سنتھیا ملک بدری کیس میں وزارت داخلہ ملکی امیج کیساتھ کھیل رہی ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

  سنتھیا ملک بدری کیس میں وزارت داخلہ ملکی امیج کیساتھ کھیل رہی ہے: اسلام ...

  

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کو ملک بدر کرنے کے کیس میں وزارت داخلہ کی رپورٹ پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ پر نظر ثانی کا حکم دیدیا۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کو ملک بدر کرنے کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔سنتھیا رچی اپنے وکیل کیساتھ جبکہ درخواست گزار کی جانب سے لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ پر عدالت کی برہمی کا اظہار کیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہاکہ آخری سماعت پر وزارت داخلہ کا جواب جمع کراچکا ہوں، سنتھیا ڈی رچی کے پاس 31 اگست تک پاکستان کا ویزہ ہے۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ سنتھیا رچی کے خلاف ایف آئی اے میں کیسسز چل رہے ہیں، امریکی خاتون پاکستانی شہری نہیں تو سرکاری ادروں کے ساتھ کام کیسے کیا؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ امریکی خاتون کی جانب سے بڑے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا خیبرپختونخوا اور آئی ایس پی آر کے ساتھ کام کررہی ہے، کیا وفاقی حکومت سورہی تھی۔ سنتھیا رچی کے حوالے سے وزارت داخلہ کی رپورٹ سے غلط تاثر دیا گیا ہے۔ کسی بھی غیر ملکی کو ملک کے ساتھ کھیلنے کا کوئی حق نہیں۔ کس قانون اور ایگریمنٹ کے تحت غیر ملکی کے ساتھ کام کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ عدالت کسی بھی مفروضے کو نہیں مانتی، جو بندہ آئی ایس پی آر کے ساتھ کام کرے انکو بیان دینے کا کوئی حق نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے مزید وقت مانگنے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کوئی بندہ پولیس سٹیشن تک نہیں گیا۔ طارق کھوکھر نے کہاکہ الزامات کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی جاری ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس رپورٹ کے ساتھ آپ ملک کی امیج کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ سیکرٹری داخلہ کو ملک کی امیج کا خیال نہیں مگر اس عدالت کو ہے بعد ازاں کیس کی سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -