منشیات کا پھیلاو¿ اور اس کی تباہ کاریاں:ایک عالمگیر مسئلہ

منشیات کا پھیلاو¿ اور اس کی تباہ کاریاں:ایک عالمگیر مسئلہ
منشیات کا پھیلاو¿ اور اس کی تباہ کاریاں:ایک عالمگیر مسئلہ

  

ارشاد ربانی ہے: ”اے ایمان والو! بے شک منشیات ، جوا، بُت اور فال نکالنے والے تیر۔ یہ سب گندی باتیں اور شیطانی کام ہیں ۔اِن سے بچو، تاکہ تم فلاح پاو¿۔ شیطان تو چاہتا ہے کہ منشیات اور جوئے کے ذریعے تم میں عداوت اور بغض پیدا کردے اور اﷲتعالیٰ کی یاد سے تم کو باز رکھے۔ سو ان چیزوں سے باز رہو“....(سورئہ المائدہ) اور نبی اکرم ﷺکا ارشاد ہے: ”جب تک بندہ نشہ نہیںکرتا ،وہ دین و دنیا کی برکتوں سے مستفید ہو تا رہتا ہے، لیکن جب وہ نشہ کر لیتا ہے تو اﷲتعالیٰ اُس کا سترعریاں کر دیتا ہے اور شیطان اُس کا ساتھی، اس کی سماعت،اس کی بصارت اور اس کے پاو¿ں بن جاتا ہے اور ہر برائی کی طرف اُس کی رہنمائی کرتا ہے اور ہر خیرسے اُسے روکتا ہے “....(کنزالعمال)....دنیا کے دیگر تمام الہامی او ر غیر الہامی مذاہب میں بھی اسی شدت سے نشے کی ممانعت کی گئی ہے ۔

 آج دنیابھر میں پینتیس کروڑ افراد نشے کے عادی ہو کر شیطان کے مکروہ پنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔شیطان ان کا ساتھی ،ان کی سماعت، ان کی بصارت، اور ان کے پاو¿ں بن چکا ہے۔ہر برائی کی طرف ان کی رہنمائی کر رہا ہے ، ہر خیر سے اُنہیں روک رہا ہے اور انسانیت سسکیاں لے رہی ہے ۔اس نشے میں انسان کہیں کسی کو قتل کر رہا ہے ، کہیں خودکشی کر رہا ہے ، کہیں آگ لگا رہا ہے ، کہیں ٹریفک کا حادثہ کر رہا ہے ، کہیں کسی کی آبروریزی کر رہا ہے، کہیں چوری چکاری کر رہا ہے،کہیں رشتوں کا تقدس پامال کر رہا ہے ،کہیں مذہبی اور اخلاقی ہدایات وروایات کوپاو¿ں تلے روند رہا ہے اور کہیں دنیا و مافیہا سے کٹ کر ذلت ، رسوائی اور بربادی کی تصویر بنا گندگی کے ڈھیرپر بے سد وہ پڑا ہے،لیکن دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ افغانستان ہر سال سات ہزار ٹن سے زائد افیون (دنیا کی کل پیداوار کا نوے فیصد) اُگاکر اور اُس سے مارفین بیس اور ہیروئن بنا کر دنیابھر میں تسلسل سے بھیجے جا رہا ہے ۔ یہی افغانستان ، مراکش اورکچھ وسط ایشائی ریا ستیںسالانہ دس ہزار ٹن چرس، گانجا، گرد ا وغیرہ بنا بنا کر دنیا بھر میں بھجوا رہی ہیں۔

کولمبیا، پیرو اور بولیویا ہر سال دنیابھر میں تیار کی جانے والی کل کوکین تقریباً بارہ سوٹن کامنبع ہیں اور یہیں سے یہ زہر ساری دنیا میں پھیلایا جاتا ہے ۔ لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی تجار ت کے ساتھ وابستہ ہیں اور سالانہ تین سو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ اس ناجائزکاروبار کے ذریعے کمائے جاتے ہیں۔اس زہر کو بارضاورغبت اپنے جسم میں اُتارنے والے پینتیس کروڑ عوام میں سے ساڑھے پانچ کروڑ افرادایمفیٹمین طرز کی محرک ادویات استعمال کرتے ہیں ۔ چار کروڑ سے زائد ہیروئن یا افیون یا افیون سے بنے ہوئے مرکبات اور دو کروڑ سے زائد کوکین استعمال کرتے ہیں ۔ان میں سے پانچ لاکھ ہر سال اس زہر کے ہاتھوں اپنی جان دے دیتے ہیں ۔انہی پینتیس کروڑ میں اڑھائی کروڑ سے زائدوہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ زہر سرنجوں کے ذریعے اپنی رگوں میں اُتارتے ہیں ،جس کے نتیجے میں ان میں سے ایک کروڑ تیس لاکھ ہیپاٹائٹس سی، ساٹھ لاکھ ہیپاٹائٹس بی اور پچاس لاکھ ایڈز کا شکار ہو کر تیز ی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔

 ان سب معاملات کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر کی تمام حکومتیں ، قانون نافذ کرنے والی تمام ایجنسیاں اور علاج معالجہ کرنے والے تمام ہسپتال ، کلینک اور دیگر ادارے ،تمام متعلقہ بین الاقوامی تنظیمیں اپنے تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود نہ تومنشیات کی پیداوار میں کوئی کمی لاسکیں ، نہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچنے سے روک سکیں اور نہ ہی نشیﺅں کا علاج معالجہ کرسکیں ۔ اب صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اقوام عالم نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے منشیات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے (Harm Reduction)کی طرف توجہ مرتکز کرنا شروع کردی ہے ۔ اس ضمن میں پہلے نمبر پر چرس ، گانجا، گردا وغیرہ، جوتمام منشیات میں سے قدرے کم نقصان دہ ہے، ان کی باقاعدہ محدود طور پراور مخصوص جگہوں پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اس مقصد کے لئے یورپ اور امریکہ میں ہوٹلوں اور ریستورانوں میں مخصوص گوشے بنادیئے گئے ہیں، جہاں اس نشے کے مارے ہوئے اپنا شوق یا ضرورت پوری کرلیتے ہیں ۔

یہ منشیات کے خلاف جہاد میں پسپائی کی طرف پہلا قدم ہے ۔دوسرے نمبر پر ایک دوسرے کی استعمال شدہ سرنجوںسے نشے کے انجکشن لگانے سے پھیلنے والی جان لیوا بیماریوں ہیپاٹائٹس اور ایڈز سے بچاو¿ کے لئے سرکاری طور پر مفت سرنجیں فراہم کی جاتی ہیں ۔اس شرط پر کہ استعمال کرنے والا اسے صرف خود استعمال کرے ، کسی اور کو نہ دے اور استعمال شدہ سرنج واپس لا کر دوسری لے جائے۔اس مقصد کے لئے پاکستان سمیت دنیابھر میں بے شمار سینٹر قائم ہیں۔ اس پروگرام کا نام Needles Syringes Exchange Programm(NSEP)رکھا گیا ہے ۔ تیسرے نمبر پر سرنجوں کا استعمال کرنے والے نشئیوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ سرنج کی بجائے وہی نشہ کیپسول، پاو¿ڈریا شربت کی صورت میں منہ کے راستے لے لیں ۔ اس پروگرام کا نامOral Drug Substitution(ODS)ہے۔

 چوتھے نمبر پر نشے کے عادیوں کو زیادہ نقصان دہ منشیات سے کم نقصان دہ منشیا ت کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کا نامDrug Substitution Treatment(DST) ہے ۔بے شمار ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سرکاری اور غیر سرکاری اہتمام میں ایسے بے شمار سینٹر کام کررہے ہیں ،جہاں نشیﺅں کو ہیروئن کے بجائے میتھاڈان مفت پلائی جاتی ہے، تاکہ ان کی نشے کی طلب کی بھی تسکین ہوجائے اوروہ ہیروئن کی تباہ کاریوں سے بھی بچے رہیں۔ گو میتھاڈان کے اپنے بھی نقصانات ہیں ۔اسی طرح UNODCاورWHOاور USAID کے زیر ِ اہتمام لوگوں کی آگاہی کے لئے Information, Education and Communication(IEC)اورVoluntary Counselling and Testing(VCT) پروگرام شروع کئے گئے ہیں، جن کے تحت متاثرہ لوگوں کو منشیات اور اُس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلومات اور آگاہی دی جاتی ہے اور ان بیماریوں سے بچنے کے لئے ماہرانہ مشورے اور ٹیسٹ کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

منشیات کے استعمال اور اس کی تباہ کاریوں کے ضمن میں پاکستان کی صورتِ حال بھی اقوام عالم سے کچھ مختلف نہیں ہے، اگر دنیا بھر میں پندرہ سال سے چونسٹھ سال کی عمر کے سات فیصد افراد نشے کی علت کا شکار ہوچکے ہیں تو پاکستان میںبھی UNODCاورحکومت پاکستان کی وزارتِ انسداد منشیات اور شماریات ڈویژن کے تعاون سے2012ءمیں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق ایسے افراد کی تعداد پانچ فیصد ،یعنی اسی لاکھ ہے ، جبکہ کل نشیﺅں کی تعداد نوے لاکھ سے کچھ زائد ہے جو پاکستان کی کل آبادی کا پانچ فیصد بنتے ہیں۔ان نوے لاکھ میں بیس لاکھ افراد پندرہ سے پچیس سا ل کی عمر کے نوجوان اور تیس لاکھ عورتیں بھی شامل ہیں ۔ ان میں چالیس فیصد ان پڑھ، جبکہ ساٹھ فیصد پڑھے لکھے ہیں۔ بتیس فیصد بے روزگار،جبکہ اڑسٹھ فیصد برسرِ روزگار ہیں ۔ان تمام نوے لاکھ میں سے ساٹھ لاکھ بھنگ اور چرس ،ستائیس لاکھ افیون اور ہیروئن، جبکہ تقریباًتین لاکھ محرک ادویات استعمال کرتے ہیں ۔

سات لاکھ افراد منشیات کوبذریعہ انجکشن لیتے ہیں، جن میںسے تین لاکھ ہیپاٹائٹس یا ایڈز کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس سارے المیہ کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان نوے لاکھ نشیﺅں کے علاج معالجے کے لئے پاکستان بھرکے تمام سرکاری ، نیم سرکاری ، پرائیویٹ، رجسٹرڈ یا غیررجسٹر ڈ ہسپتالوں اور سینٹروں میں زیادہ سے زیادہ سال بھر میں تیس ہزار افراد کا اچھا یا برا علاج معالجہ کرنے کی گنجائش ہے ۔ گویا باقی تمام کو سسک سسک کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

انسانی زندگی کو صرف منشیات سے ہی خطرہ نہیں ، شراب ، سگریٹ اور شیشہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ دنیابھر میں ہر سال اگر منشیات کے ہاتھوں پانچ لاکھ افراد موت کے منہ میں جاتے ہیں تو شراب کے ہاتھوں تیس لاکھ اور تمباکو نوشی کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ افرادلقمہ ءاجل بنتے ہیں ۔پاکستان میں کل آبادی کا پچیس فیصد سگریٹ نوشی کی علت کا شکار ہے جو سالانہ چارسو پچاس ار ب روپے کے سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔گلے، پھیپھڑے اور سانس کے کل مریضوں میں سے اسی فیصد سگریٹ نوشی کے عادی پائے گئے ہیں ،جبکہ پاکستان میں ہرسال ایک لاکھ سے زائد اشخاص تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کا شکا رہوجاتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کو منشیات سے بچانے کے لئے منشیات کی پکڑ دھکڑ، منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہی اور منشیات کے عادی افراد کے علاج معالجے کے لئے بے شمار اقدامات کئے ہیں،جس کے نتیجے میں پچھلے کئی سال سے پاکستانی ادارے ہر سال پہلے سے کہیں زیادہ منشیات پکڑ کر تلف کررہے ہیں۔وزارتِ انسداد منشیات اور اینٹی نارکوٹکس فورس نے عوام کو منشیات کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہی دینے کے لئے پچھلے تین سال میں چارہزار سے زیادہ پروگرام ترتیب دیئے ۔اس ضمن میں وزارتِ انسداد منشیات اور اینٹی نارکوٹکس فورس کا سب سے بڑا کارنامہ "منشیات سے پاک شہر: لاہور" کا منصوبہ ہے۔ جس کے تحت لاہور کو منشیا ت سے پاک کرنے کا عزم کیا گیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت پچھلے اڑھائی سال میں صرف لاہور شہر میں بیس ہزار سے زائد افراد کو منشیات رکھنے یا منشیات کا کاروبار کرنے کے جرم گرفتار کیا گیا اور اُن سے دو سو کلوگرام سے زائدافیون ، ایک ہزار کلوگرام سے زائد ہیروئن ، چار ہزارچار سو کلوگرام سے زائدچرس اور ایک لاکھ پچھتر ہزار سے زائد شراب کی بوتلیں برآمد کی گئیں،جبکہ دوسو پچاس سے زائد شیشہ کیفیوں کو بندکیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران چالیس لاکھ سے زائد افراد کو تقریباًدو ہزار پروگراموں کے ذریعے منشیات کی تباہ کاریوں کے بارے میںآگاہی دی گئی۔پانچ ہزار سے زائد نشیﺅں کا علاج معالجہ کیاگیا اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ڈیڑھ سو سے زائدکھیلوں کے نئے میدان بنائے گئے۔ اس پراجیکٹ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے نشے کے مریضوں کے علاج معالجے کے لئے لاہورمیں سو بستروں پر مشتمل ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتا ل بنانے کاحکم دیا۔اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو لاہور کو منشیات سے پاک کرنے کی راہ کا اہم سنگ میل ہو گا ....

لیکن یہ سب کچھ کافی نہیں ۔یہ صرف حکومتی سطح پر ہونے والے کاموں کا ذکر ہے۔ پاکستان کو ، پنجاب کو ، خصوصاًلاہور کونشے سے پاک کرنے کے لئے ہر شخص کو، خواہ وہ حاکم ہے یا محکوم ، افسر ہے یا ماتحت ، آجر ہے یا آجیر، استاد ہے یا شاگرد،واعظ ہے یا سامع،خاص ہے یا عام،عورت ہے یا مرد، بوڑھا ہے یا بچہ ، اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنے آپ کو بھی منشیات سے بچانا ہوگا اور اپنے آس پاس والوں کو بھی ....”جب تک سب محفوظ نہیں ،کوئی بھی محفوظ نہیں“....اور سب سے اہم یہ کہ ہمیں اُن بدنصیبوں کو اس جیتی جاگتی ، روشن اور رواں دواں زندگی میں واپس لانا ہوگا ،جہاں سے وہ ہم صحت مندوں کی مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث نشے کی دلد ل میں گر گئے ۔ یہ ہمار ا فرض بھی ہے اورہماری کوتاہیوں کا کفارہ بھی۔  ٭

مزید :

کالم -