آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  

٭ایک لڑکا روتا ہوا گھر آیا، ماں نے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ استاد نے مارا ہے۔

ماں: بیٹا، تم نے پھرکوئی غلط محاورہ بولا ہوگا۔

لڑکا: (روتے ہوئے) استاد بہت ڈانٹ رہے تھے۔میں نے کہا:”جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔

٭بچے کو ماں سے مار پڑی۔ بہت رویا۔ اسکا باپ آفس سے گھر آیا تو بچے کا موڈ بگڑا دیکھ کر پوچھا۔ بیٹا۔ کیا ہوا؟

بچہ۔ بس اب میں تمہاری بیوی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ مجھے اپنی چاہیے۔

٭استاد: بچے۔ یہ بتاؤ کہ اگر 30 بھیڑوں کا باڑہ ہو۔ اس میں سے 5 بھیڑیں باڑہ توڑ کر بھاگ جائیں تو باقی کتنی بچ جائیں گی؟

بچہ: جناب ایک بھی بھیڑ باقی نہیں بچے گی۔

استاد: اوہو۔ تمھیں ریاضی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔

بچہ: جناب آپ کو بھیڑوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔

٭ٹیچر۔ " بچو! ایسی جگہ کا نام بتاؤ جسے آدمی خود بنانے کے باوجود وہاں نہیں جاسکتا؟"

بچہ۔ " لیڈیز ٹائیلٹ "

٭ایک ٹیچر اپنی جماعت میں دوران خون کے بارے پڑھا رہا تھا۔ اختتام پر اس نے سوال کیا۔ اگر میں سر کے بل کھڑا ہو جاؤں تو سارا خون میرے سر میں جمع ہو جائے گا اور میرا چہرہ لال ہو جائے گا۔ لیکن جب میں سیدھا کھڑا ہوتا ہوں تو میرے پاؤں لال نہیں ہوتے۔ ایک بچہ فٹ سے بولا۔ سر، آپ کے پاؤں خالی نہیں ہیں نا۔

٭بچہ سکول نہ گیا اور سارا دادا کے ساتھ کھیلتا رہا۔ سہ پہر کو اچانک دادا نے دیکھا کو بچے کا استاد سکول کے بعد انکے گھر کے قریب سے گذر رہا ہے۔ دادا نے بچے کو وارننگ دیتے ہوئے کہا " اوئے بیٹا۔ جلدی سے اندر جا کر بستر پر لیٹ جاؤ۔ تمھارے استاد آ رہے ہیں۔"

بچہ سکون سے بولا:"دادا جی۔ اندر جا کر آپ کو چارپائی پر لیٹنا ہے۔ کیونکہ آپ کی فوتگی کے بہانہ کرکے ہی تو میں نے سکول سے چھٹی کی ہے۔“

٭استاد: سب سے زیادہ سونا کہاں ملتا ہے؟

شاگرد:جناب! چارپائی پر۔

مزید :

ایڈیشن 1 -