کورونا پر 3ارب امداد ملی، کلبھوشن کی سزا معاف نہیں بلکہ بھار ت کے ہاتھ کاٹ دیئے، حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جواب

      کورونا پر 3ارب امداد ملی، کلبھوشن کی سزا معاف نہیں بلکہ بھار ت کے ہاتھ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ کورونا ریلیف سرگرمیوں کی مد میں چین سے 4ملین ڈالر، امریکہ سے 2ملین ڈالر جبکہ جاپان سے اڑھائی ارب روپے امداد حکومت کو موصول ہوئی، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے غیر ملکی دوروں پر ایک ارب 80 کروڑ روپے کے اخراجات آئے جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دوروں پر10کروڑ71لاکھ روپے اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دوروں پر 25کروڑ 95لاکھ روپے کے اخراجات آئے، وزیر اعظم عمران خان نے 2018میں 6 غیر ملکی دورے کئے، جن پر 4کروڑ 56لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جبکہ وزارت صحت اور وزارت خارجہ نے تحریری جوابات میں کیا۔ جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ وینٹی لیٹرز بنانا ایک کامیابی ہے ہم این 95ماسک بنا رہے ہیں اور ایکسپورٹ کرنے کی پوزیشن تک آگئے ہیں۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پائلٹس لائسنس کے معاملے پربات رکے گی نہیں،آخری مجرم تک جائے گی،جس نے کسی کی جگہ بیٹھ کر امتحان دیا اس کا بھی لائسنس کینسل ہوگا،ایک دوسرے کی جگہ امتحان دینے والوں پر فوجداری مقدمات درج ہوں گے، پی آئی اے کو اس مقام پر لیکر جانا ہے جب لوگ ادارے پر ناز کرتے تھے، لائسنس اتھارٹی پر پوری نظر ہے، ذمہ داروں کیخلاف ایکشن ہوگا،پی آئی اے کو عیدالاضحی تک 4شہروں کیلئے ڈومیسٹک آپریشن کی اجازت ہے، عید کے بعد ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل آپریشن شروع ہوگا،یورپی یونین کے سیفٹی ادارہ کی طرف سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی ایک سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپیل میں جائیں گے، یورپ کے لئے پی آئی اے کی پروازیں جلد شروع ہو جائیں گی۔پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہو گی بلکہ اس کی تنظیم نو کی جائے گی اور پی آئی اے کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن لوگوں نے لائسنسوں پر دستخط کئے ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ سینیٹ میں آسیہ اندرابی کی غیر قانونی حراست کے خلاف قرارداد مذمت متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ سینٹر مشاہد حسین سید کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان آسیہ اندرابی اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔آسیہ اندرابی کی تہاڑ جیل میں غیرقانونی قید انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔حکومت پاکستان آسیہ اندرابی کی غیر قانونی قید کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے۔

سینیٹ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت ملک بھر میں 50ہزار نئے یوٹیلیٹی سٹورز کھولے جائیں گے، منصوبہ پر کام شروع ہو چکا ہے اور اس کیلئے نوجوانوں کو قرضے فراہم کئے جائیں گے، ترکی کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع ہو گئی ہے، فروری تک برآمدات میں 3فیصد اضافہ ہو ا، تجارتی خسارہ میں 27فیصد کمی ہوئی، کرونا وباء کے باعث پاکستان کی برآمدات میں منفی 6فیصد کمی ہوئی جو خطہ میں کم ترین ہے، روس کے ساتھ تجارت جلد بحال ہو گی، ایران کے ساتھ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت کیلئے کام جاری ہے، زرعی مصنوعات، مچھلی اور گوشت کی برآمدات میں فروغ کیلئے توجہ دے رہے ہیں، چاول کی برآمدات میں اضافہ کررہے ہیں۔ جمعہ کو ان خیالات کا اظہار وزیر مواصلات مراد سعید، پارلیمانی سیکرٹری کامرس عالیہ حمزہ ملک اور پارلیمانی سیکرٹری خزانہ زین قریشی نے وقفہ سوالات کے دوران کیا۔فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حساس سکیورٹی معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، بھارتی جاسوس کلبھوشن کو کوئی سزا معاف نہیں کی گئی، پاکستان عالمی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ بتانا چاہتا ہوں کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس لانا کیوں ضروری تھا، کلبھوشن کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا، 8 مئی 2017 کو بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں اپنا کیس فائل کیا۔ آئی سی جے نے کہا بھارتی جاسوس کو قونصلر تک رسائی دینی ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے مطابق آرڈیننس جاری کیا گیا۔بھارتی جاسوس کی سزا معاف نہیں کی گئی، ہم نے آرڈیننس جاری کر کے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، عالمی عدالت کا فیصلہ نہ مانتے تو وہ سلامتی کونسل چلے جاتے۔کلبھوشن کی سزا ختم ہوتی تواپوزیشن کے ساتھ مل کر احتجاج کرتا۔پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ ترکی میں برآمدات بڑھانے کیلئے کام کررہے ہیں، ترکی کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جو پہلے بالکل رکی ہوئی تھی، ترکی کے ساتھ اسٹرٹیجک اکنامک فریم ورک پر دستخط ہوئے ہیں، 450کمپنیوں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس ہوئے ہیں، ترکی میں تجارتی نمائشوں میں فعال انداز میں شرکت کی، ایم او یو سائن ہو چکے ہیں، ترکی کے 40وفود نے دورہ کیا ہے، فروری کے اعداد و شمار کے مطابق 3فیصد برآمدات میں اضافہ تھا، تجارتی خسارہ 27فیصد کم ہوا، کروناکی وجہ سے پاکستان کی صرف منفی6فیصد برآمدات میں کمی آئی، روس کے ساتھ دہائی پرانا مسئلہ حل ہو گیا ہے، روس کے کامرس منسٹر کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، ایگریمنٹ کی تیاری کر رہے ہیں، روس کے ساتھ تجارت جلد بحال ہو گی۔ عالیہ حمزہ نے کہا کہ 20ارب کا کرنٹ خسارہ تھا، اب 2ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔زین قریشی نے کہا کہ تجارت میں آسانی پیدا کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں، ٹیکسٹائل پر سیلز ٹیکس میں کمی کی ہے،1600 ٹیرف لائز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی ہے، سٹیل کی صنعت پر اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کی ہے۔ تحریک انصاف کے رکن فضل محمد خان نے کہا کہ ملک میں زرعی زمینیں ختم ہو رہی ہیں ان کی جگہ ہاؤسنگ سکیمیں بن رہی ہیں۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے، اس پر مشترکہ قرارداد لانی چاہیے، کوئی رکن قرار داد تیار کرے پیر کو منظور کرلیں گے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -