وزیراعظم نے تعمیراتی شعبہ کیلئے انقلابی اقدامات کئے، محمودالرشید

    وزیراعظم نے تعمیراتی شعبہ کیلئے انقلابی اقدامات کئے، محمودالرشید

  

لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ کے شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے کئے جانے والے انقلابی اقدامات کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی- اس مقصد کے لئے دفتری طریقہ کار کو بھی آسان بنایا گیا ہے تا کہ اس سے زیادہ شہری‘ بلڈرز اور ڈویلپرز اس سے استفادہ کر سکیں -تعمیراتی شعبے اور ہاوسنگ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کیلئے یکم جولائی سے ڈویژن کی سطح پر ای خدمت مراکز قائم کر دئیے گئے ہیں جہاں رہائشی و کمرشل عمارتوں کے نقشے30دن میں منظور کئے جا ئیں گے‘ عمارتوں کا تکمیلی سرٹیفکیٹ بھی 30دن میں جاری کیا جائے گا‘ زمین کے استعمال میں تبدیلی کی اجازت45دن میں دی جا ئے گی اور رہائشی سکیموں کی منظوری کے لئے 75دنوں کی مدت مقرر کی گئی ہے- انہوں نے بتایا کہ 15اگست سے ای خدمت مراکزکا دائرہ کار صوبہ بھر کے تمام اضلاع تک وسیع کر دیا جائے گا-ایل ڈی اے،دیگر ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، لوکل گورنمنٹ میں ای خدمت مراکز قائم کر دئیے گئے ہیں -لاہور میں ارفع کریم ٹاور اور ٹاؤن ہال میں ای خدمت مراکز قائم کئے گئے ہیں -وہ تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لئے حکومت کے اقدامات کے بارے میں ایوان وزیر اعلیٰ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے-

اس موقع پرسیکرٹری ہاؤسنگ ندیم محبوب‘ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑاور ڈائریکٹر جنرل ای گورننس ساجد لطیف بھی ان کے ہمراہ تھے-میاں محمود الرشید نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے ویژن اور وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں ہم نے ای گورننس کے تحت معیشت کی بحالی کے سفر کا آغاز کر دیا ہے- شہریوں کو تعمیراتی نقشہ منظور کروانے اورڈویلپرز کو رہائشی سکیموں کی منظوری حاصل کرنے کے لئے جن مشکلات سے گزرنا پڑتا تھا اب ان سے چھٹکارہ مل گیا ہے -انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف منظوری کا عمل تیز ہو گا بلکہ سرخ فیتے اور کرپشن کا بھی خاتمہ ہو گا-انہوں نے بتایا کہ ای خدمت مرکز پر دستاویزات جمع کروانے کے بعد کسی دفتر کا چکر لگانے کی ضرورت نہیں‘اگر طے شدہ ٹائم لائن میں کسی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں آتا تو نقشہ منظور تصور کیا جائے گااور درخواست گزار انفرادی طور پر وہ شخص تعمیراتی کام شروع کر سکتا ہے- گزشتہ بیس دنوں میں ای خدمت مراکز پر 1373 لوگوں نے اپلائی کیاہے اور 497درخواست گزاروں کو مختلف نوعیت کی منظوریاں دی جا چکی ہیں -میاں محمود الرشید نے کہا کہ 30 دسمبر تک کنسٹرکشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ان کی 90فیصد آمدنی پر معمولی ٹیکس عائد کئے ہوں گے -انہوں نے کہا کم آمدنی والے شہریوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے مارگیج فنانسنگ پہلی بار متعارف کروائی گئی ہے اور تمام بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرضوں کے لئے جاری کی جانے والی رقم کا پانچ فیصدمکانات کی تعمیر کے لئے جاری کریں -اس مقصد کے لئے صرف پانچ فیصد شرح ّ سودپر قرض مہیا کیا جائے گا- انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پہلے ایک لاکھ گھروں کو تین لاکھ روپے فی مکان بھی سبسڈی دی جائے گی- اس مقصد کے لئے 33ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -