وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کی تقرریاں لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کی تقرریاں لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)وزیر اعظم عمران خان کے مشیروں اورمعاونین خصوصی کی تقرریاں لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئیں،اس سلسلے میں ندیم سرور ایڈووکیٹ کی طرف سے آئینی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت 16مشیروں اور معاونین خصوصی کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کی سفارش پر صرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا جا سکتا ہے، آئین کے آرٹیکل 2 (اے)کے تحت غیر منتخب شخص کے ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتا، آرٹیکل 90کی ضمنی دفعہ 1 کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کے نہیں چلائی جا سکتی، آئین کے آرٹیکل93کے تحت وزیراعظم کے5سے زیادہ مشیر مقررنہیں کئے جاسکتے،وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کر نے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے فرائض انجام دینے کے اہل نہیں ہیں، وزیر اعظم کے دہری شہریت کے حامل مشیران اورمعاونین خصوصی ریاست پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک ہیں، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان،محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا، معید یوسف،زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ندیم افضل چن، شہباز گل اور تانیہ ایس اردس کومشیر ان اورمعاونین خصوصی کے عہدوں سے ہٹایا جائے، درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ ان مشیروں اور معاونین خصوصی کو فوری طور پر کام سے روکنے اورآرٹیکل 90کی ضمنی دفعہ 1 کے تحت منتخب ارکان اسمبلی کو وفاقی وزراکے عہدوں پر تعینات کرنے کاحکم دیا جائے، درخواست کے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم عمران خان کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

تقرریاں چیلنج

مزید :

صفحہ آخر -