عدالت عظمی نے نیب کا ناکارہ اور ظالمانہ تفتیشی سسٹم عیاں کر دیا ہے

عدالت عظمی نے نیب کا ناکارہ اور ظالمانہ تفتیشی سسٹم عیاں کر دیا ہے

  

لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر طاہر نصر اللہ وڑائچ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے ناکارہ اور ظالمانہ تفتیشی سسٹم کو عیاں کر دیا ہے۔اب پارلیمنٹ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فوری طور پر نیب آرڈیننس میں بھی ترمیم اور تفتیشی نظام میں موجود سقم دور کرے۔وہ روزنامہ ”پاکستان“ کے سلسلہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا نیب کے تفتیشی افسران ہر کیس کی نامکمل تفتیش کرتے ہیں اور ہر کیس عدالت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ عدالت فیصلہ کرے جب عدالت کے پاس نامکمل چالان آئیں گے اور کیس کی رو کے مطابق تفتیش نہیں ہوئی ہوتی تو ایسے کیسز میں تاخیر ہوتی ہے جس کے تمام تر ذمہ دار نیب اور ان کے تفتیشی افسران ہیں۔دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں جس طرح نیب جس پر الزام ہوتا ہے اس کو تفتیش کے دوران حراست میں لے لیتے ہیں۔حالانکہ ملزمان نیب سے ہر قسم کا تعاون کرتے ہیں اورگرفتاری پر مجبوراً پلی بارگیننگ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہم پارلیمنٹ، تمام سیاسی جماعتوں خواہ حکومت میں یا اپوزیشن میں مطالبہ کرتے ہیں سپریم کورٹ کی تشریح کے بعد ان پر فرض بنتا ہے وہ فوری نیب آرڈیننس میں ترمیم کریں۔

طاہر نصراللہ

مزید :

صفحہ اول -