کتابیں

کتابیں

  

میں اپنے مضمون کی ابتدا افتخار عارف کے شعر سے کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ

اک چراغ، اک کتاب اور ایک امید اثاثہ

اس کے بعد جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

بقول فلاسفر ”کتابیں ہماری اچھی دوست ہیں۔“ یہ بات واقعی قابل غور ہے کہ کتابیں ہماری اچھی اور سچی دوست ہیں،ہر مشکل لمحات میں ہماری رہنمائی کرتیں ہیں۔ کتابوں سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ کتابوں کے مطالعے سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہماری کردار سازی میں بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ کتابوں کی ہی بدولت آج ترقی یافتہ اقوام ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ اگرچہ آج جدید عصر ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو کتابوں کا سہارا لینا ہی پڑا۔ ان کتابوں کی مدد سے تعلیم و تعلم کے عمل میں نئی نئی راہیں کُھلیں۔ آج ڈیجیٹل تعلم (آن لائن تعلیم) سے ہزاروں طالب علم وابستہ ہیں لیکن جو مزا کتابوں میں ہے وہ آن لائن تعلیم میں کہاں ہے! امریکہ کے معروف مفکر نے لکھا ہے کہ ”پرانا کوٹ پہنواور نئی کتاب پڑھو“ واہ کیا شاندار بات کہی……!!

بقول شاعر

ہم نشینی اگر کتاب سے ہو

اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں

مانا کہ قدیم وقتوں میں کتابیں کم تھیں لیکن ان کی اہمیت کم نہ تھی۔ آج کتابیں گھروں میں الماریوں کی زینت بنائی جاتی ہیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ بہت علم والے لوگ ہیں۔ کتابوں کے بارے میں لکھ رہا ہوں اسی حوالے سے اختتام گلزار صاحب کی نظم سے کرتے ہیں۔

کتابیں جھانکتی ہیں بند شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں

جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں

اب اکثرگزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر

بڑی بے چین رہتی ہیں

انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

جو قدریں وہ سناتی تھیں ……

کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہ تھے

وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں

جو رشتے وہ سناتی تھیں، وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں

کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے

کئی لفظوں کے معنی گر پڑتے ہیں

بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں

وہ الفاظ، جن پہ اب کوئی معنی نہیں اُگتے۔

بہت سی اصطلاحیں ہیں

جو مٹی کے سِکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں، گلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالا

زبان پہ ذائقہ آتا تھا جو صفحہ پلٹنے کا، اب انگلی کلک کرنے سے بس اک، جھپکی گزرتی ہے……!! اس چھوٹی سی نثری طرز پر لکھی جانے والی نظم نے کتاب کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -