اب ٹیچنگ لائسنس بنیں گے، ایک ماہ میں اساتذہ کی تعدا د مکمل کرلیں گے: وزیر تعلیم

اب ٹیچنگ لائسنس بنیں گے، ایک ماہ میں اساتذہ کی تعدا د مکمل کرلیں گے: وزیر ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب حکومت نے ٹیچنگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا وزیر تعلیم مراد راس کہتے ہیں کہ ٹیچر لائسنسنگ ایکٹ جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا جبکہ آئندہ ایک ماہ میں صوبے کے تمام سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کو مکمل کرلیں گے۔پرائیوٹ سکول کی رجسٹریشن بھی آن لائن کی جائے گی۔وزیر تعلیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج۔بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پرنعرے بازی اور شور شرابہ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں محکمہ جنگلات و فشریر کے بارے میں سوالوں کے جوابات متعلقہ وزیر سبطین خان نے دئے، متعلقہ وزیر نے رکن اسمبلی رانا منان خان کے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت ''وائلڈ فروٹ ٹریٹ پریچز'' پروکیٹ شروع کرنے جا رہی ہے جس میں پھل دار پودوں سمیت5لاکھ پودے لگائے جائیں گے،رکن اسمبلی شاہدہ احمد کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت جنگلات اور جنگلی حیات کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔صوبے کو گرین پنجاب بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ آنے والے 3 سے 4 سالوں میں گرین پنجاب کے زیادہ تر ہداف مکمل کر لیں گے۔سفیدے کے ساتھ ساتھ فروٹ والے درخت بھی لگا رہے ہیں۔نکتہ اعتراض پر رانا محمد اقبال نے کہا کہ پنجاب اسمبلی ایڈوائزری کمیٹی میں طے ہوا تھا کہ حکومت کے 54 اور اپوزیشن کے 48 ممبران ایوان میں حاضر ہوں گے۔جو معزز ممبرز نہیں آئے انکے سوالات کو موخر کر دیا جائے۔ پینل آف چیئرمین نے کہا کہ ایڈوائزری کمیٹی میں یہ طے ہوا تھا کہ جن ممبران کے سوالات ہوں گے انکی پارٹی کے چیف وہب نام دیں گے۔ آپکے چیف وہب نے انکے نام نہیں دئیے۔لہذا انکے سوالات موخر نہیں ہوسکتے۔ اجلاس میں 12 موسموں کا ذکرکرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی راحیلہ خادم حسین نے صوبائی وزیر جنگلات سبطین خاں سے دلچسپ مکالمہ کیا اور کہا کہ وزیر موصوف نے سوال کے جواب میں صرف دو موسموں کاذ کر کیا ہے لیکن باقی 10 موسموں کاذکر نہیں کیا۔ میں نہیں کہہ ہی وزیراعظم پاکستان کہتے ہیں کہ پاکستان میں 12 موسم ہوتے ہیں۔وزیر موصوف کو میں زیادہ تنگ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ پہلے ہی نیب انہیں تنگ کر رہی ہے۔جس پر صوبائی وزیر جنگلات سردار سبطین خاں نے راحیلہ خادم حسین کو جواب میں کہا کہ آپ مجھے باقی 10 موسموں کے نام بتا دیں تو میں آپکو جواب دے دوں گا۔جہاں تک میری نیب والی بات ہے تو میں نے خود وزارت سے استعفی دیا تھا۔مجھے کسی نے استعفی دینے کا نہیں کہا تھا۔جب میں صمانت پر رہا ہوا تو میں نے وزارت نہیں مانگی تھی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ وزیر جنگلات ضمانت کے بعد یہاں پر بیٹھے ہیں۔ صمانت ملنے کے بعد انکو وزارت دی گئی۔یہاں پر تو اپوزیشن لیڈر ضمانت پر بھی نہیں ہیں اور ہم انکو برداشت کر رہے ہیں۔اس ددوران اپوزیشن کی جانب سے متعددممبران مسلسل پوائینٹ آف آرڈر پر بات کرنے اجازت مانگتے رہے جس پر وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو رولز سے آگاہ کیا کہ رولز ایجنڈے سے ہٹ کر پوائینٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ جس پر اپوزیشن کی جانب سے بھی نکتہ اعتراض پر بات کرنے کے لئے رانا مشہود ملک ارشد، طاہر خلیل سندھر رمیش سنگ اروڑہ سمیت دیگر چیئر سے نکتہ اعتراج پر بات کرنے کی اجازت مانگتے رہے لیکن انہوں نے کسی کو اجاز ت نہیں دی ،اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج شروع کردیا اور نعرے لگانے شروع کردئے شور اس قدر تھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی،اسی ددوران چیئرمین نے تعلیم پر عام بحث کے آغاز کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر مراد راس کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اورایوان میں اپوزیشن کی نعرے بازی کی اور ڈیسک بجانا شروع کردئیے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے وزارت سنبھالی تو مجھے لگا جیسے میں تعلیم کا وزیر نہیں بلکہ وزیر ٹرانسفر ہوں،ان کی دس سال حکومت رہی انہیں اب بولنے کی بجائے منہ پر انگلی رکھ کر بیٹھ جانا چاہیے، اگر پی ٹی آئی کی دس سال تک حکومت رہتی تو ہم کبھی نہ بولتے، یہ لوگ اربوں کی کرپشن کرتے رہے انہوں نے بتایا کہ 22 ہزار ٹرانسفر کی درخواستیں آئیں صرف 23 شکایات آئیں ٹیچرز کی ٹرانسفرز کا معاملہ احسن انداز سے نمٹایاصرف ایک ایپ بنائی جس پر ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہواخواتین ٹیچرز کے والدین ہمارے ممنون ہوئے،70فیصد بچے پانچویں کلاس کے بعد سکولوں سے غائب ہو جاتے تھے سکول نہ ہونے کی وجہ سے، 22ہزار بچوں کو سکولوں میں واپس لائے ایک ہزار شام کے نئے سکول کھول رہے ہیں 1227سکول اپ گریڈ کئے گئے ایک لاکھ سے زیادہ بچہ سکولوں میں واپس آگیایہ دس سال وزیر رہنے کے بعد شکایت لے کر آتے ہیں کہ میرے حلقے کا سکول ٹھیک نہیں پرائیویٹ سکولز ایکٹ پہلی بارلا رہے ہیں اس ایکٹ میں ہراسمنٹ کی شق لائی جارہی ہے ڈاکٹر، انجنئیرز کی طرح ٹیچر لائسنسنگ ایکٹ بھی لایا جارہا ہے اس اقدام سے ٹیچرز کو دوسرے ممالک میں روزگار کے مواقعے ملیں گے آئندہ ایک ماہ میں صوبے کے تمام سکولوں میں اساتذہ کی تعداد مکمل کرلیں گے عید کے بعد ساٹھ ہزار پرائیویٹ سکولز کی آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع کررہے ہیں پیسے اور سفارش کا کردار ختم کردیں گے تعلیمی اداروں میں دونمبری کے لئے کبھی ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا گیا۔رانا مشہودنے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کو صرف تعلیم ہی آگے لے کر جاسکتی ہے وزیر تعلیم کا رویہ ایسا ہے کہ انہیں یہ ذمہ داری نہیں ملنی چاہئے تھی ہماری حکومت نے ڈھائی لاکھ نئے ٹیچرز بھرتی کیے کسی ایک بھرتی پر بھی کوئی انگلی نہ اٹھا سکاپنجاب کے سکولوں کا تمام ڈیٹا مرتب کیاکیمبرج اور دیگر عالمی اداروں کا ماڈل پنجاب کے تعلیمی اداروں میں متعارف کرایا،موجودہ حکومت نے جتنے پراجیکٹ ایوان میں گنوائے ہیں یہ سب کے سب شہباز دور کے ہیں انہی پروگراموں کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں،میرے ساتھ بیٹھ کر بات کرلیں، ابھی ان کی تقریر شرو ہوئی تھی کہ اجلاس کا وقت ختم ہوگیا اس وقت قہقوں سے گونج اٹھا جب پینل آف چئیرمن نے رانا مشہود کو تقریر مختصر کرنے کا کہتے ہوئے کہا کہ جمعہ کا خطبہ شروع ہونے والا ہے۔جس ہر رانا مشہود نے کہا کہ وزیر موصوف کا تو حرام خطبہ سن لیا اب میرا حلال خطبہ بھی سن لیں۔اپوزیشن نے چیئر سے کہا کہ یا اجلاس جمعہ ککے بعد بھی جاری رکھا جائے تعلیم پر پیر والے دن دوبارہ بحث کرائی جائے،۔ اسی ددوران وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس چوہدری ظہیر الدین کی جانب سے چیئر کو کہا گیا کہ جمعہ کا وقت ہے اجلاس ملتوی کرردیں جس پر چیئر نے اجلاس پیر مورخہ27جولائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -