عدالت عالیہ کا ہم جنس پرست جوڑ ے کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا حکم

عدالت عالیہ کا ہم جنس پرست جوڑ ے کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا حکم

  

راولپنڈی (آن لائن)عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے ٹیکسلا میں ہم جنس پرستی کے تحت شادی کرنیوالے جوڑے کو پولیس سکیورٹی میں میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیدیا جبکہ جوڑے کے وکلا نے پولیس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے استدعا کی کہ راولپنڈی پولیس انہیں ہراساں کرتی ہے، لہٰذاجوڑے کی سکیورٹی لاہور پولیس کو سونپی جائے۔ عدالت نے سما عت 4 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کیس کے حل کیلئے عدالت کے پاس3 آپشنز ہیں ایک کیس مکمل طور پر ایڈیشنل ڈ سٹر کٹ ایندسیشن جج ٹیکسلا کو بھیج دیا جائے، دوم عدالت عالیہ خود کوئی جنرل آرڈر پاس کر دے سوئم وکلا اس پر معاونت کریں لیکن تینوں صورتوں میں علی آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ اور اس کی رپورٹ لا ز می ہے۔ جمعہ کے روزسما عت کے موقع پر اسما بی بی عرف آکاش دوسری مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکی، آکاش کے وکیل نے آکاش کی منفی کورونا رپورٹ عدالت میں پیش کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دونوں میاں بیوی کو عدالت پہنچنے کیلئے سکیورٹی فراہم کی جائے۔آکاش کے وکیل نے عدالت کو بتایا آکاش نے وکیل کے کہنے پر جو بیان دیاوہ در ست نہیں تھااب پہلے وکیل نے مقدمہ کی پیروی سے انکار کیا ہے اور اسوقت چونکہ آکاش شدید بیمار ہے لہٰذا عدالت حاضری کیلئے10 دن کا وقت دے جس پرعدالت نے سی پی او راولپنڈی کو آکاش کوسکیورٹی فراہم کرنے اور میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا اسلامی قوانین میں عورت کی عورت سے شادی جائز نہیں۔

راولپنڈی عدالت

مزید :

صفحہ آخر -