ٹرمپ کا تشدد احتجاج روکنے کیلئے ملک بھر میں آپریشن کرنے کااعلان

  ٹرمپ کا تشدد احتجاج روکنے کیلئے ملک بھر میں آپریشن کرنے کااعلان

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پورے ملک میں جہاں جہاں بھی پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہونگے ان کو ”آپریشن لیجنڈ“ سے روکا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ جو بھی متاثرہ ریاستیں ہیں وہاں وفاقی سیکیورٹی اہلکار متعین کئے جائیں گے۔ یاد رہے امن و امان کا قیام قانونی لحاظ سے بنیادی طور پر ریاستوں کی ذمہ داری ہے لیکن چند ماہ قبل منی سوٹا کی ریاست میں ایک سیاہ فام کی سفید پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت سے نسلی منافرت کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے تو اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیل گیا تھا۔ اس کے بعد ہنگاموں پر قابو پانے کیلئے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر وفاق نے مداخلت کی۔ حال ہی میں شروع کئے جانے والے اس سلسلے میں خصوصی آپریشن کو وائٹ ہاؤس نے ”آپریشن لیجنڈ“ کا نام دیا اور اب صدر ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ اس کا داثرہ پورے ملک تک بڑھا دا جائے۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کی میڈیا کو بریفنگ کے دوران محکمہ انصاف کے سربراہ اٹارنی جنرل ولیم بر بھی موجود تھے جنہوں نے اس آپریشن پر عملدرآمد کی تفصیلات میڈیا کو بتائیں۔ امن و امن کے قیام میں وفاق کی مداخلت کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر متاثرہ ریاستوں کے گورنروں کا مخالف ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو اس احتجاج کو دبانے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ گزشتہ شام کی پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ کا لہجہ کافی سخت تھا جنہوں نے احتجاج کے بہانے امن و امان کو درہم برہم کرنے والوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ متاثرہ ریاستوں میں وفاقی سیکیورٹی اہلکار متعین کرنے کا یہی مقصد ہے کہ ان ریاستوں کے پرامن شہریوں کو ان جرائم سے نجات دلائی جائے۔ اس وقت پرتشدد مظاہروں کا زیادہ تر زور ریاست ایلی نوائے کے شہر شکاگو کے علاوہ دو ریاستوں نیو میکسیکو اور اوریگن میں ہے وائٹ ہاؤس کی طرف سے”آپریشن لیجنڈ“ کا دائرہ پورے ملک تک بڑھانے کے اعلان کے بعد سب سے پہلے شکاگو کے میئر لوری فائٹ فٹ اور نیو میکسیکو کے گورنر مچل کرشم نے مزاحمتی بیان جاری کئے ہیں جنہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ وفاق کو ان کے علاقے میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -