نوشہرہ،قتل کے مقدمے میں مطلوب ملزم گرفتاری کے ایک ماہ بعد رہا

نوشہرہ،قتل کے مقدمے میں مطلوب ملزم گرفتاری کے ایک ماہ بعد رہا

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) نوشہرہ پولیس کی ناقص تفتیش، قتل کے مقدمے میں مطلوب ملزم گرفتاری کے ایک ماہ بعد رہا۔ مقتول کی والدہ اور ہمشیرہ جب انصاف مانگنے کیلئے اے ایس پی نوشہرہ کینٹ کے دفتر پہنچے تو انہوں نے دفتر سے نکال دیا، مقتول کی والدہ، بہنیں فریاد لیکر نوشہرہ پریس کلب پہنچ گئیں،وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی پی خیبر پختونخواہ سے داد رسی کا مطالبہ، قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو ہم اجتماعی خوکشی پر مجبور ہوں گے ا س سلسلے میں نوشہرہ کے علاقہ ڈھیری کورونہ رسالپور کی رہائشی خاتون ثمینہ دختر تلاوت نے اپنی والدہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میرا بھائی اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو منانے گیا تھا لیکن وہاں پر موجود ان کے سالے، سالی اور ہم زلف نے مل کر ان پر اندھا دھند فائر کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان دھندانتے پھر رہے ہیں جبکہ اس وقت کے تھانہ رسالپور کے تفتیشی کے ناقص تفتیش اور کمزور ایف آئی آر کے اندارج سے ہمارا کیس کمزور ہوا ہے اور ہم انصاف کیلئے دربد کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں نوشہرہ پولیس ہمیں انصاف کی فراہمی میں تعاون نہیں کر رہی ہے الٹا اے ایس پی سرکل نوشہرہ کینٹ نے داد رسی کی بجائے دفتر سے نکال کر بے عزت کیا ہمیں انصاف فراہم کرکے ملزمان گرفتار کئے جائے کیونکہ ملزمان ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو ہم خودسوزی پر مجبو ر ہوجائیں گے انہوں نے کہا میرا بھائی آصف 12-5-2020کو اپنی پہلی بیوی مسماۃ (ز) کو منانے اپنے سسرال علاقہ کنڈر گیا ہوا تھا کہ اس دوران ان کے سالے لائق، ہم زلف آیاز اور سالی نے ان پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوا انہوں نے کہا کہ ان کو قتل کرنے کے خلاف ہم نے تھانہ رسالپور میں ایف آئی آر درج کر دی لیکن کمزور ایف آئی آر اور ناقص تفتیش کی وجہ سے ہم انصاف کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں انہوں نے الزم عائد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو پولیس ملزمان کی گرفتار ی میں ٹال مٹول کر رہی تھی لیکن بعد میں تھانہ رسالپور کے اس وقت کے تفتیشی افسر کاشف نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے رقم کا بھی مطالبہ کیا اور ہم نے دے بھی دیں لیکن بااثر ملزمان گرفتار نہ ہوسکے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مخالفین بااثر ہیں اور ہم کمزور مخالفین ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس وجہ سے ہم نے اپنا گھر بار چھوڑ کر علاقہ بدر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ASPسرکل کینٹ بلال احمد کے پاس اپنا فریاد لیکر گئے لیکن انہوں نے دادرسی بجائے الٹا ہمیں بے عزت کرکے مہیں اپنے دفتر سے نکال دیا ہے کیا یہ وہ تبدیلی ہے انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلیٰ کیبر پختونخواہ محمود خان، چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی پی خیبر پختونخواہ، ڈی آئی جی مردان ریجن مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کرکے ملزمان کو گرفتار کئے جائیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں بصورت دیگر ہم نوشہرہ شوبرا چوک میں خود سوز پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -