بہادر ماں

بہادر ماں

  

چودھری قمر جہاں علی پوری، ملتان

جو جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔پھر

برسوں پہلے کا تذکرہ ہے دنیا میں سہارٹا نام کا ایک شہر آباد تھا۔یہاں کے لوگ بہت بہادر، دلیر، جری اور محب وطن تھے۔ اس شہر میں ایک بُڑھیا مقیم تھی۔اس کے چار جوان بیٹے تھے۔دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی وطن سے بے حد محبت کرتے تھے اور وطن کے لئے اپنی جان نثار کر دینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ سہارٹا پر دشمن ملک حملہ آور ہوا۔دشمن تعداد میں زیادہ تھا پھر بھی بہادر اور دلیر سہارٹا والوں نے جرأت سے اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور پھر واقعی انہوں نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ اس بیوہ خاتون نے اپنے تینوں بیٹوں کو محاذ پر بھیجا جو جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔پھر اس بیوہ عورت نے اپنے آخری ا ور چھوٹے بیٹے کو بھی محاذ پر روانہ کر دیا اور خدا سے دعا کی کہ اس کے وطن کی جیت ہو اور وہ پر امید نظروں سے جنگ کی طرف دیکھنے لگی کہ کوئی اسے جنگ کی تازہ ترین صورت ِحال سے آگاہ کرے۔ اسی اثنا میں فوج کا سپہ سالار اس کی طرف آیا۔ اس کے چہرے پر رنج و الم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس بیوہ نے اس سے پوچھا بیٹا جنگ میں فتح کس کی ہوئی۔؟

سالار بولا اماں تمہارا چھوٹا بیٹا بھی وطن کی آن پر قربان ہو گیا ہے۔ بڑھیا نے سخت لہجے میں کہا:میں پوچھ رہی ہوں جنگ کا کیا نتیجہ نکلا سالار بولا سہارٹا جیت گیا ہے۔

خاتون کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور جلدی سے گویا ہوئی پھر میرے چاروں بیٹے زندہ ہیں۔اگر سہارٹا ہار جاتا تو میں انہیں زندہ دیکھ کر کیا کرتی۔ خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے اپنے وطن کی لاج رکھ لی۔ آؤ اب جشن منائیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -