حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر بلاول بھٹو نے گزشتہ عام انتخابات کے بارے میں تہلکہ خیز بیان دے دیا ،نیا الزام لگا دیا

حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر بلاول بھٹو نے گزشتہ عام انتخابات کے بارے میں ...
حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر بلاول بھٹو نے گزشتہ عام انتخابات کے بارے میں تہلکہ خیز بیان دے دیا ،نیا الزام لگا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہاہے کہ تاریخ میں کبھی الیکشنوں میں اتنی دھاندلی نہیں ہوئی ،جتنی گزشتہ عام انتخابات میں کی گئی ،سلیکٹڈ خان کے لیے ہماری فوج کو پولنگ اسٹیشنوں پر بٹھا دیا گیا،اب پاکستان کے عوام ایک پیج پر ہیں ،سلیکٹڈ عمران کو جانا پڑے گا ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ الیکشن میں دہشت گردی کے واقعات کس طرح ہوئے ،الیکشن کے دوران کئی سیاسی لوگوں پر حملے ہوئے ،پیپلز پارٹی کے الیکشن کیمپ پر حملہ ہوا ،یہ تو خبر بھی نہیں تھی ،میرا پہلا الیکشن تھا ۔ان کاکہنا تھا کہ اس سلیکٹڈ عمران نے پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ جو کیا وہ آپ کے سامنے ہے ،تاریخ میں اتنی بری معاشی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ،اگر یہ سلیکٹڈ رہے گا تو معیشت اور بھی گر جائے گی ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تو کہتے تھے صاف شفاف عمران کو وزیراعظم کی سیٹ پر بٹھا دیں تو کرپشن ختم ہو جائے گی ،اب جتنی کرپشن نئے پاکستان میں ہوئی اتنی کسی دور میں نہیں ہوئی ،عمران خان کہتے تھے کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے لیکن حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ این آر او انہوں نے دیے ،بی آر ٹی بنانے والوں کو مزید ٹھیکے ملے ہیں ،سونامی ٹری میں کرپشن ،عمران خان نے ہر مافیہ کو این آر او دیا چینی، آٹا، تیل چوری میں این آر او اور سب سے بڑھ کر کلبھوشن یادیو پر بھی این آر او دیا۔بلا ول بھٹو نے کلبھوشن یادو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا اپوزیشن سے اس پر بات کرنی ہے ،بالکل ٹھیک ہے لیکن آپ کو یہ آرڈیننس قومی اسمبلی میں لے کر آنا تھا ۔آپ آرڈیننس قومی اسمبلی میں نہیں لائے پاکستان کے قانون کی خلاف ور زی کی ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر حکومت اس آرڈیننس کو لانے سے پہلے ہم سے مشورہ کرتی تو ہم انہیں کہتے کہ آپ ایک شخص کے لیے قانو ن نہیں بنا سکتے ،پچھلی حکومت نے واضح اکثریت سے ایک شخص کے لیے قانون بنا یا تھا ،سپریم کورٹ نے اس قانون کو ختم کیا کہ ایک شخص کے لیے قانون نہیں بنا سکتے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اس آرڈیننس کے حوالے سے اگر دال میں کچھ کالا نہیں تھا تو اتنا خفیہ رکھنے کا مقصد کیا تھا، آپ نے پارلیمنٹ سے کیوں چھپا یا ۔بلاول بھٹو نے بتا یا آرڈیننس میں انہوں نے ساٹھ دن دیے تھے کلبھوشن یادیو اور بھارت کو اس کا فائدہ لیا ۔نہ بھارت نے اس کا فائدہ اٹھا ساٹھ دنوں میں اور نہ ان ساٹھ دنوں میں پارلیمنٹ میں بتا یا گیا ۔آپ کے پاس مسئلہ یہ ہے پیپلز پارٹی نے کبھی انسانی حقوق اور پاکستانی آئین پر کمپرومائز نہیں کیا۔جب یہ ایشو اٹھا یا گیا تو پھر آپ نے سوچا کہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں لا یا جائے ۔حکومت نے پیپلز پارٹی سے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ۔

مزید :

قومی -