے ان عناصر کو کیا حاصل ہوگا جو معاملہ لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں۔

یوں تو اس حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سلیکٹروں کے کم و بیش تمام تخمینے نقش برآب ثابت ہوئے ہیں مگر شاید ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ سب کچھ انتہائی بھدے طریقے سے جلد ہو جائے گا۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو نام نہاد جمہوری سسٹم کو لپیٹ کر تبدیلی حکومت کا نظام مسلط کرنے والوں کو کئی طرح کی خوش فہمیاں تھیں۔ ان کا خیال تھا اس سے پہلے کہ جمہوریت کا ننھا پودا تنا آور درخت کی شکل اختیار کرے، ایک بت تراش کر سامنے لایا جائے جسے مافوق الفطرت ٹائپ چیز ظاہر کر کے سیاسی عناصر کی چھٹی کرائی جائے۔ عمران خان اس حوالے سے انہیں موزوں لگے سو ان کو قائداعظم کے بعد دوسرا بڑا لیڈر ظاہر کرنے کیلئے سرکاری خزانے سے ریاستی اداروں کے زیر اہتمام بھرپور مہم چلائی گئی۔ باقی سب ملک دشمن، غدار اور مودی کے یار قرار دیدیئے گئے۔ منصوبہ ساز خود کو عقل کل نہ سمجھتے تو 2018ء کے انتخابی نتائج انکے لیے بڑی حد تک چشم کشا تھے۔ تمام حربوں کے باوجود تحریک انصاف کو اکثریت نہ دلوائی جا سکی۔ جوڑ توڑ کر کے حکومت بنائی گئی تو یہی سوچا جا رہا تھا کہ اگر عمران خان تبدیلی نہ بھی لا سکے (یہ تبدیلی صرف بڑے سیاستدانوں اور انکی جماعتوں کو میدان سیاست سے باہر کرنے کا نام ہے) تو کم از کم اتنا ضرور ہو گا کہ جیسا تیسا حکومتی نظام چل رہا ہے اسے چلاتے رہیں گے۔ سلیکٹروں کا خیال تھا کہ عمران خان کو فرنٹ پر رکھ کر سعودی عرب، امارات، امریکہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے امداد اور قرضے ملیں گے۔ کچھ نہ کچھ رقم چین سے بھی آتی رہے گی۔

پھر یہ کہ بھارت سے تجارت کھول کر عمران خان کو امن کا عالمی علمبردار ظاہر کر کے معقول حد تک کمائی کی جا سکے گی۔ قبل ازیں نواز شریف اور اس سے بھی پہلے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کئی مرتبہ ایسے منصوبوں کو واضح کر چکے تھے کہ خوشحالی کا آسان اور مختصر راستہ یہی ہے۔ اس وقت ان دونوں کو بھارتی ایجنٹ کہہ کر انکی مخالفت کی جاتی تھی لیکن حقیقت کا سب کو علم تھا۔ حکومت کا عمرانی ڈھانچہ قائم کرنے کے بعد سب سے زیادہ جستجو اور کوششیں اسی حوالے سے کی گئیں۔ اسی دوران سقوط مقبوضہ کشمیر بھی ہو گیا، حریت کانفرنس والوں سے کہہ دیا گیا کہ اپنے معاملات اب خود سیدھے کریں۔ بہت تیزی دکھاتے ہوئے کرتار پور کا منصوبہ جلدی مکمل کیا گیا۔ اس کے پیش نظر بھی صرف سکھوں ہی نہیں پورے ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کا تصور کار فرما تھا مگر یہ میگا منصوبہ بھی اپنے اخراجات کے حوالے سے الٹا بوجھ بن گیا۔ ایک طرف سے بہت کوشش جاری تھی تو دوسری جانب عیار بنیے مودی نے بھانپ لیا کہ نیا پاکستان بنانے والوں کو اس حوالے سے بہت جلدی ہے۔ پھر اس نے اپنی خصلت دکھاتے ہوئے بات کرنا تو درکنار، فون تک سننا چھوڑ دیا۔

ہمارے وزیراعظم جب اقتدار میں آئے تو علانیہ کہا کرتے تھے کہ مودی دوبارہ الیکشن جیت کر آئے گا تو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات حل ہو جائیں گے۔ مودی بھاری اکثریت سے جیت گیا مگر ان کی خواہشات دھری رہ گئیں۔ آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کی خاطر خفیہ طور پر آرڈیننس جاری کیے جارہے ہیں، تبدیلی سرکار قائم ہونے کے بعد مغرب کو خوش کرنے کے اقدامات کیے گئے، یہاں تک کہ آسیہ مسیح کو بڑے اہتمام سے باہربھجوایا گیا، پھر جناب وزیر اعظم خود بیرون ملک جاکر اس کارنامے کاکریڈٹ لیتے رہے، یہ الگ بات ہے کہ امیج بہتر ہوا نہ ہی دیگر مادی فوائد مل سکے۔ سعودی عرب، امارات، قطر، ترکی، چین سے ایک حد تک امداد اور قرضے ملے مگر جب وہاں کی قیادتوں نے خطے کے حالات پر ایک بار پھر سے نظر ڈالی تو ایک ایک کر کے پیچھے ہٹتے چلے گئے، جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو ٹرمپ کے آنے کے بعد امداد برائے نام ہی رہ گئی ہے، وہ تو الٹا ہر ایک سے اپنی سروسز کے لیے مانگتے رہتے ہیں۔اگر یہ مان لیا جائے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا واحد ٹارگٹ پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسانا تھاتو اب وہ پورا ہو چکا۔ ہمارا حال اور مستقبل آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر ہے۔ منصوبہ سازوں کیلئے یہ بات ہرگز پریشانی کا باعث نہ ہوتی اگر ملک کا معاشی، سیاسی اور عدالتی نظام ہلکی رفتار سے ہی مگر آگے بڑھتا رہتا کیونکہ ان کے ہاں اب بھی وسائل کی بہتات ہے اور انہیں چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ حکمران اشرافیہ کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تاوقتیکہ ان کے اپنے مفادات اور معاملات زد میں نہ آ جائیں۔

نیا پاکستان کا ناکام تجربہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ معاملات آگے تو کیا بڑھنا تھے الٹا پیچھے کی جانب آنا شروع ہو گئے۔ اداروں نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح ٹھہراؤ آ جائے مگر سب بے سود رہا۔ اسی دوران سب مل کر ایک پیج کی مالا جپتے رہے۔ اب نتیجہ یہ نکلا کہ نمائشی نظام کو ہٹا کر براہ راست کوئی غیر جمہوری تجربہ کرنے کا امکان بھی بہت کم رہ گیا ہے کیونکہ غیر جمہوری حکومتیں اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں جو مقبولیت حاصل کرتی ہیں اس حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے وہ سفر بہت پہلے ہی مکمل ہو چکا۔

عمران حکومت کی ناکامی صرف ناقص کارکردگی کے سبب ہی نہیں ہوئی بلکہ اندازے لگانے میں بھی کئی غلطیاں کی گئیں۔ خود منصوبہ سازوں کو اپنے طور پر یقین تھا کہ تبدیلی حکومت تک سے کام بہت اچھا نہ چلا تو ہمارے ماہرین ساتھ مل کر تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں حاصل کر لیں گے۔ میدان عمل میں جب یہ سب کرنے کا وقت آیا تو کوئی نسخہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ ایک بہت بڑی خام خیالی بلکہ شیخ چلی کا خواب یہ تھا کہ چندہ جمع کرنے کے چیمپئن کو حکومت سونپ کر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بڑے پیمانے پر عطیات وغیرہ ملیں گے اور سرمایہ کاری کیلئے بھی معقول زرمبادلہ آئے گا۔ حکومت بنانے کے بعد عمران خان نے پورا زور لگا کر دیکھ لیا مگر چندہ جمع کرنے والا طلسم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ڈیم فنڈ ہو یا کورونا کیلئے رقوم بھجوانے کی درخواست، ان پر بہت کم ملا، جو کچھ اکٹھا ہوا وہ بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جبری طور پر کاٹنے سے ملایا پھر مختلف کاروباری مافیاز نے تھوڑا بہت حصہ ڈالا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بارے میں یہ سوچا ہی نہیں گیا تھا ان میں اکثر جو جعلی دستاویزات پر باہر گئے ہیں اور وہاں حکومتی امداد پر پل رہے ہیں، ان میں بھی بڑی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اس سب کے باوجود ہاتھ مارنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتی۔ مختصر اور دوسری قسم میں وہ تارکین وطن شامل ہیں جو پروفیشنل ہیں، ان کی آمدنی معقول ہے مگر وہ سیاسی معاملات کی شد بد نہیں رکھتے یا یوں کہیے کہ اس حوالے سے ”جاہل“ ہیں۔ انہیں ملکی حالات دیکھ کر غصہ تو بہت آتا ہے مگر چندہ دیتے وقت ہاتھ روک لیتے ہیں۔

تیسری قسم ان شخصیات پر مشتمل ہے جو باہر کے ممالک میں بڑے کاروبار جمانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی دلچسپی مشہور شخصیات کے ساتھ فوٹو سیشن کرانے یا پھر ان کی دعوتیں کرنے پر ہوتی ہے۔ کسی ایک ہسپتال یا تعلیمی ادارے کیلئے تو کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں مگر ایک ملک کو چلانے کیلئے جو درکار ہوتا ہے وہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ سو وہ بھی ایسا سنتے ہی پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ ویسے بھی بار بار چندہ مانگ کر کوئی بھی خواہ اپنے شعبے کی کتنی ہی کامیاب یا نمایاں شخصیت کیوں نہ ہو بذات خود بوجھ بن جاتی ہے، سو اب جو کچھ بھی جمع کرنا ہے اپنے ہی عوام سے کرنا ہے۔ ملک کے حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ چند سیاسی شخصیات کو اپنے طور پر حکومت بدلنے کا شوق تو شاید ہے مگر سیاسی جماعتیں بطور ادارہ یہ بھاری بوجھ اٹھانے کو تیارنہیں یہ مطالبات وغیرہ صرف پارٹیوں کے وجود اور کارکنوں کو متحرک رکھنے کی کوشش ہیں۔ انہیں اچھی طرح سے علم ہے خرچے اٹھانے کے لیے اگلے کئی سالوں تک سارا بوجھ عوام پر لادنا ہوگا۔اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ منصوبہ ساز حکومت کو بدلنا نہیں چاہتے ہیں۔ ان کی فیس سیونگ بھی موجودہ سیٹ اپ کی صورت میں ہی ہے مگر بگاڑ اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ مزید پیچھے جاناتو درکنار اگر حالات جوں کے توں بھی رہے تو اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور عام لوگوں کی تمام تر پست حوصلگی اور کمزوریوں کے باوجود نظام چلانا ناممکن ہو جائے گا، ایک پیج کے درمیان سب اچھا نہیں مگر اسے بحالی جمہوریت کے حوالے سے جس خدشے کا سامنا ہے، وہ سب کو اکٹھا رکھے ہوئے ہے،

مزید :

رائے -کالم -