جیل ملازمین کی بھی سنیں

جیل ملازمین کی بھی سنیں
 جیل ملازمین کی بھی سنیں

  

امیرالمومنین سیدنا حضرت علی کا فرمان ہے اچھی چیز جہاں سے ملے لے لو”یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے“مگر ہم ایسے عاقبت نا اندیش کہ غیروں کی اچھی باتوں کو کیا اپناتے اپنوں کی ان باتوں کو اپنانے سے بھی گریزاں ہیں جو آج دنیا کیلئے مشعل راہ ہیں۔سماجی،معاشرتی،معاشی مساوات اور عدل کیلئے دنیا ماضی کے نابغہ روزگار مسلمان حکمرانوں سے روشنی اور گائیڈنس لے رہی ہے،مگر ہم اپنوں تو کیا غیروں سے بھی سبق لینے کو تیار نہیں،یہ بات اب کوئی سربستہ راز نہیں کہ سماجی ترقی اور مساوات کیلئے مغرب اب خلفاء راشدین اور اسلامی حکمرانوں کے انداز و اطوار اپنا رہا ہے۔سویڈن نے تو شہری مسائل ان کے حل،زمین کی پیمائش،غریب شہریوں کی امداد اور سرکاری عمال کے مشاہرہ کے حوالے سے امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر کے دور کے قوانین اپنائے اور ان کو ”عمر لاز“کا نام دیکر اپنے آئین کا مستقل حصہ بنا دیا، پوری دنیا انسانی حقوق اور قیدیوں کے حوالے سے دور نبوی سے راہنمائی لے رہی ہے مگر ہم ریاست مدینہ کا شور بہت مچا رہے ہیں مگر اس سمت ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے۔

یہ عوامی مفاد میں اصلاحات کا بہترین وقت ہے قوم ذہنی طور پر تبدیلی لانے کو تیار ہے مگر جن لوگوں نے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے انتخابی وعدوں کو فراموش کر کے اسی ڈگر پر چل پڑے جس پر چلتے ماضی کے حکمران اپنے اقتدار کو طول دیتے اور مستحکم کرتے رہے،موجودہ حکمران بھی اسی راہ پر بگٹٹ بھاگ رہے ہیں،سرکاری عمال یعنی سرکاری ملازمین کا کام سرکاری امور چلانا ،پولیس کا کام مجرموں کی سرکوبی اور جرم کا خاتمہ ہے،عدالت کا کام سزا دینا،جیل ملازمین کا کام عدالت کی طرف سے سزا یافتہ مجرموں کی سزا پر عمل درآمد کر کے ان میں جرم سے نفرت کا احساس ا حساس پیدا کرنا ہے،ان میں اہم ترین کام مجرموں کی اصلاح بھی ہے تاکہ وہ سزا کاٹ کر معاشرے میں واپس آکر اپنا تعمیری کردار ادا کر سکیں،مگر جن جیل ملازمین کی اپنی ہی اصلاح نہ ہو وہ قیدیوں کی اصلاح کیا کریں گے،جن جیل ملازمین کی اپنی زندگی بہتر نہ ہو وہ قیدیوں کی زندگی میں کیا بہتری لائیں گے۔ کسی کو اس کا احساس ہے نہ ادراک کہ جیل ملازمین زندگی کیسے گزارتے ہیں، کسی کو پرواہ نہیں کہ جیل ملازمین اپنے بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں اس حوالے سے اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر مہینوں سے عملدرآمد نہیں ہو رہا مگر تبدیلی کے دعویدار خاموش تماشائی ہیں۔

پنجاب حکومت، محکمہ داخلہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں،صرف شو،شا کیلئے،بڑے ملکوں اور عالمی امدادی ایجینسیوں کو دکھانے کیلئے قیدیوں کو اچھی خوراک اور ماحول فراہم کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کرتی رہتی ہیں،کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ جیل کے ملازمین کی حالت کیا ہے۔اس وقت پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کا کھانا،جیل کے چھوٹے ملازمین کے کھانے سے اچھا ہوتا ہے۔قیدی کو پروٹین اور سبزیوں کے امتزاج سے بنی ہوئی خوراک دی جاتی ہے جبکہ جیل کا چھوٹا ملازم اس خوراک کے معنی بھی نہیں جانتا۔کسی انسانی حقوق کے علمبردار کو یہ نظر نہیں آتا کہ جیل ملازمین چار گھنٹے ڈیوٹی اور چار گھنٹے سوتے کس طرح ہیں۔سونے اور جاگنے کا یہ عمل شائد اگر گینز بک والوں کو بتایا جائے تو یہ بھی ورلڈ ریکارڈ ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جیلوں کے آئی جی شاہد سلیم بیگ ایک درد دل رکھنے والے اچھے افسر ہیں،پنجاب کی جیلوں میں مجموعی طور پر اچھے جیلر تعینات ہیں اس کے باوجود جیلوں میں کرپشن اور رشوت چلتی ہے۔مگر دیکھا جائے تو جیلوں میں

رشوت کے لین دین کی ایک بڑی وجہ بھی جیل ملازمین کی تنخواہیں دیگر صوبائی ملازمین کے مقابلے میں انتہائی کم ہونا ہے،کوئی سرکاری ملازم اپنے فرآئض دیانتداری سے کیونکر ادا کر سکتا ہے جب اس کو ملنے والی تنخواہ سے گھریلو اخراجات ہی پورے نہ ہوں،یکم جون 2020کو صوبائی وزیر قانون اورفنانس کی سربراہی میں ایک اجلاس میں فیصلہ ہواء کہ پولیس ملازمین کی تنخواہ اور الاؤنسز دیگر صوبائی ملازمین کے مساوی کئے جائیں،اور تمام گزیٹڈ نان گزیٹڈ ملازمین کو 20فیصد ایف ڈی اے الاؤنس دیا جائے جو دیگر صوبائی ملازمین کو دیا جا رہا ہے،ایس اینڈ جی ڈی کے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں ہونے والا اضافہ بھی دینے کا فیصلہ ہواء،اس سلسلہ میں فوری عمل درآمد ہو جاتا ہے جبکہ دوسر ی طرف ایسا ہی فیصلہ جیل ملازمین کیلئے ہوتا ہے مگر وہ سرخ فیتے کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس وقت پولیس ڈی ایس پی کی بنیادی تنخواہ 39ہزار570اور الاؤنس ملا کے ایک لاکھ دو ہزار 567روپے ہے،سول جج کی بنیادی تنخواہ ڈی ایس پی کے برابر مگر الاؤنس ملا کے ایک لاکھ 34ہزار 202روپے بنتی ہے،سیکرٹریٹ کے سیکشن افسر کو ایک لاکھ 48ہزار 452اور ضلعی انتظامیہ کے اسسٹنٹ کمشنر کی ایک لاکھ33ہزار152روپے ملتی ہے مگر سپرنٹینڈنٹ جیل کو الاؤنس سمیت 71ہزار92روپے ملتے ہیں،اس وقت سکیل 5سے 11تک کے جیل ملازمین 26ہزار584سیلری لے رہے ہیں جبکہ دیگر صوبائی ملازمین 38ہزار 811روپے لیتے ہیں،جوتعصب اور ظلم کی انتہا ہے،جبکہ جیل ملازمین کی ڈیوٹی راؤنڈ دی کلاک چلتی ہے کم از کم 16گھنٹے تو ضرور ہے،ان کو جیل حدود سے بغیر اجازت نکلنے کی اجازت بھی نہیں،ان کی ڈیوٹی عام ملازمین اور عدلیہ کے عملہ سے زیادہ سخت ہے انہیں گزٹیڈ ہالیڈے پر بھی چھٹی نہیں یہاں تک کہ عید بھی اہل خانہ کیساتھ نہیں گزار سکتے،جیلوں میں سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی حفاظت بھی جان جوکھوں کا کام ہے،گزشتہ پانچ سال میں کم تنخواہ اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تین ہزار سے زائد جیل ملازمین ملازمت چھوڑ چکے ہیں،یہ دلچسپ بات ہے یا ہولناک مگر محکمہ جیل کے گریڈ 16کے متعدد اسسٹنٹ سپرینٹنڈنٹ استعفیٰ دیکر 7ویں سکیل میں محکمہ پولیس جوائن کر کے کانسٹیبل بھرتی ہو چکے ہیں،ان حالات کے تحت تجویز دی گئی کہ جیل ملازمین کے الاؤنس بنیادی تنخواہ کے ڈیڑھ سو فیصد کی جائے،جبکہ بنیادی تنخواہ کا 50فیصد یوٹیلٹی الاؤنس کی مد میں دئیے جائیں گے،مگر دی گئی تجاویز میں جیل ملازمین کی مشکلات کا احاطہ کیا گیا مگر مداوا کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی گئی،فیض نے کیا خوب کہا۔

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے،بہت لا دوا نہ تھے

اسے تعصب نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو جیل ملازمین کی سیلری الاؤنسز میں اضافہ کیلئے مراسلہ ارسال کیا جاتا ہے،ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اسے محکمہ فنانس کو بھیج دیا،مگر اس کی ابھی تک منظوری نہ دی گئی، اب اگلا مالی سال آ گیا،یہ بھی خیال رہے کہ جیل وارڈنز کی پے سکیل 5سے 7میں ترقی کی سفارش بھی کی گئی مگر اس پر بھی کچھ نہ ہوا جبکہ اسی طرح کی سفارش کے تحت پولیس کانسٹیبلز کی گریڈ 7میں ترقی کی جا چکی ہے، یہ کیسا تضاد ہے یا حکومت کو صرف ان محکموں سے غرض ہے جو ان کے اقتدار کو استحکام دینے اور حکمرانوں کی خواہشات کے مطابق مخالفین کو نکیل ڈالنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں،ایک طرف کرپشن کے خاتمے کا شور ہے اور دوسری طرف رشوت ستانی کی راہ حکومت خود ہموار کر رہی ہے، یہاں وزیر قانون،فنانس کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر بھی عمل نہیں ہوتا،جس کے بعد جیل ملازمین کریں تو کیا کریں۔استاد امام دین گجراتی کا ایک شعر تھوڑے رد و بدل کے بعد

کوئی تن ویچے تے کوئی من ویچے

امام دین چھولے نہ ویچے تے چن ویچے

مزید :

رائے -کالم -