پاکستان ہمارا گھر ہماری جنت

پاکستان ہمارا گھر ہماری جنت

  

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان اس کرۃ الارض پر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے تو بے جانہ ہو گا۔پاکستان ہمارا پیارا اور اس کی سر زمین دل وجان سے پیاری ہے تو اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ اگر چہ اس ملک کو بہت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا اور اس کی احسن طریقے سے آبیاری کرنے میں قائد اعظمؒ،علامہ اقبالؒ،لیاقت علی خانؒ،مولانا محمد علی جوہرؒ،مولانا شوکت علی جوہرؒ،مولانا ظفر علی خانؒ اور اسی طرح کے چند اور عظیم رہنماؤں نے پاکستان کو پاکستانیوں کا گھر اور ان کی جنت بنا دیا تو درست بات ہو گی۔

پاکستان ہمارا ملک اور ہماری جنت ہے اور اسے حاصل کرنے اور سنوارنے میں بڑے بڑے محب وطن لوگوں کا ہاتھ ہے اور پاکستان کو دنیا کے افق پر چمکانے میں اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔

پاکستان 14اگست 1947ء کو معرض ِوجود میں آیا اور آج بہت سے سال گزرجانے کے باوجود پاکستان کو اس نہج پر نہیں پہنچایا گیا جس کا وہ حقدار تھا۔

ہمارا ملک بڑی قربانیوں،بڑی بڑی ہستیوں کی دعاؤں اور کوششوں کے بعد معروضِ وجود میں آیا اور قائد اعظم ؒنے اس ملک کی بنیاد اس انداز میں رکھی کہ دنیا کے نقشے پر ہمارا پیارا ملک راج کرنے لگا مگر اتنا عرصہ قیامِ پاکستان کے باوجود ہم اسے وہ عزت وقار نہیں دے سکے جو کہ اسے ملنی چاہیے تھی۔

آج ہم اپنے آزاد ملک میں رہ کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں مگر اس وقت بڑا افسوس ہوتاہے جب ہمیں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)کی یاد آتی ہے۔جو اپنے ہی حکمرانوں کے نامناسب فیصلوں کی وجہ سے دو لخت ہو گیا۔

پاکستان ہماری جنت ہے اسے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا موجودہ حکمرانوں کی کوششوں اور جدوجہد کے باعث ہی ممکن ہے تاکہ کوئی دشمن اسے میلی نظروں سے نہ دیکھے اور جتنا سکون پاکستان میں رہ کر حاصل کیا جا سکتاہے وہ غیر ملکوں میں کم ہی نصیب ہوتاہے۔

پاکستان ایک شاندار،نڈر اور جری ملک ہے اور اس کے باسی غیور قوم میں شمار ہوتے ہیں، آیئے پیارے پاکستان کے لئے ایک ہو جائیں۔ آج جتنے اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔امید ہے کہ اگر ہم آج بھی ایک ہو جائیں تو دنیان کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ان شاء اللہ۔

بہادر ماں

چودھری قمر جہاں علی پوری، ملتان

برسوں پہلے کا تذکرہ ہے دنیا میں سہارٹا نام کا ایک شہر آباد تھا۔یہاں کے لوگ بہت بہادر، دلیر، جری اور محب وطن تھے۔ اس شہر میں ایک بُڑھیا مقیم تھی۔اس کے چار جوان بیٹے تھے۔دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی وطن سے بے حد محبت کرتے تھے اور وطنکے لئے اپنی جان نثار کر دینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ سہارٹا پر دشمن ملک حملہ آور ہوا۔دشمن تعداد میں زیادہ تھا پھر بھی بہادر اور دلیر سہارٹا والوں نے جرأت سے اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور پھر واقعی انہوں نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ اس بیوہ خاتون نے اپنے تینوں بیٹوں کو محاذ پر بھیجا

مزید :

ایڈیشن 1 -