واویلا بند کیجئے 

  واویلا بند کیجئے 
  واویلا بند کیجئے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ہمارے ہاں بہت بری روائیت ہے کہ کوئی حادثہ ہو جائے،  سانحہ ہو تو رج کے بین ڈالے جاتے ہیں پتہ نہیں یہ جہالت کب جائے گی، بین ڈالنے کا رواج کب ختم ہوگا، کیا غضب ہے کہ ہم حادثوں اور سانحوں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان پر بین کئے جا سکیں۔ 
کوئی سانحہ ہوجائے پہلے سے تیار لوگ میڈیا پہ آکے درد مندی دکھانا فرض سمجھتے ہیں۔ آئے روز رونما ہونے والے  کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات ہی کو لیجیئے۔ وجہ یہ نہیں کہ یہ واقعات بڑھتے جارہے ہیں وجہ یہ ہے کہ ایسے واقعات اب کبھی کبھی رپورٹ ہونے لگے ہیں۔  بڑے گھروں میں رہنے والوں کو کام کاج کے لئے کم عمر ملازمین چاہیے ہوتے ہیں  جو ان کے گھروں سے باہر نہ نکل سکیں، بڑے بڑے ٹائروں والی گاڑیاں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چمکا سکیں، گدھے کی طرح کام میں جتے رہیں۔ کھانا مانگنے کی جرات نہ کر سکیں، بھوک مٹانے کے لئے مالکوں کا جھوٹا خوشی خوشی کھاسکیں، سخت نظروں سے ہر وقت خائف رہیں ، مالکوں کے کسی ظلم پر ان کا ہاتھ  پکڑ سکیں نہ پلٹ کر جواب دے سکیں۔ یہ بچے آپ کسی بھی پسماندہ علاقے سے  لا سکتے ہیں کم عمر بچوں کے والدین انہیں انتہائی معمولی اجرت پہ آپ کو دینے پر تیار ہوجاتے ہیں، ایسے والدین جانوروں سے بھی بدتر ہیں کہ جانور بھی اپنا بچہ اس وقت تک اکیلا نہیں چھوڑتا جب تک وہ اپنا شکار کرنے کے قابل نہ ہوجائے۔ جانوروں سے بدتر والدین اپنے کم عمر بچے لوگوں کو دے جائیں تو پھر پلٹ کر ان کی خبر نہیں، ان کے  کام کی اجرت لینے آتے ہیں۔ اور خود واپس جا کر ایسے بڑے گھروں کا نظام سنبھالنے کے لئے مزید بچے پیدا کرنے کے مشن میں مصروف ہوجاتے ہیں،  غربت کی چھتری تلے بچوں میں اضافہ کر کے  دوسروں کے رحم و کرم پہ چھوڑنے سے بہتر ہے  کم بچے پیدا کر لیں  لیکن نہیں  غریبوں کی بیماری یہ ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے کو ہی غربت کا خاتمہ سمجھتے ہیں۔ 


کم عمر بچے جب گھروں میں ملازمین کے طور پہ آتے ہیں تو سر جھکائے کام کرتے گھر میں آنے والوں کو اس قدر پسند آتے ہیں کہ ان کی سپلائی کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہیں، اس وقت سب چائلڈ لیبر کی ممانعت  کے سچ کو فراموش کیئے کم عمر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ رکھنے کو ترجیح دیتے  ہیں۔ ان سے بڑے بڑے بنگلوں کی صفائیاں کرواتے ہیں، ان کم عمروں سے اپنے بچوں کے پیمپرز تبدیل کرواتے ہیں۔ برتن دھونے سے لیکر  کتوں کو نہلانے تک کی ذمہ داری ان پہ ڈال کر خود بڑے بڑے سیمینارز میں جا کر بچوں کے حقوق پر دھواں دھار  تقریریں کرتے ہیں۔ ایسے میں ان بچوں سے اگر ذرا سی بے احتیاطی سے کوئی پلیٹ ٹوٹ جائے تو اس وقت تک مالکوں کو چین نہیں آتا جب تک سزا کے طور پہ ان کے ہاتھ نہ توڑ دیں،  ہاتھ توڑنا، گرم توے پہ انگلیاں رکھ کے جلانا، تھپڑ اور لاتوں سے مارنا، ذرا سی غلطی پر پہروں بھوکے رکھنا کچھ گھروں میں یہ سب معمول کی کاروائی ہوتی ہے۔ کہ اگر مالک ایسا نہ کریں تو یہ کم عمر کمزور بچے منہ کو آنے لگتے ہیں۔ مالک وحشی یا ظالم نہیں ہوتے  بس ملازموں کو اوقات میں رکھنے کے لئے  یہ سب کرنا ضروری ہوتا ہے، ایسے  بچے خبروں میں نہیں آتے۔ یہ خبر میں تب ہی آتے ہیں جب ان بچوں کے مالکان کا اپنے پڑوسیوں سے کسی بات پر پنگا ہو جائے تو پھر وہ بدلہ لینے کے لئے ان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پہ ڈال دیں۔ یا پھر  ایسا تب ہوتا ہے جب   کوئی بچہ زیادہ تشدد سے مرنے والا ہو یا مر جائے اور بدقسمتی سے کسی پڑوسی کا ضمیر جاگ جائے،  ویسے ایسا ہوتا تو کم ہے لیکن اگر   ایسا ہو جائے تو بس پھر میڈیا کی ہوگئی چاندی، نامور لوگوں اور این جی اوز کے ہاتھ لگ جاتا سونا۔ اب ہر کوئی مائیک پکڑ کر پرزور مذمت کرنے کو تیار۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے درد دل رکھنے والوں کا ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے۔ بچے کی تشویشناک حالت پر تقریریں کرنے بیان دینے کے لئے سب مرے جاتے ہیں۔ 


یار خدا کے لئے، بچے پر تشدد ہی تو ہوا ہے کیا ہوگیا، واویلا بند کریں، کچھ نہیں ہوا چائلڈ لیبر پر  تشدد کوئی نئی بات  نہیں ہے۔ یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور انشاء اللہ ہوتا رہے گا۔ تو پھر کس واسطے خوامخواہ شور ڈال کر کافروں کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب پلیٹ ٹوٹے یا کوئی ملازم فریج سے چیزیں نکال کر کھا جائے تو کیا خیال ہے محض مسلمان ہونے کی بنا پر  اس کو معاف کر دیا جائے۔  یہ کمبخت  بچے کام ہی ایسے غلط کرتے ہیں کہ  ان کو چھوڑ کر دوسرے ملازمین کو شہہ نہیں دی جا سکتی۔   لیکن یہ کیا  خبر سامنے آتے ہی ہلا ہلا مچ جاتی ہے…… کوئی بات ہے  بھلا…… اگر کوئی تشدد سے مرگیا تو مٹی ڈالئے لیکن نہیں اب ہی تو سب کو بولنا ہے۔ بتانا ہے کہ اسے چھوڑ کر باقی سب کتنے سفاک ہیں یہاں، اب سب کو بچوں کے حقوق بھی یاد آئیں گے اور چائلڈ لیبر پر بنے قوانین بھی۔  ایسے  سانحہ کے بعد اگر لوگ بیان بازی نہ کریں تو ان کو چین نہیں آتا  انہیں لگتا ہے کہ ان کے کردار پر بے حسی کا ٹھپہ لگ جائے گا۔


سوال یہ ہے کہ اگر سب اتنے ہی حساس تھے تو بچے کے حق کے لئے اس کی زندگی میں کیوں نہ بولے۔ جب اس کو فائدہ ہو سکتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ٹی وی سکرینوں پہ آکر اشک شوئی کرنے کا فائدہ  اس سانحے کے بعد  ہی کیوں؟ اس وقت کیوں نہ جاگے جب کسی کم عمر بچے کو  کام کرتے دیکھا۔  ان بچوں کے حقوق کے نام پر فنڈ لینے والے دکانداروں نے ان بچوں کو خبر بننے سے پہلے کبھی عملی قدم کیوں نہ اٹھایا، اگر انہوں نے کسی گھر میں کبھی کم عمر ملازم نہیں دیکھے، تو کیا  کسی ورکشاپ، کسی دوکان پہ بھی کوئی چھوٹا کام کرتا کبھی نظر نہیں آیا  انہیں؟ میڈیا پر آکر شور ڈالنے والوں کی نظر چاہے  ان بچوں کو دیکھنے سے قاصر رہی ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ مجھ سمیت بہت سارے لوگ  ایسے کم عمر بچوں کو ہر صورت جانتے ہی ہوتے ہیں۔ 


سچ  یہ ہے کہ ایسے بچوں کو حق دلوانے کے لئے کوئی سامنے نہیں آتا۔  لوگ بس ٹی وی  پر بیان دینے آتے ہیں تاکہ واہ واہ سمیٹ سکیں۔ دکانداری چمکا سکیں۔ اور ان کے نام پر فنڈ اکھٹا کر سکیں۔ 
اگر واقعی آپ درد دل رکھتے ہیں اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ تو اس جرم کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے عملی اور سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ سخت سزائیں متعین کرنا ہوں گی۔ اور ان کم عمر ملازم بچوں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو بھی پانچ دس ہزار جرمانے کی نہیں، بلکہ سخت سزائیں دینا ہوں گی۔ تاکہ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا ظلم کرنے سے پہلے یہ دس ہزار بار سوچیں۔کہ اصل مجرم تو ان کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ جنھوں نے ان کا بچپن چھین کر کسی بھی وجہ سے  ان کو کام کرنے کے لئے چھوڑا ۔  

مزید :

رائے -کالم -