25جولائی دوبارہ پی ٹی آئی کیلئے "مبارک" دن؟

25جولائی دوبارہ پی ٹی آئی کیلئے "مبارک" دن؟
25جولائی دوبارہ پی ٹی آئی کیلئے

  

یہ 25 جولائی 2018 کی بات ہے جب پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تھے اور پی ٹی آئی سادہ اکثریت سے "جیت" گئی تھی .... 

آج 25جولائی 2021 ہے اور کیا نتیجہ آج بھی 2018 جیسا ہی "آئیگا" اس لئے ابھی مزید کچھ گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا .... 

کیا 25جولائی کی مخصوص تاریخ کو ہی پاکستان اور آزاد کشمیر میں الیکشن کرانے کے پیچھے کسی" پیر صاحب" کا استخارہ شامل ھے یا پھر "بڑے صاحب" کا اشارہ ؟ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت پہلے تھی نہ اب ہے کیونکہ قیام سے لیکر آج تک  پاکستان میں ویسے بھی ووٹ کی طاقت سے جمہوریت کی آبیاری نہیں ہوئی بلکہ "مخصوص نرسری " کے گملوں میں چھوٹے چھوٹے پودے لگائے جاتے رہے جو بڑے ہوتے رہے اور جمہوریت کے گُن گاتے رہے ، یہ الگ بات ھے کہ آمر ہمیشہ جمہوریت پسند بننے کی کوشش کرتے "مارے" گئے اور جمہوری حکمران آمر بننے کے چکر میں "شہید" ہوا یا جلاوطن یا پھر ننگ وطن .....

 اصل جمہوریت ہمارے بس کا روگ ہے اور نہ ہی شاید ابھی ہم اس قابل ہوئے ہیں ... 

پاکستانی قوم صرف ڈنڈے کے زور پر چلتی ھے کرونا میں دیکھ لیں کہ حکومت ترلے کرتی رہی لیکن عوام ماسک لگانے پر راضی نہ ہوئے جیسے ہی چار دن  فوجی جوان اور پولیس کانسٹیبل سڑکوں پر کھڑے ہوئے تو پھر پاس گزرتے ہوئے ہر کسی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے، پھر ماسک بھی لگ گئے اور سڑکوں پر مرغے بھی بنتے رہے ......

جس قوم کی تربیت ہی ڈنڈے کے زور سے ہوتی ہو وہاں جمہوریت کو کامیاب بنانے کیلئے بھی "ڈنڈا" چلانے میں کوئی اچنبھا نہیں ........ 

پاکستان نے جب 1992میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تو ماضی سے لیکر اس وقت تک ہمیشہ وہی ٹیم جیتتی رہی جس نے پہلے بیٹنگ کی یہی حال آزاد کشمیر کے انتخابات کا ھے کہ جو اسلام آباد میں حکمران ہوتے ہیں  مظفرآباد کی حکمرانی بھی انہیں ہی سونپ دی جاتی ھے ایسا ہی شاید آج بھی ہوگا؟ بس رات گئے تک ٹی وی چینلز پر رزلٹ کے اعلانات سننے کا تکلف برقرار رکھنا پڑے گا ورنہ پاکستان میں تو انتخابات کے فیصلے بھی تقدیر کے لکھے کی طرح مٹائے نہیں جاسکتے .....

آزاد کشمیر انتخابات پر سینئر صحافیوں کی طرف سے کافی کچھ لکھا جاچکا ھے اس ہم جیسے طالب علم کا کچھ کہنا نقارخانے میں طوطی کی آواز کے سوا کیا ھے؟ 

موضوع کو مختصر کرتے ہوئے ہم پاکستان کو ایک طرف رکھ کر نارووال کی بات کرتے ہیں 

حلقہ ایل اے 37 جموں 4 تحصیل نارووال، شکرگڑھ اور ظفروال پر مشتمل ھے اس حلقہ میں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی، ٹی ایل پی ،جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے مابین مقابلہ ھے ......

آج ہر پہلوان جیت کی امید کیساتھ اکھاڑے میں اترے گا لیکن جو تماشائی اکھاڑے کے باہر ہوتے ہیں پہلوانوں کی اصل طاقت کا اندازہ بھی وہی لگا سکتے ہیں.....

ضلع نارووال سے اس الیکشن میں بھی سبھی امیدواروں کو جیت کی امید ھے لیکن سب جیت نہیں سکتے اس لئے سیاسی پنڈتوں کے مطابق اصل مقابلہ پی ٹی آئی کے چودھری اکمل سرگالہ اور ن لیگ کے چودھری صدیق بھٹلی کے مابین ھے

 باقی امیدوار ایک دوسرے کی ہار جیت میں ضرور اہم کردار ادا کریں گے جس پر آج شام کو نتیجہ آنے کے بعد ہی بحث کی جاسکتی ھے کہ مسلم کانفرنس کے امیدوار محمد ربیعہ زیادہ تباہ کن "یارکر" مارتے رہے ہیں یا پھر علیم عثمان المعروف مسلم بھائی کے "باؤنسرز" اچھے تھے؟ ارسلان رشید کی "سپیڈ " پر بھی نظر رکھنا پڑے گی......

اس الیکشن میں ن لیگ میں وہ تال میل نہیں جو پاکستان کے جنرل انتخابات کے وقت تھا، مسلم لیگ ن کے ایم این اے پروفیسر احسن اقبال اور ایم پی اے بلال اکبر اور خواجہ وسیم بٹ اپنے اپنے انتخابی حلقوں کی حدود تک کارگر ثابت ہونگے اور قوی چانس ھے کہ وہ تحصیل نارووال سے صدیق بھٹلی کو "چونگا" دیکر ضرور رخصت کریں گے

 کیونکہ تحصیل نارووال میں دس سے بارہ ہزار ووٹ ہیں اصل مقابلہ تحصیل شکرگڑھ اور ظفروال کے علاقوں میں ھے جہاں سے جو میدان مارے گا وہی سکندر ٹھہرے گا....

شکرگڑھ میں کم و بیش40ہزار اور ظفروال میں 46 ہزار ریاستی ووٹوں کا پہاڑ ھے جسے عبور کرنے کیلئے شیر دھاڑے گا، بلا چلے گا، کرین بھی اسے چکنا چور کرے گی، گھوڑا بھی دوڑے گا، تیر بھی کمان سے نکلے گا، کرسی پر بیٹھنا کسے پسند نہیں ہوگا ؟

 لیکن اس سارے عمل کی پریکٹس کا وقت اب ختم ہوچکا ھے اب صرف دس بارہ گھنٹے کی گیم باقی رہ گئی ھے اب صرف نتیجے کا انتظار کرنا پڑے گا.....

نارووال میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز ابرارالحق ،کرنل جاوید کاہلوں، چودھری سجاد مہیس نے بھی اکمل سرگالہ کی جیت کیلئے کاوشیں کی ہیں

 لیکن اب آتے اصل مقابلے کی میدان کی طرف شکرگڑھ سے اکمل سرگالہ کیلئے سب سے پہلے حافظ رضوان مسعود چودھری سابق نائب ضلع ناظم میدان میں اترے، چودھری بوٹا جتوال بھی ہامی رہے جبکہ چودھری طارق انیس سب سے آخر میں پارٹی امیدوار کی حمایت کی ....

سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر طاہر بھی اس بار اکمل سرگالہ کے حمایتی ہیں جبکہ ق لیگ کے دور میں انہوں نے ن لیگ کے موجودہ امیدوار صدیق بھٹلی کو حکومتی مشینری کے بل بوتے پر جتوایا تھا

حالات کی ستم ظریفی کہیں یا پاکستان کا گندہ سیاسی نظام یا وفاداری بدلنے کو "فخریہ پیشکش" کہنا کہ ق لیگ کے دور میں سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز اس وقت بھی صدیق بھٹلی ہامی تھے اور آج بھی دونوں ن لیگ میں ایک ساتھ ہیں، دانیال عزیز نے صدیق بھٹلی کے الیکشن کی آڑ میں آئندہ عام انتخابات کیلئے اپنی راہ کے روڑے بھی ہٹانے کی بھرپور کوشش کی ھے .....

 ن لیگ کے ایم پی اے چودھری رانا منان خاں ضلع بھر سے اپنے امیدوار کی جیت کیلئے کوشاں ہیں اور چودھری لیاقت ترکھانہ بھی صدیق بھٹلی کے بڑے سپورٹر ہیں ......

شکرگڑھ سے اب ظفروال کا چلتے ہیں جہاں سب سے زیادہ ووٹ اور نوٹ ہیں اور خدا نخواستہ سب سے زیادہ لڑائی جھگڑے  کا خدشہ بھی تحصیل ظفروال میں ہی  ھے....

ظفروال میں پی ٹی آئی کے گذشتہ انتخابات میں ٹکٹ ہولڈر چودھری اویس قاسم ن لیگی امیدوار چودھری صدیق بھٹلی کے مین سپورٹر ہیں جبکہ چودھری سرور دنوال بھی سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں

 دوسری طرف سابق ایم این اے اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر میاں محمد رشید نے اپنے بیٹے میاں عثمان کو نہ صرف چودھری اکمل سرگالہ کے حق میں دستبردار کروایا بلکہ صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن کیساتھ ملکر پی ٹی آئی کے امیدوار چودھری اکمل سرگالہ کا الیکشن ذاتی الیکشن سمجھ کر لڑا ھے ...

ظفروال کے انتخابی جلسوں میں فریقین نے جس طرح کی بدزبانی کی ھے ایک دوسرے پر بازاری الزامات لگائے ہیں اور لاشوں پر سیاست کی ھے ایک دوسرے کو جوتے مارنے کے فخریہ اعلانات کئے گئے ہیں اس کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی، ان حالات میں حکومت نے یقیناً اچھے سکیورٹی انتظامات کئے ہونگے.... 

باخبر حلقوں کا کہنا ھے کہ پولنگ والی رات بھی جوڑ توڑ اور پیسے کی طاقت سے نتائج بدلنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ھے....

مسلم لیگ ن کو امید تھی کہ مریم نواز آئیں گی تو الیکشن کمپین میں رنگ بھر جائے گا لیکن وہ تو نہیں آسکیں اب انکی آخری امید ن لیگ کا وہ خاموش ووٹ بینک ھے جو کہ اس علاقے میں بہت زیادہ ہے اور روایتی سیاست سے تنگ بھی ھے اگر اسکو جگا لیا گیا تو پھر تو بازی پلٹی جاسکتی ھے  ورنہ پھر پانی پلوں سے  گزر جانے کا خدشہ ہے....

آج رات اس حلقہ کا نتیجہ چاہے جو بھی نکلے لیکن نتائج آنے کے بعد چودھری احسن اقبال اور چودھری اویس قاسم کے ایک دوسرے سے دور دور رہنے کا ذکر بھی سرعام ہوگا .......

 آج نتیجہ کیا نکلتا  ہے یہ تو خدا جانتا ہے لیکن لگتا ہے کہ 25جولائی پی ٹی آئی کیلئے مجموعی طور پر "مبارک" دن ثابت ہوگا ......

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -