نیب کے لیے بڑی مشکل کھڑی ہو گئی ،حکومت نے بھی گرین سگنل دے دیا

نیب کے لیے بڑی مشکل کھڑی ہو گئی ،حکومت نے بھی گرین سگنل دے دیا
نیب کے لیے بڑی مشکل کھڑی ہو گئی ،حکومت نے بھی گرین سگنل دے دیا

  

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرپشن فری پاکستان سب کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن 10 سال تک نیب قوانین میں بہتری نہیں لاسکیں،حکومت نیب قانون میں تبدیلی کے لیے تیارہے، وزیراعظم کے حکم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قومی نوعیت کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے،ایف اے ٹی ایف کے 8 قوانین پرلا، فنانس منسٹری کے ساتھ مشاورت کی ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتےہوئےشاہ محمود قریشی نےکہاکہ اپوزیشن نے نیب کے قانون پر اپنے تحفظات کا ذکر کیا ، دس سال پیپلزپارٹی اور ن لیگ حکومت میں رہی،10 سال ان کے پاس موقع اور اختیار بھی تھا کہ وہ نیب قانون میں بہتری لاسکتے تھے لیکن نہ لاسکے،بھارت کی پوری کوشش ہے پاکستان کوبلیک لسٹ میں دھکیلے، گرے لسٹ ہمیں پچھلی حکومت سے ملی، وہاں سے نکلنے کے لیے قانون سازی درکار ہے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے8قوانین پرلا،فنانس منسٹری کے ساتھ مشاورت کی ہے،ہم نےمنی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو روکنے کے لیے 8 بل تیار کیے ہیں،ان میں سے ایک بل نیب قانون سے متعلق بھی ہے،تمام بل اپوزیشن کو بھیج دیے ہیں،پیر کو شام 5 بجے اس بل سے متعلق بیٹھ کر گفت و شنید کریں گے، کرپشن فری پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے، ہماری ایسی نیت نہیں کہ ہم اسے وچ ہنٹنگ کے لیے استعمال کریں، دیکھتے ہیں پیر کو نشست میں کیا پیش رفت ہوتی ہے؟۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن میں بتدریج کمی آرہی ہے،ماہرین کے تجزیے تھے کہ حکومت کی کووڈ 19 مینجمنٹ سے لوگ مطمئن نظر نہیں آ رہےتھے اور وہ سندھ  حکومت کی حکمت عملی اور ان کے سخت لاک ڈاؤن کی نشاندہی کرتے اور سوال کرتے تھے کہ پنجاب اور مرکزی حکومت ایسا کیوں نہیں کر رہی؟ماہرین کے تجزیے کے مطابق 30جولائی تک پاکستان میں 12لاکھ کورونا سے متاثرہ مریض اور 50ہزار کے قریب اموات ہونی تھیں، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ نے پاکستان کو محفوظ رکھا اور نہ 12لاکھ مریض ہیں، نہ 50ہزار اموات ہیں، جو ہوئی ہیں ان کا بھی ہمیں بہت دکھ ہے اور ہم متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کارآمد ثابت ہوئی ،آج دنیا نے اس کی تقلید کی ہے اور عمران خان صاحب نے جو وژن دیا تھا، آج دنیا کے بہت سے ممالک اس کی پیروی کر رہے ہیں،ہمارا انفیکشن ریٹ بتدریج کم ہو رہا ہے، اموات بتدریج کم ہو رہی ہیں، ہسپتالوں پر دباؤ اور وینٹی لیٹرز پر لوگ کم ہو رہے ہیں اور اللہ نے چاہا تو ہم اس بیماری کو ختم کرنے کے قریب ہیں تاہم  ابھی دو امتحان باقی ہیں، ہماری اپیل ہے کہ لوگ احتیاط جاری رکھیں، عید قرباں قریب ہے،ہماری گزارش ہے کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے احتیاط کیجیے کیونکہ ذرا سی غفلت ایک نئے عروج کا سبب بن سکتی ہے, ہمیں ماہ محرم میں اگلے چیلنج کا سامنا کرنا ہے،محرم میں عزاداری ہوتی ہے، ہمیں ا سکا پورا احترام اور اس کی اہمیت کا احساس ہے لیکن علما و مشائخ سمیت دینی اکابرین سے درخواست ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کروائیں اور اپنے طبقے کو محفوظ کرنے کے لیے تعاون فرمائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواہش ہے آنے والےسالانہ ترقیاتی پروگرام میں جنوبی پنجاب کا علیحدہ کتابچہ ہونا چاہیے،ساؤتھ پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،ہمارا مطالبہ ہے جنوبی پنجاب کے لیے ایک علیحدہ پبلک سروس کمیشن قائم کیا جائے، صوبہ بننے میں وقت لگے گا، ہمارے پاس ٹوتھرڈ میجورٹی نہیں،جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے،جنوبی پنجاب کا دارالخلافہ کا فیصلہ چند لوگ نہیں کریں گے، یہ فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا،میری رائے میں صوبائی دارالحکومت ملتان کو ہونا چاہیے،نئے صوبے کے قیام میں پیشرفت پروزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کے شکرگزارہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں،وہاں پر مساجد پر تالے لگائے گئے،حالات بتدریج بگڑ رہے ہیں جبکہ ایل او سی پر دشمن ملک کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

مزید :

قومی -