بیگوایپ پر پابندی، پاکستانی کرکٹرز کی کمائی خطرہ میں پڑگئی

    بیگوایپ پر پابندی، پاکستانی کرکٹرز کی کمائی خطرہ میں پڑگئی

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بیگو پر پابندی کے بعد اسے استعمال کرنیوالے افراد کی آمدن بھی بند ہو گئی ہے کئی پاکستانی کرکٹرز بھی بیگو ایپ پر ہوسٹ کے طور پر موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ کھلاڑی کسی بھی بیگو ٹیم کا حصہ بنے بغیر کیمرے پر آ کر عوام سے ’تحفے‘ وصول کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر بیگو ٹیمز کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد کانٹریکٹ اور مہینہ وار ٹارگٹ پورا کر رہے۔جن میں محمد عامر، فواد عالم، کامران اکمل، عمر اکمل، سلمان بٹ، یاسر حمید، عمران فرحت، ہمایوں فرحت، سہیل تنویر، عمران نذیر، صہیب مقصود، اسد علی، عظیم گھمن، ذوالفقار بابر، احسان عادل، عبدالرزاق اور سعید اجمل سمیت دیگر متعدد موجودہ اور سابق کھلاڑی شامل ہیں۔اس ایپ میں کھیلی جانے والی ’پی کے‘ گیم میں صارفین پیسوں کے بدلے خریدے جانیوالے ’بیگو ڈائمنڈز‘ سے اپنے پسندیدہ پلیئرز کو تحائف بھیجتے ہیں جو انکے مہینہ وار ٹارگٹ کی تکمیل کا واحد ذریعہ ہے اور اگر وہ کامیاب ہو جائیں تو انھیں بیگو کی طرف سے اس ٹارگٹ کے عوض ماہانہ تنخواہ اور کمیشن بھی وصول ہوتا ہے، جو ہزاروں سے لاکھوں کے درمیان ہے کامران اکمل اور سہیل تنویر سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ یہ ایپ ہمارے لیے صر ف فینز سے رابطے کا ذریعہ ہے جبکہ انہیں اسکی آمدنی سے کوئی غرض نہیں۔عاقب جاوید کابین الاقوامی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'اخلاقی طور پر تو کسی کھلاڑی کو اس طرح کی جگہ پر موجود ہی نہیں ہونا چاہییے۔

جہاں تک مالی فائدے کا تعلق ہے تو کوئی کھلاڑی ڈھائی سو ڈالر سے زیادہ مالیت کا تحفہ قبول نہیں کر سکتا، اگر کوئی ایسا کرتا بھی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کے شعبے کے علم میں لانا ضروری ہے اور اسے تحفہ دینے والے شخص سے رشتہ یا تعلق اور وجہ بتانا بھی لازم ہے۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کاکا بیان سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ انھیں کس طرح یہ پلیٹ فارم استعمال کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ کھلاڑیوں کا اپنے پرستاروں سے براہ راست رابطے میں رہنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔’یہ دنیا کے متعدد ملکوں میں بھی عام ہے کہ کھلاڑی اپنے پرستاروں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہ راست رابطے میں رہتے ہیں لیکن ہم نے اپنے کھلاڑیوں سے کہہ رکھا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بات کریں اور پروفیشلزم کو ذہن میں رکھیں۔کھلاڑیوں کو یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ وہ نامعلوم یا مشکوک افراد سے رابطہ اور میل جول نہ رکھیں۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -