امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں سے کتنے فیصد شوگر کے مریض تھے؟ انتہائی حیران کن اعدادوشمار سامنے آگئے

امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں سے کتنے فیصد شوگر کے مریض تھے؟ ...
امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں سے کتنے فیصد شوگر کے مریض تھے؟ انتہائی حیران کن اعدادوشمار سامنے آگئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں کورونا وائرس کن لوگوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنا رہا ہے؟ اس حوالے سے امریکہ محکمہ انسداد امراض کے ماہرین نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بری خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکہ کی 15ریاستوں میں کورونا وائرس سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین نے بتایا ہے کہ ان میں حیران کن طور پر 40فیصد افراد ایسے تھے جو ذیابیطس کے مریض تھے۔ یہ پندرہ ریاستیں ایسی ہیں جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی شرح باقی امریکہ سے کافی زیادہ ہے۔ اسی لحاظ سے امریکی محکمہ انسداد امراض انہیں ’ذیابیطس بیلٹ‘ قرار دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ریاستوں میں نارتھ کیرولینا، الباما، میسسپی و دیگر شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے نوکریاں چلی جانے سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں میں انسولین خریدنے کی سکت نہیں رہی اور جب وہ کام پر واپس جاتے ہیں تو ان کو کورونا وائرس لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس شخص کے خون میں شوگر زیادہ موجود ہو، اس میں کورونا وائرس تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتا اور پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر کے مریضوں میں اس وباءکی علامات سنگین ہونے اور ان کی اموات ہونے کی شرح بہت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے یہ تنبیہ بھی جاری کی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -